01
The questionSawaal
اصل سوالشریعت وریعت اپنے پاس رکھو کہنا کیسا ہے؟
02
The responseAl-Jawab
شریعت وریعت اپنے پاس رکھو کہنا کیسا ہے؟
سوال : عمرو کی داڑھی حد شرع سے کم ہونے کی بنا پر زید نے عمرو کو سمجھاتے ہوئے کہا یہ تمہاری داڑھی حد شرع سے کم ہے اگر رکھنی ہے تو شریعت کے مطابق رکھو اور اس میں کانٹ چھانٹ نہ کرو اس پر عمرو نے کہا شریعت وریعت اپنے پاس رکھوں مجھے نہ بتاؤ. اس جواب پر غصہ ہو کر زید نے کہا پھر یہ تمہاری داڑھی داڑھی ہی نہیں جتنی بڑی تمہاری داڑھی ہے اس سے کہیں بڑے تو میرے موئے زیر ناف ہیں. دریافت طلب امر یہ ہے کہ عمرو کا جواب اور پھر زید کا جواب الجواب کس حد تک درست یا نا درست ہے؟ الجوابــــــــــــــ شریعت وریعت اپنے پاس رکھو مجھے نہ بتاؤ یہ کہنا کفر ہے کہ اس میں شریعت مطہرہ کی توہین کے ساتھ مسائل شرعیہ سے انکار بھی ہے اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں جیسا کہ صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ شرع کی توہین کرنا مثلا کہے کہ شرع ورع کو نہیں جانتا کفر ہے. (بہار شریعت حصہ نہم صفحہ 172) اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ جو شخص مسائل شرعیہ کے مقابلے میں کہے کہ وہ مسائل شرعیہ کو نہیں مانتا وہ اسلام سے خارج ہوگیا۔ (فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ 517) لہذا عمرو توبہ و تجدید ایمان کرے اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور زید نے چونکہ عمر کے کلمات کفر یہ سن کر اس کی داڑھی کے بارے میں الفاظ مذکورہ کہا اس لئے اس پر کوئی جرم عائد نہیں کہ عند الشرع کافر کی داڑھی قابل عزت نہیں. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.