Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1420 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.7K Views

شوہر تین طلاق کا انکار کرے اور بیوی اقرار کرے تو ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شوہر تین طلاق کا انکار کرے اور بیوی اقرار کرے تو ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شوہر تین طلاق کا انکار کرے اور بیوی اقرار کرے تو ؟

ایک عورت اور ایک مرد کی گواہی سے طلاق ثابت ہوجائے گی ؟

مسئلہ:- از: محمد عابد انصاری ، کھڑکی دروازہ روڈ ، گنا ، (ایم پی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی بیوی ہندہ کو طلاق دے کر مہر دینے لگا لیکن ہندہ نے اس وقت یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ پانچ آدمی جمع کرکے مہر اور عدت کے اخراجات لوں گی ۔ اس کے جواب میں زید نے پھر ایک طلاق دے دی۔ اب زید کہتا ہے میں دو طلاق دیا ہوں ۔تفصیل یوں بیان کرتا ہے کہ ایک طلاق دے کر مہر دے رہا تھا جب اس نے مہر لینے سے انکار کیا تو پھر ایک دیا۔ جبکہ ہندہ یہ کہتی ہے کہ تین طلاق دے کر مہر دے رہا تھا میرے انکار پر ایک طلاق اور دی ۔ زبیدہ اور خالد جو اس وقت وہیں موجود تھے وہ دونوں ہندہ کی تائید کرتے ہیں اب کس کا اعتبار کیا جائے ؟ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ شریعت کو بالائے طاق رکھ کر بچوں کا منہ دیکھو یعنی طلاق شدہ بیوی کو رکھ لو ایسے لوگوں کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا الجوابــــــــــــــــــــ عام طور پر لوگ تین ہی طلاق دیتے ہیں لیکن جب زید انکار کرتا ہے کہ نہیں میں نے دو طلاق دی ہے تو پہلے اسے سمجھایا جائے کہ اگر تم نے تین طلاق دی ہے تو اقرار کر لو اور اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرو۔ ورنہ اگر واقعی تم نے تین طلاق دی ہے اور ویسے ہی اس کو دوبارہ بیوی بنا کر رکھ لو گے تو تم زندگی بھر حرام کاری میں مبتلا رہو گے اور جتنے بھی بچے تم سے ہوں گے سب حرام ٹھریں گے ۔ اگر زید اس طرح سمجھانے کے باوجود تین طلاق دینے کا اقرار نہ کرے تو اسے حضرت مخدوم صاحب چندریری کے آستانہ پر لے جائیں اور حضرت کے مزار پر اس کا ہاتھ رکھ کر اس سے اس طرح قسم لیں کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق نہیں دی ہے ۔ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مخدوم پاک ہمیں کوڑھی اور اندھا کر دیں اسی طرح تین بار اس سے کہلوائیں ۔ اگر وہ اس طرح قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے تین ہی طلاق دی ہے اسی وجہ سے وہ قسم کھانے سے انکار کر رہا ہے ۔ لہٰذا اس کی زبان سے اقرار کروا لیا جائے کہ ہاں ہم نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے ۔ اگر وہ اس طرح اقرار کر لے تو اس صورت میں ہندہ پر تین طلاقیں پڑ گئی اور وہ اس کے نکاح سے نکل گئی ۔ اب اگر زید ہندہ کو دوبارہ رکھنا چاہیے تو بغیر حلالہ اس کا نکاح ہندہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خدائے تعالی کا فرمان ہے:” فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” اور حلالہ کی صورت یہ ہے کہ ہندہ عدت گزارنے کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح کرے اور وہ اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے پھر وہ طلاق دیدے یا مر جائے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ زید کے نکاح میں آسکتی ہے۔ فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 473 پر ہے :” ان كان الطلاق ثلاثا لم تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحاً و يدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها كذا في الهدايه. اھ” اگر دوسرے شوہر نے ہمبستری کئے بغیر طلاق دے دی یا مر گیا تو حلالہ صحیح نہ ہوگا کما فی حدیث العسیلۃ۔ البتہ اگر زید مذکورہ طریقے پر قسم کھا لے اور کسی بھی طرح تین طلاق دینے کا اقرار نہ کرے تو شرعا اس کی بات مانی جائے گی اور ہندہ پر تین طلاق واقع ہونے کا حکم نہیں کریں گے بلکہ دو طلاق رجعی کا حکم کریں گے اب حلالہ کی بھی ضرورت نہیں ۔ اور چونکہ ہندہ خود مدعیہ ہے گواہ نہیں اور شرع میں ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی معتبر نہیں تو زبیدہ اور خالد کی گواہی سے بھی ہندہ پر تین طلاق کا حکم نہیں کریں گے۔ خدا تعالی کا ارشاد ہے :” واستشهدوا شهيدين من رجالكم فان لم يكونا رجلين فرجل و امرأتن.” ( پ ٣ سورہ بقرہ، آیت ۲۸۲)۔ لہذا اس صورت میں جب تک ہندہ عدت میں ہے زید اس سے رجعت کر سکتا ہے نکاح کی ضرورت نہیں یعنی اتنا کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیر لیا یا اس سے ہمبستری وغیرہ کرے اور اگر عدت گزر گئی ہے تو عورت کی رضا سے نئے مہر کے ساتھ ہندہ سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہیں۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 622 میں ہے۔ اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے :” ان الکذب فجور وان الفجور یہدی الی النار۔ یعنی جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور فسق و فجور دوزخ میں لے جاتا ہے ۔ ( مشکوٰۃ شریف صفحہ ٤١٢) اور جن لوگوں نے نے یہ کہا کہ شریعت کو بالائے طاق رکھو وہ اسلام سے خارج ہوگئے اور ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں انہی کلمہ پڑھا کر پھر سے مسلمان کیا جائے اور علانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے ۔ اگر وہ ان کو رکھنا چاہتے ہیں تو پھر سے ان کا نکاح پڑھایا جائے اور ان سے عہد لیا جائے کہ آئندہ شریعت کے بارے میں پھر ایسی بات زبان سے نہ نکالیں گے اگر وہ ایسا نہ کریں تو سب مسلمان سختی کے ساتھ ان کا بائیکاٹ کریں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:” و اما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين.”(پ۷ ع۱٤) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی کتبـــــــــــــــــــــہ: محمد ابرار احمد امجدی

