Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

حضرت امیر معاویہ کو گالی دینے اور آپ کو برا کہنے والوں کا حکم

حضرت امیر معاویہ کو گالی دینے اور آپ کو برا کہنے والوں کا حکم
Reference 1413 September 18, 2025 10,895 views
اصل سوالحضرت امیر معاویہ کو گالی دینے اور آپ کو برا کہنے والوں کا حکم

حضرت امیر معاویہ کو گالی دینے اور آپ کو برا کہنے والوں کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ ذیل میں کہ (1)صحابئ رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں لعن طعن کرتے ہیں ۔اور منھ بھر گالیاں دیتے ہیں اور معاذاللہ آپ کو حرامی کہتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے ۔ (2)کیا ایسے لوگوں کو اہلیسنت والجماعت کہاجاسکتا ہے ۔ (3)حضور اعلحضرت مام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کی تعلیمات سے جو لوگ نفرت کرتے ہیں اور آپ کی ذات سے ۔اور آپ کے مسلک سے ۔ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے ۔  جواب عنایت فرمائیں ۔ فقط السلام المستفتیان ۔مسلمانان اہلیسنت بٹورہ بختاور سنگھ تحصیل کرنیل گنج گونڈا بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب۔ (1.2)حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر لعن طعن کرنا یا گالیاں دینا یا آپ سے سوء عقیدت رکھنا بدمزہبی وگمراہی واستحقاق جہنم ہے اور ایسا شخص بددین گمراہ اور گمراہ گر تو ہوسکتا ہے لیکن سنی نہیں ہوسکتا ہے ۔کیونکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر صحابی رسول ہیں اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم اہل خیرو صلاح عادل ہیں ان کا جب ذکر کیا جاے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے. “ومالکم الا تنفقوا فی سبیل اللہ میراث السموات والارض لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقتل ۔اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقتلوا وکلا وعداللہ الحسنی. واللہ بما تعلمون خبیرا ترجمہ کنزالایمان ۔اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا ۔وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں وہ جنہوں نے بعد فتح مکہ کے خرچ اور جہاد کیا ۔اور ان سب سے اللہ جنت لا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے (پارہ 27 ۔سورہ الحدید آیت 10 ) تفسیر مظہری میں ہے “وکلا…. ای کل واحد من الفریقین من الصحابۃ الذین انفقوا قبل الفتح والذین انفقوا بعدہ وعداللہ الحسنی ۔لایحل الطعن فی احدمنھم ولا بد حمل مشارجراتھم علی محامل حسنۃ واغراض صحیحۃ او خطا فی الاجتھاد…. واللہ بما تعلمون خبیر،، عالم بالبواطن کعلمہ بالظواہر فیجازی کلا علی حسبہ ۔ اور تمام یعنی وہ صحابہ کرام جنہوں نے قبل فتح مکہ خرچ کیا اور جنہوں نے بعد فتح مکہ خرچ کیا ان دونوں گروہوں میں ہر ایک سے اللہ تعالی نے حسنی کا وعدہ فرمالیا ۔ان میں کسی ایک کے بارے میں طعن کرنا حلال نہیں ہے اور مشاجرات کو اچھے محامل اور درست اغراض یا اجتھاد ی خطا پر محمول کرنا ضروری ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے خبر دار ہے وہ باطن کو ایسے ہی جانتا ہے جیسے ظاہر کا جانتا ہے تو وہ ہر ایک کو اس کے مطابق بدلہ دے گا ۔(تفسیر مظھری. ج 9 ۔ص 192 ) صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “لا تسبوا اصحابی فلو ان احدکم انفق مثل احد ذھبا مابلغ مد احدھم، ولا نصفہ ۔میرے صحابہ کو برا نہ کہو پس اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کردے تو وہ ان کے ایک مد یا آدھا مد خیرات کرنے کو نہیں پہنچ سکتا ہے ۔ (صحیح بخاری ۔کتاب المناقب حدیث نمبر 3673 ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “لا تتزکروامساوی اصحابی فتخلف قلوبکم علیھم واذکروا محاسن اصحابی حتی تاتلف قلوبکم علیھم ۔۔میرے صحابہ کا تذکرہ برائی کے ساتھ نہ کرو کہ تمہارے دل ان کے خلاف ہوجائیں ۔میرے صحابہ کی اچھائی بیان کرو یہاں تک کہ تمہارے دل ان کے لے نرم ہوجائیِں .(کنزالعمال ۔کتاب الفضائل الباب الثالث الفصل الاول) صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ” دعہ فانہ قد صحب رسول اللہ “ان کو کچھ نہ کہو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں (صحیح بخاری کتاب المناقب باب ذکر معاویہ رضی اللہ عنہ ) المسامرہ میں ہے “واعتقاداھل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابہ رضی اللہ عنھم وجوبا باثبات العدالۃ لکل منھم والکف عن الطعن فیھم والثناء علیھم کما اثنی اللہ سبحانہ وتعالی علیھم ” اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ تعالی عنھم کی عدالت کو ثابت کرنے کے ساتھ ان کی پاکیزگی بیان کرنا واجب ہے اور ان سب کے معاملہ میں طعن سے بچے رہنا واجب ہے اور ان کی تعریف کرنا ہے جیسا کہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی ہے (المسامرہ شرح المسائرہ ۔الرکن الرابع الاصل الثامن ) نسیم الریاض میں ہے “من یکن یطعن فی معاویہ فذاک کلب من کلاب الھاویہ “یعنی جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرے تو وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے (نسیم الریاض ۔القسم الثانی ج 3 ص 443) اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں “ای للامیر معاویہ رضی اللہ عنہ اما عند اھل الحق فاستقامۃ الخلافۃ رضی اللہ تعالی عنہ من یوم صلح اسید المجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔بہر حال اہل حق کے نذدیک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے اس دن سے خلافت مستحکم ہوگئ جس دن حضرت امام مجتبی امام حسن صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی اس کے بعد آپ علیہ الرحمہ امام حسن اور امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کےدرمیان صلح والی حدیث بخاری نقل کرکے فرماتے ہیں” وبہ ظھر ان الطعن علی الامیر معاویہ طعن علی الامام المجتبی بل علی جدہ الکریم صلی اللہ علیہ وسلم بل علی ربہ عزوجل ” ترجمہ -اسی سے ظاہر ہوگیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنا درحقیقت امام مجتبی پر طعن کرنا ہے بلکہ یہ ان کے جد کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرنا ہے بلکہ یہ تو اللہ عزوجل پر طعن کرنا ہے ۔(المستندالمعتمد مع المعتقدالمنتقد ص 192.193 ) فتاوی رضویہ میں ہے “سیر جن بالائی باتوں کے لے ہے اس میں حد سے تجاوز نہیں کرسکتے ۔اس کی روایات مزکورہ کسی حیض و نفاس کے مسئلہ میں بھی سننے کی نہیں نہ کہ معاذاللہ ان واہیات و مغضلات وبے سروپا حکایات سے صحابہ کرام حضور سید الانام صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن پیدا کرنا ۔اعتراض نکالنا ان کی شان رفیع میں رخنے ڈالنا کہ اس کا ارتجاب نہ کرےگا مگر گمراہ بدین ۔مخالف و مضاد حق تبین “(فتاوی رضویہ. ج 5 ص582) حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں “تمام صحابئہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اہل خیروصلاح ،عادل ہیں ، جب ان کا ذکر کیا جاے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے ۔کسی صحابہ کے ساتھ سوء عقیدت بدمذہبی وگمراہی واستحقاق جہنم ہے کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض ہے ایسا شخص رافضی ہے اگرچہ اپنے کو سنی کہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے باہم جو واقعات ہوے، ان میں پڑنا حرام، حرام، سخت حرام ہے، مسلمانوں کو تویہ دیکھنا چاہئے کہ وہ سب حضرات آقاے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم انبیاء نہ تھے، فرشتے نہ تھے کہ معصوم ہوں ۔ان میں بعض کے لے لغزشیں ہوئیں، مگر ان کی کس بات پر گرفت اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف ہے (بہارشریعت ج 1 ح 1ص 252) (3) شریعت مطہرہ میں علماء کرام کا مقام نہایت ہی بلند وبالاہے عوام پر ان کی تعظیم ضروری ہے علماء کو برابھلا کہنا، ان کی توہین کرنا جائز نہیں ۔بلکہ بسااوقات اس سے سلب ایمان کا بھی خطرہ ہے علماء کرام نے صراحت کی ہے کہ اگر عالم کی اہانت بمقابلہ امر دین و حکم شرع کے ہو تو آدمی کافر ہوجاتا ہے فتاوی ہندیہ میں ہے “فی النصاب من ابغض عالما من غیر سبب ظاہر خیف علیہ الکفر….. ویخاف علیہ الکفر اذا شتم عالما او فقیہا من غیر سبب “(فتاوی ہندیہ ۔ج 2 ص 270 ) فتاوی رضویہ میں مجمع الانہر کے حوالے سے ہے “من قال لعالم عویلم استخفافا فقد کفر “جو کسی عالم کو مولویا تحقیر کے لے کہے وہ کا فر ہے (فتاوی رضویہ ج 9 ص 113 ) یہ تو عام عالم دین کی شان ہے جن کی ادنی توہین بھی ناقابل برداشت ہے ۔جب کہ حضور اعحضرت علیہ الرحمہ کی ذات بابرکات ۔کہ آپ کی پوری زندگی صرف اور صرف احکام شرع وپابندی سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں گذری ۔زندگی کا ایک ایک لمحہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لانے میں اور دشمن اسلام کو منھ توڑ جواب دینے میں صرف ہوا ۔ان کی تعلیمات قرآن و حدیث کی تعلیمات ہے ۔ان کی تعلیمات سے نفرت کرنا گویا قرآن وحدیث کی تعلیمت سے نفرت کرنا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ ۔شاہد رضا امجدی جامعی پکڑیا جوت گنڈاہی ضلع گونڈا یو پی 17 جمادالاخرا 1443

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.