Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1407 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.2K Views

پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــ پٹاخہ اور راکھی کی تجارت جائز نہیں کہ آتش بازی حرام ہے کہ یہ گناہ پر مدد ہے جو حرام ہے. اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے “ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان” اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں : افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہیں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اعانت اور مدد ہے (جلد 16 صفحہ 106) اور راکھی کا استعمال صرف رکشھا بندھن کے لئے ہوتا ہے جو یہاں کے غیر مسلموں کا مذہبی شعار ہے تو راکھی کی تجارت بھی گناہ پر اعانت ہوئی اس لیے یہ تجارت بھی ناجائز ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبـــــــــــــہ : مفتی فیاض احمد برکاتی مصباحی

Kutubahu & Verified by:

<h2>پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــ</strong></span> پٹاخہ اور راکھی کی تجارت جائز نہیں کہ آتش بازی حرام ہے کہ یہ گناہ پر مدد ہے جو حرام ہے. اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان"</strong></span> اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں : افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہیں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اعانت اور مدد ہے (جلد 16 صفحہ 106) اور راکھی کا استعمال صرف رکشھا بندھن کے لئے ہوتا ہے جو یہاں کے غیر مسلموں کا مذہبی شعار ہے تو راکھی کی تجارت بھی گناہ پر اعانت ہوئی اس لیے یہ تجارت بھی ناجائز ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــہ : مفتی فیاض احمد برکاتی مصباحی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...