Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1387
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8K Views
بھائی کا یہ بیان کہ بہنوئی نے بہن کو طلاق دی ہے طلاق ثابت ہوگی کہ نہیں ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
بھائی کا یہ بیان کہ بہنوئی نے بہن کو طلاق دی ہے طلاق ثابت ہوگی کہ نہیں ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بھائی کا یہ بیان کہ بہنوئی نے بہن کو طلاق دی ہے طلاق ثابت ہوگی کہ نہیں ؟
مسئلہ:- از : محمد ابراہیم، نیوری چورہا، امبیڈکر نگر۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ بکر کا بیان ہے کہ زید نے میری بہن ہندہ کے بارے میں ٹیلیفون پر مجھ سے یہ کہا کہ طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق طلاق طلاق اور بکر کا یہ بھی بیان ہے کہ زید اب انکار کرتا ہے جب کہ اس کے باپ نے اقرار کیا تھا کہ ایک بار طلاق ہندہ سے نہیں کہا بلکہ تم سے کہا ۔ تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ پر طلاق پڑی یا نہیں ؟ اور اب ہندہ کو زید کے پاس جانے میں عزت و جان کا خطرہ ہے تو کیا وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے ؟ بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــــ بکر کے اس بیان سے طلاق ثابت نہیں ہوگی۔ زید نے اپنی بیوی ہندہ کے بارے میں بذریعہ ٹیلیفون یہ کہا کی طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق طلاق طلاق اور اس بیان سے بھی زید کے باپ نے اقرار کیا کہ ایک بار طلاق ہندہ سے نہیں کہا بلکہ تم سے کہا۔ اس لیے کی طلاق یا تو شوہر کے اقرار سے ثابت ہوگی یا دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتیں عادل ثقہ کی گواہیوں سے اور صورت مسؤلہ میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتی ہیں ۔ لہذا ہندہ پر وقوع طلاق کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ تفسیرات احمدیہ مطبوعہ رحیمیہ صفحہ ۱۳۵ میں ہے :” في غير الحدود والقصاص إن كان مما يطلع عليه الرجل يقبل بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين سواء كان مالا أو غير مال عندنا . اھ “ اگر ہندہ کو زید کے پاس جانے میں عزت و جان کا خطرہ ہے تو وہ کسی طرح اس سے طلاق حاصل کرے۔ طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح ہرگز نہیں کر سکتی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔۔ الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی۔ کتبـــــــــــــــــــہ : محمد ابرار احمد امجدی۔
Kutubahu & Verified by:
<h3>بھائی کا یہ بیان کہ بہنوئی نے بہن کو طلاق دی ہے طلاق ثابت ہوگی کہ نہیں ؟</h3> مسئلہ:- از : محمد ابراہیم، نیوری چورہا، امبیڈکر نگر۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ بکر کا بیان ہے کہ زید نے میری بہن ہندہ کے بارے میں ٹیلیفون پر مجھ سے یہ کہا کہ طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق طلاق طلاق اور بکر کا یہ بھی بیان ہے کہ زید اب انکار کرتا ہے جب کہ اس کے باپ نے اقرار کیا تھا کہ ایک بار طلاق ہندہ سے نہیں کہا بلکہ تم سے کہا ۔ تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ پر طلاق پڑی یا نہیں ؟ اور اب ہندہ کو زید کے پاس جانے میں عزت و جان کا خطرہ ہے تو کیا وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے ؟ بینوا توجروا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــ</strong></span> بکر کے اس بیان سے طلاق ثابت نہیں ہوگی۔ زید نے اپنی بیوی ہندہ کے بارے میں بذریعہ ٹیلیفون یہ کہا کی طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق طلاق طلاق اور اس بیان سے بھی زید کے باپ نے اقرار کیا کہ ایک بار طلاق ہندہ سے نہیں کہا بلکہ تم سے کہا۔ اس لیے کی طلاق یا تو شوہر کے اقرار سے ثابت ہوگی یا دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتیں عادل ثقہ کی گواہیوں سے اور صورت مسؤلہ میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتی ہیں ۔ لہذا ہندہ پر وقوع طلاق کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ تفسیرات احمدیہ مطبوعہ رحیمیہ صفحہ ۱۳۵ میں ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" في غير الحدود والقصاص إن كان مما يطلع عليه الرجل يقبل بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين سواء كان مالا أو غير مال عندنا . اھ "</strong></span> اگر ہندہ کو زید کے پاس جانے میں عزت و جان کا خطرہ ہے تو وہ کسی طرح اس سے طلاق حاصل کرے۔ طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح ہرگز نہیں کر سکتی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔۔ <span style="color: #339966;"><strong>الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــــــہ : محمد ابرار احمد امجدی۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...