Kutubahu & Verified by:

<h3>شوہر تین طلاق کا انکار کرے اور بیوی اقرار کرے تو ؟</h3> <h3>ایک عورت اور ایک مرد کی گواہی سے طلاق ثابت ہوجائے گی ؟</h3> مسئلہ:- از: محمد عابد انصاری ، کھڑکی دروازہ روڈ ، گنا ، (ایم پی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی بیوی ہندہ کو طلاق دے کر مہر دینے لگا لیکن ہندہ نے اس وقت یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ پانچ آدمی جمع کرکے مہر اور عدت کے اخراجات لوں گی ۔ اس کے جواب میں زید نے پھر ایک طلاق دے دی۔ اب زید کہتا ہے میں دو طلاق دیا ہوں ۔تفصیل یوں بیان کرتا ہے کہ ایک طلاق دے کر مہر دے رہا تھا جب اس نے مہر لینے سے انکار کیا تو پھر ایک دیا۔ جبکہ ہندہ یہ کہتی ہے کہ تین طلاق دے کر مہر دے رہا تھا میرے انکار پر ایک طلاق اور دی ۔ زبیدہ اور خالد جو اس وقت وہیں موجود تھے وہ دونوں ہندہ کی تائید کرتے ہیں اب کس کا اعتبار کیا جائے ؟ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ شریعت کو بالائے طاق رکھ کر بچوں کا منہ دیکھو یعنی طلاق شدہ بیوی کو رکھ لو ایسے لوگوں کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــ</strong></span> عام طور پر لوگ تین ہی طلاق دیتے ہیں لیکن جب زید انکار کرتا ہے کہ نہیں میں نے دو طلاق دی ہے تو پہلے اسے سمجھایا جائے کہ اگر تم نے تین طلاق دی ہے تو اقرار کر لو اور اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرو۔ ورنہ اگر واقعی تم نے تین طلاق دی ہے اور ویسے ہی اس کو دوبارہ بیوی بنا کر رکھ لو گے تو تم زندگی بھر حرام کاری میں مبتلا رہو گے اور جتنے بھی بچے تم سے ہوں گے سب حرام ٹھریں گے ۔ اگر زید اس طرح سمجھانے کے باوجود تین طلاق دینے کا اقرار نہ کرے تو اسے حضرت مخدوم صاحب چندریری کے آستانہ پر لے جائیں اور حضرت کے مزار پر اس کا ہاتھ رکھ کر اس سے اس طرح قسم لیں کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق نہیں دی ہے ۔ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مخدوم پاک ہمیں کوڑھی اور اندھا کر دیں اسی طرح تین بار اس سے کہلوائیں ۔ اگر وہ اس طرح قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے تین ہی طلاق دی ہے اسی وجہ سے وہ قسم کھانے سے انکار کر رہا ہے ۔ لہٰذا اس کی زبان سے اقرار کروا لیا جائے کہ ہاں ہم نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے ۔ اگر وہ اس طرح اقرار کر لے تو اس صورت میں ہندہ پر تین طلاقیں پڑ گئی اور وہ اس کے نکاح سے نکل گئی ۔ اب اگر زید ہندہ کو دوبارہ رکھنا چاہیے تو بغیر حلالہ اس کا نکاح ہندہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خدائے تعالی کا فرمان ہے:<span style="color: #ff0000;"><strong>" فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره."</strong></span> اور حلالہ کی صورت یہ ہے کہ ہندہ عدت گزارنے کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح کرے اور وہ اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے پھر وہ طلاق دیدے یا مر جائے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ زید کے نکاح میں آسکتی ہے۔ فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 473 پر ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" ان كان الطلاق ثلاثا لم تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحاً و يدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها كذا في الهدايه.</strong></span> اھ" اگر دوسرے شوہر نے ہمبستری کئے بغیر طلاق دے دی یا مر گیا تو حلالہ صحیح نہ ہوگا کما فی حدیث العسیلۃ۔ البتہ اگر زید مذکورہ طریقے پر قسم کھا لے اور کسی بھی طرح تین طلاق دینے کا اقرار نہ کرے تو شرعا اس کی بات مانی جائے گی اور ہندہ پر تین طلاق واقع ہونے کا حکم نہیں کریں گے بلکہ دو طلاق رجعی کا حکم کریں گے اب حلالہ کی بھی ضرورت نہیں ۔ اور چونکہ ہندہ خود مدعیہ ہے گواہ نہیں اور شرع میں ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی معتبر نہیں تو زبیدہ اور خالد کی گواہی سے بھی ہندہ پر تین طلاق کا حکم نہیں کریں گے۔ خدا تعالی کا ارشاد ہے :" واستشهدوا شهيدين من رجالكم فان لم يكونا رجلين فرجل و امرأتن." ( پ ٣ سورہ بقرہ، آیت ۲۸۲)۔ لہذا اس صورت میں جب تک ہندہ عدت میں ہے زید اس سے رجعت کر سکتا ہے نکاح کی ضرورت نہیں یعنی اتنا کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیر لیا یا اس سے ہمبستری وغیرہ کرے اور اگر عدت گزر گئی ہے تو عورت کی رضا سے نئے مہر کے ساتھ ہندہ سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہیں۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 622 میں ہے۔ اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" ان الکذب فجور وان الفجور یہدی الی النار</strong></span>۔ یعنی جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور فسق و فجور دوزخ میں لے جاتا ہے ۔ ( مشکوٰۃ شریف صفحہ ٤١٢) اور جن لوگوں نے نے یہ کہا کہ شریعت کو بالائے طاق رکھو وہ اسلام سے خارج ہوگئے اور ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں انہی کلمہ پڑھا کر پھر سے مسلمان کیا جائے اور علانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے ۔ اگر وہ ان کو رکھنا چاہتے ہیں تو پھر سے ان کا نکاح پڑھایا جائے اور ان سے عہد لیا جائے کہ آئندہ شریعت کے بارے میں پھر ایسی بات زبان سے نہ نکالیں گے اگر وہ ایسا نہ کریں تو سب مسلمان سختی کے ساتھ ان کا بائیکاٹ کریں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:" و اما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين."(پ۷ ع۱٤) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــــــــہ: محمد ابرار احمد امجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...