Fatwa #1440
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
لکھا طلاق لے طلاق لے تو کون سی طلاق پڑی؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
11,799
سوال (Question):
لکھا طلاق لے طلاق لے تو کون سی طلاق پڑی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
لکھا طلاق لے طلاق لے تو کون سی طلاق پڑی؟
مسئلہ:- از: فاروق احمد تجوری والے ، تجوری گلی ، اندور۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید نے ممبئی سے اپنی بیوی کو ایک تحریر بھیجیں جس میں لکھا کہ طلاق لے لو۔ طلاق لے لو ۔ تو اس کی بیوی پر طلاق پڑی کہ نہیں اگر پڑی تو کونسی طلاق پڑی؟ الجوابــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں تحریر مذکور اگر واقعی شوہر نے لکھی ہے تو اس کی بیوی پر اگر دخولہ ہے تو طلاق رجعی پڑ گئی عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے۔ نکاح کی ضرورت نہیں۔ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ اپنے رسالہ مبارکہ رفیق الاحقاق میں طلاق رجعی کے کلمات کو لکھتے ہوئے نمبر ۱۹ پر تحریر فرماتے ہیں:” طلاق لے ۔ فی رد المختار ۔ خذی طلاقک فقالت اخذت فقد صحح الوقوع بلا اشتراط نية . كما في الفتح . وكذا لا يشترط قولها اخذت ۔ كما في البحر. ( فتاوى رضوية جلد پنجم صفحہ ٥٠٩) الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی کتبــــــــــــــــــــہ: محمد ابرار احمد امجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh