Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1373 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.5K Views

طلاق نامہ پر تین طلاق درج ہوا اور شوہر کہے میں نے ایک ہی دیا ہے تو؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

طلاق نامہ پر تین طلاق درج ہوا اور شوہر کہے میں نے ایک ہی دیا ہے تو؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

طلاق نامہ پر تین طلاق درج ہوا اور شوہر کہے میں نے ایک ہی دیا ہے تو؟

مسئولہ :- از عبد الشکور، گلاس کو ، برطانیہ۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک ایسے طلاق نامہ پر دستخط کیا جس میں صریح لفظوں میں تین طلاق اپنی بیوی کو دینے کا اقرار موجود ہے۔ مگر زید کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو صرف ایک طلاق دئیے ہیں اگرچہ طلاق نامہ پر تین طلاق درج ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دستخط کرتے وقت طلاق نامہ کے مضمون کو قطعاً پڑھا نہیں تھا ۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مجھ سے کسی خارجی انتقام کی بنیاد پر تین طلاق لیے جا رہے ہیں تو میں ہرگز طلاق نامہ پر دستخط نہ کرتا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کی بیوی پر تین طلاق پڑیں یا ایک طلاق واقع ہوئی۔ بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں :” بلاشبہ قاعدہ عامہ یہی ہے کہ جو شخص کوئی کاغذ لائے اور دوسرے سے اس پر دستخط یا مہر کرائے تو اگر وہ حرف بہ حرف پڑھ کر نہ سنائے گا تو حاصل مضمون ضرور بتائے گا یا وہ نہ بتائے تو یہ دستخط یا مہر کرنے والا پوچھ لے گا کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔” (فتاویٰ رضویہ ج ۵ ص۷۲۱) حضرت نے اس قاعدہ کا عام ہونا ایک سو دس سال قبل تحریر فرمایا ہے اور اس تعلیمی ترقی کے زمانے میں تو اس قاعدہ پرسختی کے ساتھ عمل ہے۔ لہذا ظاہر یہی ہے کہ زید نے طلاق نامہ پڑھ کر یا اس کے مضمون سے آگاہ ہوکر اس پر دستخط کیا ہے اور اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں کہ اب بغیر صحیح حلالہ وہ عورت زید کے لیے حلال نہیں ۔خدائے تعالی کا ارشاد ہے: فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره. ( پ۲ آیت ۲۳۰) لیکن اگر زید اس بات سے انکار کرتا ہے تو وہ مسجد کے ممبر پر دونوں ہاتھ رکھے اور اسی حال میں اس سے قسم اس طرح کھلائی جائے کہ میں اللہ تعالی کو سمیع و بصیر اور اس کے رسول سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے طلاق نامہ کو نہیں پڑھا اور نہ میں اس کے مضمون سے واقف تھا کہ اس میں تین طلاق لکھی ہیں میں نے صرف ایک طلاق کی تحریر سمجھ کر اس پر دستخط کیا ہے ۔ اگر میرا یہ بیان غلط ہو تو مجھ پر اللہ تعالی کا قہر و غضب ہوں اور مجھے کھوڑی و اندھا کر دے اگر وہ اس طرح کی قسم نہ کھائے تو اس سے تین طلاق کی تحریر جان کر اس پر دستخط کرنے کا اقرار کرا لیا جائے۔ اور اگر قسم کھالے تو اس کی بیوی پر صرف ایک طلاق کا حکم کیا جائے۔ اگر وہ جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ اور اگر وہ مذکورہ طریقہ پر قسم نہ کھائے اور طلاق کے مضمون پر مطلع ہونے کا اقرار بھی نہ کرے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے :” وإما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين.” (پ ۷ ع۱٤) واللہ تعالیٰ اعلم۔ ماخوز : از فتاوی فقیہ ملت 

Kutubahu & Verified by:

<h3>طلاق نامہ پر تین طلاق درج ہوا اور شوہر کہے میں نے ایک ہی دیا ہے تو؟</h3> مسئولہ :- از عبد الشکور، گلاس کو ، برطانیہ۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک ایسے طلاق نامہ پر دستخط کیا جس میں صریح لفظوں میں تین طلاق اپنی بیوی کو دینے کا اقرار موجود ہے۔ مگر زید کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو صرف ایک طلاق دئیے ہیں اگرچہ طلاق نامہ پر تین طلاق درج ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دستخط کرتے وقت طلاق نامہ کے مضمون کو قطعاً پڑھا نہیں تھا ۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مجھ سے کسی خارجی انتقام کی بنیاد پر تین طلاق لیے جا رہے ہیں تو میں ہرگز طلاق نامہ پر دستخط نہ کرتا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کی بیوی پر تین طلاق پڑیں یا ایک طلاق واقع ہوئی۔ بینوا توجروا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں :" بلاشبہ قاعدہ عامہ یہی ہے کہ جو شخص کوئی کاغذ لائے اور دوسرے سے اس پر دستخط یا مہر کرائے تو اگر وہ حرف بہ حرف پڑھ کر نہ سنائے گا تو حاصل مضمون ضرور بتائے گا یا وہ نہ بتائے تو یہ دستخط یا مہر کرنے والا پوچھ لے گا کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔" (فتاویٰ رضویہ ج ۵ ص۷۲۱) حضرت نے اس قاعدہ کا عام ہونا ایک سو دس سال قبل تحریر فرمایا ہے اور اس تعلیمی ترقی کے زمانے میں تو اس قاعدہ پرسختی کے ساتھ عمل ہے۔ لہذا ظاہر یہی ہے کہ زید نے طلاق نامہ پڑھ کر یا اس کے مضمون سے آگاہ ہوکر اس پر دستخط کیا ہے اور اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں کہ اب بغیر صحیح حلالہ وہ عورت زید کے لیے حلال نہیں ۔خدائے تعالی کا ارشاد ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.</strong></span> ( پ۲ آیت ۲۳۰) لیکن اگر زید اس بات سے انکار کرتا ہے تو وہ مسجد کے ممبر پر دونوں ہاتھ رکھے اور اسی حال میں اس سے قسم اس طرح کھلائی جائے کہ میں اللہ تعالی کو سمیع و بصیر اور اس کے رسول سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے طلاق نامہ کو نہیں پڑھا اور نہ میں اس کے مضمون سے واقف تھا کہ اس میں تین طلاق لکھی ہیں میں نے صرف ایک طلاق کی تحریر سمجھ کر اس پر دستخط کیا ہے ۔ اگر میرا یہ بیان غلط ہو تو مجھ پر اللہ تعالی کا قہر و غضب ہوں اور مجھے کھوڑی و اندھا کر دے اگر وہ اس طرح کی قسم نہ کھائے تو اس سے تین طلاق کی تحریر جان کر اس پر دستخط کرنے کا اقرار کرا لیا جائے۔ اور اگر قسم کھالے تو اس کی بیوی پر صرف ایک طلاق کا حکم کیا جائے۔ اگر وہ جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ اور اگر وہ مذکورہ طریقہ پر قسم نہ کھائے اور طلاق کے مضمون پر مطلع ہونے کا اقرار بھی نہ کرے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" وإما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين." (پ ۷ ع۱٤) </strong></span> واللہ تعالیٰ اعلم۔ <span style="color: #339966;"><strong>ماخوز : از فتاوی فقیہ ملت </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...