01
The questionSawaal
اصل سوالقرآن کریم کا اردو یا فارسی ترجمہ سننے کا کیا حکم ہے؟
02
The responseAl-Jawab
قرآن کریم کا اردو یا فارسی ترجمہ سننے کا کیا حکم ہے؟
سوال:- کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر کوئی شخص قرآن کا اردو یا فارسی ترجمہ پڑھ رہا ہو تو اسکا سننا کیا ہے؟ باسمه تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوهاب: قرآن نام ہے اس نظم کا جو معنی پر دلالت کرے صرف معنی کا نام نہیں اگر چہ وہ معنی عربی زبان میں ہی ہوں اس کو قرآن نہیں کہا جائے گا لہذا جب وہ قرآن نہیں تو قرآن کریم کو سننے کے جو احکام ہیں ہیں (مثلا جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سننا فرض ہے جب کہ لوگ سننے کی غرض سے حاضر ہوں ورنہ ایک کا سننا کافی ہے)وہ ترجمہ قرآن کے لیےنہیں ہوں گے . حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمه الله رقمطراز ہیں: “قرآن نام ہے “النظم الدال علی المعنی “ کا جیسا کہ ائمہ نے تصریح فرمائی ہے صرف معنی کا نام قرآن نہیں یعنی اگر وہ معنی دوسرے الفاظ میں ادا کئے جائیں تو اس عبارت کو قرآن نہیں کہیں گے اگر چہ وہ عربی ہی عبارت ہو- پس جبکہ عربی عبارت جو اس نظم کا غیر ہو اگر چہ مطلب اس کا یہی ہے قرآن نہیں-تو فارسی اردو انگریزی کیوں قرآن ہوسکیں،ملتقطا”(فتاوی امجدیہ ج۱ ص۹۶) حاصل یہ ہے کہ قرآن کا اردو یا فارسی ترجمہ قرآن نہیں ہے لہذا اسکا سننا بھی واجب نہیں ہے . واللہ تعالی اعلم بالصواب . کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحیح : محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.