Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1418 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.5K Views

خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اگر کوئی شخص خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟

سوال:- لفظ خاتم النبیین میں”تاء”کے زبر کے ساتھ درست ہے یا زیر کے ساتھ اگر کوئی خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب لفظ خاتم امام عاصم رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک “تاء”کے زبر کے ساتھ ہے اور ان کے علاوہ قراء کے نزدیک”تاء”کے زیر کے ساتھ ہے،بہر صورت ائمہ قراءت کے نزدیک معنی”آخری”ہی ہے لہذا”تاء”کے زبروزیر دونوں کے ساتھ درست ہے ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے “والمقصود أنه يفهم من الآية ختم النبوة على نبينا عليه السلام لأن الخاتم بفتح التاء عند عاصم،وبكسر التاء عند غيره،وعلى الاول من الختام الذى يختم به الباب،وانما يطلق ههنا على النبى لانه يختم به أبواب النبوت ويغلق الى يوم القيامةوعلى الثانى يكون منه أيضا،أي يختم النبيين ويفعل الختم وتقوية قراءة ابن مسعود لكن نبينا ختم النبيين،او بمعنى الآخر،فثبت المدعى.والاول راي صاحب الكشاف،والآخیر راي الامام الزاهد،والمآل على كل توجيه هو معنى الآخير،ولذلك فسر صاحب المدارك قراءة عاصم بالآخر،وصاحب البيضاوي كلا القراءتين بالآخر”(ص۶۰۶) اور خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہے اس پر پوری امت مسلمہ کا اجماع ہے ، المعتقد المنتقد مع المعتمدالمستند میں ہے : “قال النابلسي فى شرح الفوائد:وفساد مذهبهم غنى عن البيان،بشهادة العيان،كيف وهو يؤدي الى تجويز نبى مع نبينا عليه السلام أو بعده،وذلك يستلزم تكذيب القرآن،اذ قد نص على أنه خاتم النبيين،وآخر المرسلين وفى السنة”انا العاقب لانبي بعدى”واجمعت الامةعلى ابقاء هذا الكلام على ظاهره،وهذه احدى المسائل المشهورة التي كفرنا بها الفلاسفة لعنهم الله تعالى”(۱۰۷) اور المعجم الوسیط میں ہے “والخاتم من كل شیئ آخره.وفى التنزيل العزيز:ولكن رسول الله وخاتم النبيين”(ص۲۲۶) اگر کوئی شخص خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو اس نے اجماع کی مخالفت کی اور امر اجماعی کی مخالفت کفر ہے لہذا ایسا شخص کافر ہے ۔ فتاوی رضویہ میں شرح المواقف کے حوالے سے ہے ۔ “كون الاجماع حجة قطعية معلوم بالضرورة من الدين” اور اصول البزدوی کے حوالے سے ہے “فصار الاجماع كآية من الكتاب أو حديث متواتر فى وجوب العمل والعلم به فيكفر جاحده فى الاصل” اعلحضرت امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں۔ “آئمہ کرام وعلمائے اعلام حجیت اجماع کو ضروریات دین سے بتاتے اور مخالف اجماع قطعی کو کفر ٹھراتے ہیں”(فتاوی رضویہ ج ۱۴ ص ۲۸۸ مترجم) اور اعلحضرت امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ کشف الاسرار شرح المنار کے حوالے سے فرماتے ہیں: “يكفر جاحده كما يكفر جاحد ما ثبت بالكتاب اوالمتواتر”(حوالہ سابق ص ۲۹۰) اور علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمه الله تعالى فرماتے ہیں: “حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اور تمام صحابہ کرام نے بلکہ پوری امت نے”خاتم النبیین”کا معنی صرف آخر الانبیا بتایا-وہ بھی اس قید کے ساتھ کہ اس میں نہ تو کسی تاویل کی گنجائش ہے نہ کسی تخصیص کی-اگر کوئی کسی قسم کی تاویل یا تخصیص کرے تو کافر ہے جس پر احادیث کریمہ اور ارشادات سلف وحلف نص جلی ہیں”(منصفانہ جائزہ ص۵۷) واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامى بدار العلوم العلیمیہ۔ الجواب صحیح:محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h3>اگر کوئی شخص خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟</h3> سوال:- لفظ خاتم النبیین میں"تاء"کے زبر کے ساتھ درست ہے یا زیر کے ساتھ اگر کوئی خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟ باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب</strong></span> لفظ خاتم امام عاصم رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک "تاء"کے زبر کے ساتھ ہے اور ان کے علاوہ قراء کے نزدیک"تاء"کے زیر کے ساتھ ہے،بہر صورت ائمہ قراءت کے نزدیک معنی"آخری"ہی ہے لہذا"تاء"کے زبروزیر دونوں کے ساتھ درست ہے ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے "والمقصود أنه يفهم من الآية ختم النبوة على نبينا عليه السلام لأن الخاتم بفتح التاء عند عاصم،وبكسر التاء عند غيره،وعلى الاول من الختام الذى يختم به الباب،وانما يطلق ههنا على النبى لانه يختم به أبواب النبوت ويغلق الى يوم القيامةوعلى الثانى يكون منه أيضا،أي يختم النبيين ويفعل الختم وتقوية قراءة ابن مسعود لكن نبينا ختم النبيين،او بمعنى الآخر،فثبت المدعى.والاول راي صاحب الكشاف،والآخیر راي الامام الزاهد،والمآل على كل توجيه هو معنى الآخير،ولذلك فسر صاحب المدارك قراءة عاصم بالآخر،وصاحب البيضاوي كلا القراءتين بالآخر"(ص۶۰۶) اور خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہے اس پر پوری امت مسلمہ کا اجماع ہے ، المعتقد المنتقد مع المعتمدالمستند میں ہے : "قال النابلسي فى شرح الفوائد:وفساد مذهبهم غنى عن البيان،بشهادة العيان،كيف وهو يؤدي الى تجويز نبى مع نبينا عليه السلام أو بعده،وذلك يستلزم تكذيب القرآن،اذ قد نص على أنه خاتم النبيين،وآخر المرسلين وفى السنة"انا العاقب لانبي بعدى"واجمعت الامةعلى ابقاء هذا الكلام على ظاهره،وهذه احدى المسائل المشهورة التي كفرنا بها الفلاسفة لعنهم الله تعالى"(۱۰۷) اور المعجم الوسیط میں ہے "والخاتم من كل شیئ آخره.وفى التنزيل العزيز:ولكن رسول الله وخاتم النبيين"(ص۲۲۶) اگر کوئی شخص خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو اس نے اجماع کی مخالفت کی اور امر اجماعی کی مخالفت کفر ہے لہذا ایسا شخص کافر ہے ۔ فتاوی رضویہ میں شرح المواقف کے حوالے سے ہے ۔ "كون الاجماع حجة قطعية معلوم بالضرورة من الدين" اور اصول البزدوی کے حوالے سے ہے "فصار الاجماع كآية من الكتاب أو حديث متواتر فى وجوب العمل والعلم به فيكفر جاحده فى الاصل" اعلحضرت امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں۔ "آئمہ کرام وعلمائے اعلام حجیت اجماع کو ضروریات دین سے بتاتے اور مخالف اجماع قطعی کو کفر ٹھراتے ہیں"(فتاوی رضویہ ج ۱۴ ص ۲۸۸ مترجم) اور اعلحضرت امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ کشف الاسرار شرح المنار کے حوالے سے فرماتے ہیں: "يكفر جاحده كما يكفر جاحد ما ثبت بالكتاب اوالمتواتر"(حوالہ سابق ص ۲۹۰) اور علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمه الله تعالى فرماتے ہیں: "حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اور تمام صحابہ کرام نے بلکہ پوری امت نے"خاتم النبیین"کا معنی صرف آخر الانبیا بتایا-وہ بھی اس قید کے ساتھ کہ اس میں نہ تو کسی تاویل کی گنجائش ہے نہ کسی تخصیص کی-اگر کوئی کسی قسم کی تاویل یا تخصیص کرے تو کافر ہے جس پر احادیث کریمہ اور ارشادات سلف وحلف نص جلی ہیں"(منصفانہ جائزہ ص۵۷) واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامى بدار العلوم العلیمیہ۔ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح:محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...