Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1424 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.1K Views

ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟

الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين بیٹی بطور فرض نصف[١/٢] حصہ کی مستحق ہوگی. ارشاد ہے “وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ” (سورہ نساء، آیت : ۱۱) (ترجمہ : اور اگر بیٹی ایک ہے تو اس کےلئے نصف حصہ ہے.) ماں کے لئے ترکہ سے ایک سدس [١/٦] حصہ ہوگا “وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ” (ترجمہ : اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر میت کی کوئی اولاد ہو.) اور بھائی عصبہ بنفسہ ہوگا۔ متوفی کے کل ترکہ کو ٦ حصوں میں تقسیم کریں گے، ٣ بیٹی کو دیں گے، ١ ماں کو اور باقی ٢ حصے بھائی کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2>ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong> </span> بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين بیٹی بطور فرض نصف[١/٢] حصہ کی مستحق ہوگی. ارشاد ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ"</strong></span> (سورہ نساء، آیت : ۱۱) (ترجمہ : اور اگر بیٹی ایک ہے تو اس کےلئے نصف حصہ ہے.) ماں کے لئے ترکہ سے ایک سدس [١/٦] حصہ ہوگا <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ"</strong></span> (ترجمہ : اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر میت کی کوئی اولاد ہو.) اور بھائی عصبہ بنفسہ ہوگا۔ متوفی کے کل ترکہ کو ٦ حصوں میں تقسیم کریں گے، ٣ بیٹی کو دیں گے، ١ ماں کو اور باقی ٢ حصے بھائی کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...