Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1406
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.1K Views
تجارت کی زمین پر زکوۃ ہے یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
تجارت کی زمین پر زکوۃ ہے یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
تجارت کی زمین پر زکوۃ ہے یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں میں بکر جو متعدد قسم کے کاروبار کر رہا ہے ان میں سے ایک کاروبار یہ بھی کرتا ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں زمین پلاٹ خرید کر چھوڑ دیتا ہے اور جب اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ اپنی فروخت کردیتا ہے. خریدنے اور بیچنے کی مدت کبھی دو تین سال کی ہوتی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس زمین پر یا اس کی قیمت پر سال گزرنے کی وجہ سے زکوۃ واجب ہوگی؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ جب یہ زمین تجارت ہی کی غرض سے خرید و فروخت کی جاتی ہیں اور ان سے مالک زمین کا مقصد تجارت ہی ہے تو بہرحال سال تمام پر ان کی زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوگی اور حولان حول کے وقت ان کی قیمت کا اعتبار ہوگا. فتاوی ہندیہ میں ہے : الزكاۃ واجبۃ في عروض التجارۃ كائنۃ ما كانت اذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهدايه وتعتبر القيمۃ عند حولان الحول بعد ان تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتی درهم من الدراهم١ھ. (جلد ١ صفحہ ١٧٩) والله تعالى اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبـــــــــــــــــــــــہ : مفتی غلام احمد قادری
Kutubahu & Verified by:
<h2>تجارت کی زمین پر زکوۃ ہے یا نہیں؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں میں بکر جو متعدد قسم کے کاروبار کر رہا ہے ان میں سے ایک کاروبار یہ بھی کرتا ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں زمین پلاٹ خرید کر چھوڑ دیتا ہے اور جب اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ اپنی فروخت کردیتا ہے. خریدنے اور بیچنے کی مدت کبھی دو تین سال کی ہوتی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس زمین پر یا اس کی قیمت پر سال گزرنے کی وجہ سے زکوۃ واجب ہوگی؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> جب یہ زمین تجارت ہی کی غرض سے خرید و فروخت کی جاتی ہیں اور ان سے مالک زمین کا مقصد تجارت ہی ہے تو بہرحال سال تمام پر ان کی زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوگی اور حولان حول کے وقت ان کی قیمت کا اعتبار ہوگا. فتاوی ہندیہ میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>: الزكاۃ واجبۃ في عروض التجارۃ كائنۃ ما كانت اذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهدايه وتعتبر القيمۃ عند حولان الحول بعد ان تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتی درهم من الدراهم١ھ.</strong></span> (جلد ١ صفحہ ١٧٩) والله تعالى اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــــــــــہ : مفتی غلام احمد قادری</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...