Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1377 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7K Views

سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائزہے از مفتی صدام حسین فیضی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائزہے از مفتی صدام حسین فیضی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائزہے کافر کی دی ہوئی زمین پر مسجدنہیں بناسکتے

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوتیلی ماں کی حقیقی بہن سے نکاح کرنا کیسا ہے اور کافر کی دی ہوئی زمین میں مسجد بنا سکتے ہیں یانہیں مدلل جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتیہ : افسانہ شیخ گوپی گنج بھدوہی یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے کہ وہ خالہ نہیں ۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :”سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے، کچھ حرج نہیں” اھ ۔ (فتاوی رضویہ مترجم ج ١١ص ٦٧٠ کتاب النکاح، باب المحرمات) (2) اور کافر کی دی ہوئی جگہ میں مسجد نہیں بنائی جاسکتی ہے کہ مسجد وقف کی زمین میں بنائی جاتی ہے اور کافر کا وقف صحیح نہیں۔ ہاں وہ کسی مسلمان کو ہبہ کردے اور وہ مسلمان اس پر قبضہ کرکے مسجد کے لئے وقف کردے تو مسجد بناسکتے ہیں لیکن ایسا اس وقت کرنا چاہئے جب اندیشۂ ضرر نہ ہو ۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :” رہی پہلی صورت کہ مشرک اپنی زمین میں مسجد بنوادے اگرمشرک نے وہ زمین کسی مسلمان کو ہبہ کردی اور مسلمان نے مسجد بنوائی تو جائز ہے اور اس میں نماز مسجد میں نمازہے، اور اگر بے تملیک مسلم اپنی ہی ملک رکھ کر مسجد بنوائی تو وہ مسجد شرعا مسجد نہ ہوئی،لان الکافر لیس اھل لوقف المسجد ( یعنی کافر مسجد کو وقف کرنے کی اھیلت نہیں رکھتا ہے ) “اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ١٦ ص٢٩٧ / ٢٩٨ کتاب الوقف، باب المسجد) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء

Kutubahu & Verified by:

<h2>سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائزہے کافر کی دی ہوئی زمین پر مسجدنہیں بناسکتے</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوتیلی ماں کی حقیقی بہن سے نکاح کرنا کیسا ہے اور کافر کی دی ہوئی زمین میں مسجد بنا سکتے ہیں یانہیں مدلل جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتیہ : افسانہ شیخ گوپی گنج بھدوہی یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے کہ وہ خالہ نہیں ۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :"سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے، کچھ حرج نہیں" اھ ۔ (فتاوی رضویہ مترجم ج ١١ص ٦٧٠ کتاب النکاح، باب المحرمات) <span style="color: #ff0000;"><strong>(2)</strong></span> اور کافر کی دی ہوئی جگہ میں مسجد نہیں بنائی جاسکتی ہے کہ مسجد وقف کی زمین میں بنائی جاتی ہے اور کافر کا وقف صحیح نہیں۔ ہاں وہ کسی مسلمان کو ہبہ کردے اور وہ مسلمان اس پر قبضہ کرکے مسجد کے لئے وقف کردے تو مسجد بناسکتے ہیں لیکن ایسا اس وقت کرنا چاہئے جب اندیشۂ ضرر نہ ہو ۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :" رہی پہلی صورت کہ مشرک اپنی زمین میں مسجد بنوادے اگرمشرک نے وہ زمین کسی مسلمان کو ہبہ کردی اور مسلمان نے مسجد بنوائی تو جائز ہے اور اس میں نماز مسجد میں نمازہے، اور اگر بے تملیک مسلم اپنی ہی ملک رکھ کر مسجد بنوائی تو وہ مسجد شرعا مسجد نہ ہوئی،لان الکافر لیس اھل لوقف المسجد ( یعنی کافر مسجد کو وقف کرنے کی اھیلت نہیں رکھتا ہے ) "اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ١٦ ص٢٩٧ / ٢٩٨ کتاب الوقف، باب المسجد) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...