Fatwa #1417
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مخنث جانورکی قربانی وعقیقہ جائز نہیں
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
9,255
سوال (Question):
مخنث جانورکی قربانی وعقیقہ جائز نہیں
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مخنث جانورکی قربانی وعقیقہ جائز نہیں
اگربکروں میں کوئی مخنث ہو تو اس کا عقیقہ ہوسکتا ہے یانہیں؟ الجواب بعون الملک الوھاب خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی اور عقیقہ جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا فتاوٰی عالمگیری میں ہے:” لاتجوز التضحیۃ بالشاۃ الخنثٰی لان لحمہا لاینضج، کذا فی القنیۃ “ اھ (ج٥ ص٣٦٩ کتاب الاضحیۃ، باب بیان محل اقامۃ الواجب، دار الکتب العلمیۃ) درمختار مع رد المحتار میں ہے:” ولا بالخنثی لان لحمها لاینضج، شرح وہبانیة “ اھ (ج٩ ص٤٧٠ کتاب الاضحیۃ، دارعالم الکتب) یعنی خنثٰی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیوں کہ اس کا گوشت پکتا نہیں۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :” خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا “اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ٢٠ ص٢٥٥/٢٥٦ کتاب الذبائح) اور جن جانوروں کی قربانی نہیں ہوسکتی ان کا عقیقہ بھی نہیں ہوسکتا بہار شریعت میں ہے :” عقیقہ کا جانور اونھیں شرائط کے ساتھ ہونا چاہئے جیسا قربانی کے لئے ہوتا ہے ” اھ ( حصہ ١٥ عقیقہ کابیان ج٣ ص٣٥٧) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh