Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

نجس کپڑا پہن کر غسل کرنا کیسا ہے؟

نجس کپڑا پہن کر غسل کرنا کیسا ہے؟
Reference 1395 September 18, 2025 8,881 views
اصل سوالنجس کپڑا پہن کر غسل کرنا کیسا ہے؟

نجس کپڑا پہن کر غسل کرنا کیسا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــ نجس کپڑا پہن کر غسل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پانی پڑنے کے بعد نجاست پھیل جائے گی بلکہ ہاتھ میں لگ جائے گی پھر بے احتیاطی سے سارا بدن بلکہ برتن بھی نجس ہو جائے گا. لہذا پاک کپڑا ہی پہن کر غسل کرنا چاہیے. اگر کوئی دوسرا پاک کپڑا موجود نہ ہو تو پہلے اس کی نجاست دور کرلے. اگر تر نجاست والے کپڑے کو پہن کر پانی کے باہر غسل کیا اور خوب پانی ڈالا تو اب وہ کپڑا پاک ہو گیا. کیونکہ زیادہ پانی ڈالنا تین بار دھونے اور نچوڑنے کے قائم مقام ہو جائے گا. اور اگر تالاب یا ندی میں خوب غسل کرے تو بھی پاک ہوجائے گا کیونکہ پانی کے بار بار گزرنے اور دباؤ پڑنے سے بھی نجاست دور ہو جائے گی. شامی جلد اول صفحہ 222 میں ہے” الجریان بمنزلۃ التکرار والعصر ھو الصحيح. سراج. ١ھ. اور اگر نجاست خشک ہے تو اسے رگڑنا ضروری ہے کیونکہ بغیر رگڑے ایسی نجاست کا زوال مشکل ہے محض مرور ماء یا بار بار دباؤ کافی نہیں. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد خورشید احمد مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.