Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1397 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.1K Views

داڑھی زیادہ سے زیادہ کتنی لمبی رکھ سکتے ہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

داڑھی زیادہ سے زیادہ کتنی لمبی رکھ سکتے ہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

داڑھی زیادہ سے زیادہ کتنی لمبی رکھ سکتے ہیں؟

سوال : داڑھی کی حد کم سے کم ایک مشت ہے لیکن زیادہ سے زیادہ کی کیا حد ہے ? جواب عنایت فرمائیں؟ المستفتی : مولانا حسرت گورڈیہہ سدھارتھ نگر یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب داڑھی زیادہ سے زیادہ ایک مشت رکھنی چاہئے کہ یہی سنت ہے اس سے کچھ زیادہ ہو کہ سینہ تک پہنچ جائے تو حرج نہیں ہاں طول فاحش مکروہ تحریمی ہے۔ ردالمحتار علی الدر المختار :” والسنۃ فیہا القبضۃ وھو ان یقبض الرجل لحیتہ فمازاد منھا علی قبضۃ قطعہ ۔ روی الطبرانی عن ابن عباس رفعہ من سعادۃ المرأ خفۃ لحیتہ واشتھر ان طول اللحیۃ دلیل علی خفۃ العقل “اھ ملخصا (ج٩ ص٥٨٣ کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، دارعالم الکتب) حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:” داڑھی ایک مشت رکھنا ضروری ہے ایک مشت سے کم کرنا درست نہیں اور ایک مشت سے اگر کچھ زیادہ ہو کہ سینہ تک پہنچ جائے جب بھی حرج نہیں مگر اس کا طوال فاحش مکروہ ہے “اھ ( فتاوی امجدیہ ج٤ ص١٩٤ کتاب الحظر والاباحۃ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء

Kutubahu & Verified by:

<h2>داڑھی زیادہ سے زیادہ کتنی لمبی رکھ سکتے ہیں؟</h2> سوال : داڑھی کی حد کم سے کم ایک مشت ہے لیکن زیادہ سے زیادہ کی کیا حد ہے ? جواب عنایت فرمائیں؟ المستفتی : مولانا حسرت گورڈیہہ سدھارتھ نگر یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> داڑھی زیادہ سے زیادہ ایک مشت رکھنی چاہئے کہ یہی سنت ہے اس سے کچھ زیادہ ہو کہ سینہ تک پہنچ جائے تو حرج نہیں ہاں طول فاحش مکروہ تحریمی ہے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>ردالمحتار علی الدر المختار :" والسنۃ فیہا القبضۃ وھو ان یقبض الرجل لحیتہ فمازاد منھا علی قبضۃ قطعہ ۔ روی الطبرانی عن ابن عباس رفعہ من سعادۃ المرأ خفۃ لحیتہ واشتھر ان طول اللحیۃ دلیل علی خفۃ العقل "اھ ملخصا</strong> </span> (ج٩ ص٥٨٣ کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، دارعالم الکتب) حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:" داڑھی ایک مشت رکھنا ضروری ہے ایک مشت سے کم کرنا درست نہیں اور ایک مشت سے اگر کچھ زیادہ ہو کہ سینہ تک پہنچ جائے جب بھی حرج نہیں مگر اس کا طوال فاحش مکروہ ہے "اھ ( فتاوی امجدیہ ج٤ ص١٩٤ کتاب الحظر والاباحۃ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...