Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1417 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.3K Views

حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

سوال:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب: عصمت کا معنی ہے اللہ تعالی کا کسی کو گناہوں سے محفوظ رکھنا،انبیائے کرام وملائکہ عظام کے متعلق چونکہ اللہ رب العزت کا وعدہ ہے کہ انہیں گناہوں سے محفوظ رکھے گا جس کے سبب ان سے گناہوں کا صدور شرعا محال ہے اس معنی کر انبیائے کرام وملائکہ عظام کے سوا کوئی معصوم نہیں-حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اس معنی کر معصوم ہیں کہ اللہ رب العزت ازواج مطہرات،صحابہ کرام واولیائے عظام کو بھی گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے مگر ان سے گناہوں کا صدور شرعا محال نہیں . المعجم الوسیط میں ہے “عصم الله فلانا من الشر او الخطاء عصمة:حفظه ووقاه ومنعه،ويقال:عصم الشيئ:منعه”(ص۶۲۸) اور المعتقد المنتقد میں ہے “فمنه العصمة:وهى من خصائص النبوة على مذهب اهل الحق”(ص۱۱۰) اور النبراس میں ہے “والملائكة عباد الله تعالى العالمون بامره يريد انهم معصومون وقد اختلف فى عصمتهم فالمختار انهم معصومون عن كل معصية”. (ص۲۸۷) اور فتاوی رضویہ شریف میں ہے “اور عصمت نوع بشر میں خاصئہ حضرات انبیا علیہم الصلاة والثنا ہے ان کے غیر سے اگر چہ کیسا ہی عظیم الدرجات ہو،وقوع گناہ ممکن ومتصور”(فتاوی رضویہ مترجم ج۳۰ ص۲۷۶) اور رسالہ قشیریہ میں ہے : “اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ولی معصوم ہے یا نہیں-تو اس کا جواب یہ ہے کہ ولی انبیا کی طرح لازمی طور پر معصوم نہیں-ہاں یوں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی ولیوں کو گناہوں سے محفوظ رکھے-یہاں تک کہ ان سے کوئی کمزوری یا غلطی سرزد ہوجائے تو اس پر ڈٹے نہ رہیں-اس طرح ان کو محفوظ کہنے میں کوئی حرج نہیں”(رسالہ قشیریہ مترجم ص۶۴۵) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ السلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h3>حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟</h3> سوال:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟ باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب:</strong></span> عصمت کا معنی ہے اللہ تعالی کا کسی کو گناہوں سے محفوظ رکھنا،انبیائے کرام وملائکہ عظام کے متعلق چونکہ اللہ رب العزت کا وعدہ ہے کہ انہیں گناہوں سے محفوظ رکھے گا جس کے سبب ان سے گناہوں کا صدور شرعا محال ہے اس معنی کر انبیائے کرام وملائکہ عظام کے سوا کوئی معصوم نہیں-حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اس معنی کر معصوم ہیں کہ اللہ رب العزت ازواج مطہرات،صحابہ کرام واولیائے عظام کو بھی گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے مگر ان سے گناہوں کا صدور شرعا محال نہیں . <span style="color: #ff0000;"><strong>المعجم الوسیط میں ہے "عصم الله فلانا من الشر او الخطاء عصمة:حفظه ووقاه ومنعه،ويقال:عصم الشيئ:منعه"(ص۶۲۸)</strong></span> <strong>اور المعتقد المنتقد میں ہے "فمنه العصمة:وهى من خصائص النبوة على مذهب اهل الحق"(ص۱۱۰)</strong> <strong><span style="color: #ff0000;">اور النبراس میں ہے "والملائكة عباد الله تعالى العالمون بامره يريد انهم معصومون وقد اختلف فى عصمتهم فالمختار انهم معصومون عن كل معصية". (ص۲۸۷)</span></strong> اور فتاوی رضویہ شریف میں ہے "اور عصمت نوع بشر میں خاصئہ حضرات انبیا علیہم الصلاة والثنا ہے ان کے غیر سے اگر چہ کیسا ہی عظیم الدرجات ہو،وقوع گناہ ممکن ومتصور"(فتاوی رضویہ مترجم ج۳۰ ص۲۷۶) اور رسالہ قشیریہ میں ہے : "اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ولی معصوم ہے یا نہیں-تو اس کا جواب یہ ہے کہ ولی انبیا کی طرح لازمی طور پر معصوم نہیں-ہاں یوں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی ولیوں کو گناہوں سے محفوظ رکھے-یہاں تک کہ ان سے کوئی کمزوری یا غلطی سرزد ہوجائے تو اس پر ڈٹے نہ رہیں-اس طرح ان کو محفوظ کہنے میں کوئی حرج نہیں"(رسالہ قشیریہ مترجم ص۶۴۵) واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ السلامی بدار العلوم العلیمیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...