Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1372
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.4K Views
نام لکھنے میں غلطی کر دے تو طلاق ہوگی یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
نام لکھنے میں غلطی کر دے تو طلاق ہوگی یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نام لکھنے میں غلطی کر دے تو طلاق ہوگی یا نہیں؟
مسئلہ:- از : اکرام الدین قادری ، اندولی ، انصاری بازار، بستی کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ عبد الصمد کی شادی اس کے ماموں کی لڑکی مہرالنساء سے ہوئی ۔ کچھ دنوں بعد وہ باہر چلا گیا اور وہاں سے اس نے اپنی مدخولہ بیوی کے بارے میں اپنے خسر اور ساس کو ہندی میں خط لکھا جس کی اردو درج ذیل ہے۔ جناب ماموں صاحب وممانی صاحبہ! السلام علیکم ورحمة الله وبركاته دیگر احوال یہ ہے کہ ماموں صاحب، و ممانی صاحبہ اور مہر النساء میں آپ لوگوں سے بہت شرمندہ ہوں ہو کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ مجھے معاف کرنا کیونکہ اس کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے اپنے ہوش و حواس میں عبدالحکیم ولد عبد الصمد بنت مہر النساء کو تین طلاق دے دیتا ہوں ۔ طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں مجھے معاف کرنا مہر النساء کیوں کہ اس کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا ۔ تم اپنی شادی ضرور کر لینا ۔ ابھی میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ ان شاء اللہ دو چار مہینے میں جتنا مجھ سے ہو سکے گا اور ساتھ میں مہر کا پیسہ بھی بھیج دوں گا۔ سوال یہ ہے کہ اس تحریر کی روشنی میں مہر النساء پر طلاق پڑی یا نہیں ؟ اگر پڑی تو کون سی طلاق ؟ اگر عبدالصمد پھر اپنی اسی بیوی مہر النساء کو رکھنا چاہیے تو اس کی کیا صورت ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ عبدالصمد نے اپنے خسر کو جو خط لکھا ہے اس سے ظاہر ہے کہ عبد الصمد نے اپنی زوجہ مہرالنساء ہی کو طلاق دی ہے ۔ البتہ نام لکھنے میں اس سے غلطی ہوگئی لکھنا چاہیے تھا مہرالنساء بنت حقیق اللہ مگر لکھ دیا بنت مہرالنساء اس جملے کے بعد لکھا ہے۔ ” مجھے معاف کرنا مہر النساء الخط” مہر النساء سے خطاب کرنا بتا رہا ہے مہر النساء ہی کو طلاق دینے کے لئے یہ جملہ لکھا ہے اس لیے زید نے جس وقت یہ خط لکھا اسی وقت اس پر تین طلاق مغلظہ واقع ہو گئی اور وہ اس کی نکاح سے ایسی نکل گئی کہ بغیر حلالہ ان دونوں کا آپس میں نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے ” فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” (پ ۲ ع١٣) عالمگیری جلد اول ص ٣٥٨ میں ہے : قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته عمرة بنت حفص ولا نية له لا تطلق . وان نوي امراته في هذه الوجود ة طلقت امراته في القضاء وففيها بينه وبين الله تعالى. كذا في خزانة المفتيين. وعلى هذا اذا سمي بغير اسمها ولا نيه له في طلاق امراته فان النظام تلاقي امراته في هذه الوجود طلقه امراته كذا في الذخيره. اھ ملخصا “ اس صورت میں اگر عبد الصمد مہر النساء کو رکھنا چاہتا ہےتو بطریق شرع بعد حلالہ مہر النساء سے نکاح کر سکتا ہے بغیر حلالہ نکاح ہرگز جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>نام لکھنے میں غلطی کر دے تو طلاق ہوگی یا نہیں؟</h2> مسئلہ:- از : اکرام الدین قادری ، اندولی ، انصاری بازار، بستی کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ عبد الصمد کی شادی اس کے ماموں کی لڑکی مہرالنساء سے ہوئی ۔ کچھ دنوں بعد وہ باہر چلا گیا اور وہاں سے اس نے اپنی مدخولہ بیوی کے بارے میں اپنے خسر اور ساس کو ہندی میں خط لکھا جس کی اردو درج ذیل ہے۔ جناب ماموں صاحب وممانی صاحبہ! السلام علیکم ورحمة الله وبركاته دیگر احوال یہ ہے کہ ماموں صاحب، و ممانی صاحبہ اور مہر النساء میں آپ لوگوں سے بہت شرمندہ ہوں ہو کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ مجھے معاف کرنا کیونکہ اس کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے اپنے ہوش و حواس میں عبدالحکیم ولد عبد الصمد بنت مہر النساء کو تین طلاق دے دیتا ہوں ۔ طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں مجھے معاف کرنا مہر النساء کیوں کہ اس کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا ۔ تم اپنی شادی ضرور کر لینا ۔ ابھی میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ ان شاء اللہ دو چار مہینے میں جتنا مجھ سے ہو سکے گا اور ساتھ میں مہر کا پیسہ بھی بھیج دوں گا۔ سوال یہ ہے کہ اس تحریر کی روشنی میں مہر النساء پر طلاق پڑی یا نہیں ؟ اگر پڑی تو کون سی طلاق ؟ اگر عبدالصمد پھر اپنی اسی بیوی مہر النساء کو رکھنا چاہیے تو اس کی کیا صورت ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــ</strong></span> عبدالصمد نے اپنے خسر کو جو خط لکھا ہے اس سے ظاہر ہے کہ عبد الصمد نے اپنی زوجہ مہرالنساء ہی کو طلاق دی ہے ۔ البتہ نام لکھنے میں اس سے غلطی ہوگئی لکھنا چاہیے تھا مہرالنساء بنت حقیق اللہ مگر لکھ دیا بنت مہرالنساء اس جملے کے بعد لکھا ہے۔ " مجھے معاف کرنا مہر النساء الخط" مہر النساء سے خطاب کرنا بتا رہا ہے مہر النساء ہی کو طلاق دینے کے لئے یہ جملہ لکھا ہے اس لیے زید نے جس وقت یہ خط لکھا اسی وقت اس پر تین طلاق مغلظہ واقع ہو گئی اور وہ اس کی نکاح سے ایسی نکل گئی کہ بغیر حلالہ ان دونوں کا آپس میں نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>" فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره."</strong></span> (پ ۲ ع١٣) <span style="color: #ff0000;"><strong>عالمگیری جلد اول ص ٣٥٨ میں ہے : قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته عمرة بنت حفص ولا نية له لا تطلق . وان نوي امراته في هذه الوجود ة طلقت امراته في القضاء وففيها بينه وبين الله تعالى. كذا في خزانة المفتيين. وعلى هذا اذا سمي بغير اسمها ولا نيه له في طلاق امراته فان النظام تلاقي امراته في هذه الوجود طلقه امراته كذا في الذخيره. اھ ملخصا "</strong> </span> اس صورت میں اگر عبد الصمد مہر النساء کو رکھنا چاہتا ہےتو بطریق شرع بعد حلالہ مہر النساء سے نکاح کر سکتا ہے بغیر حلالہ نکاح ہرگز جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...