01
The questionSawaal
اصل سوالجس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟
02
The responseAl-Jawab
جس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟
سوال:- جس شخص پر حج فرض ہو مگر اس نے ابھی حج نہ کیا اس سے حج بدل کرانا کیا ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب جس شخص پر حج فرض ہو اور اس نے ابھی حج ادا نہ کیا ہو تو ایسے شخص سے حج بدل کرانا مکروہ تحریمی ہے ۔ بحر الرائق میں ہے ۔ “أنه يجوز احجاج الصرورة وهو الذى لم يحج أولا عن نفسه لكنه مكروه كما صرحوا به-واختار فى فتح القدير أنها كراهة تحريم للنهى الوارد فى ذالك”(ج ۳ ص ۱۲۲ تا ۱۲۳) اور نھر الفائق میں ہے ۔ “فيكره احجاج المرأة-والصرورة لأنه تارك فرض ،ملتقطا”(ج ۲ ص ۱۶۴) اور فتاوی رضویہ میں ہے “اور اگر خود ان پر حج فرض ہولیا ہو تو یہ دوسرے کی طرف سے حج کرنے سے گنہگار ہوں گے مگر حج جس کی طرف سے کریں گے ادا ہوجائے گا ان پر گناہ رہے گا اور ایسی صورت میں ان سے حج غیر کرانا بھی مکروہ ہے کہ ایک گناہ کا حکم دینا ہے زیادہ حد ادب”(ج ۴ ص ۶۶۳) والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.