Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1430 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.8K Views

کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟

سوال:- کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب جب کوئی مسلمان کسی کلمہ گو کو کافر کہے اور وہ کافر نہ تھا آیا وہ قائل خود کافر ہوگا یا نہیں تو اس میں دو صورتیں ہیں اگر کہنے والا اسے مسلمان جانتا ہے اور بطور گالی اسے کافر کہا تو کفر کہنے والے پر نہ پلٹے گا اور اگر کہنے والا اسے کافر اعتقاد کرتا ہے تو کفر کہنے والے پر پلٹے گا کیونکہ مسلمان کو کافر جاننا دین اسلام کو کفر جاننا ہے اور دین اسلام کو کفر جاننا کفر ہے ۔ ہاں اگر اس میں کوئی ایسی بات پائی جاتی تھی جس کی بنا پر تکفیر ہوسکے اور اس نے اسے کافر کہا اور کافر جانا تو قائل کافر نہ ہوگا ۔ یہ اس صورت میں ہے کہ وہ وجہ جس کی بنا پر قائل نے کافر کہا ظنی ہو یعنی اس میں تاویل کی گنجائش ہو تو وہ مسلمان ہی کہلائے گا اس صورت میں قائل بھی کافر نہ ہوگا ۔ اور اگر اس میں قطعی طور پر کفر پایا جائے جس میں کسی طرح تاویل نہ ہوسکے تو وہ مسلمان ہی نہیں اور بیشک وہ کافر ہے اور اس کو کافر کہنا مسلمان کو کافر کہنا نہیں بلکہ کافر کو ہی کافر کہنا ہے بلکہ ایسے شخص کو مسلمان جاننا یا اس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ در مختار میں ہے “وعزر الشاتم بياكافر وهل يكفر ان اعتقد المسلم كافرا ؟ نعم،والا لا،به يفتى “(ج ۶ ص ۱۱۶) اور رد المحتار میں ہے ۔” لأنه لما اعتقد المسلم كافرا فقد اعتقد دين الاسلام كفرا”(ج ۶ ص ۱۱۶) اور نھر الفائق میں ہے ” وفي “الذخيرة” المختار للفتوى أنه اذا اراد الشتم ولا يعتقده كفرا لا يكفر وان اعتقد كفرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر لأنه لما اعتقد المسلم فقد اعتقد دين الاسلام كفر”(ج ۳ ص ۱۶۸ تا ۱۶۹) اور اعلحضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: “جو قول باطل دوسرے کو کہا جائے اسکا وبال قائل پر آتا ہے بعینہ وہی قول پلٹنا مطلق نہیں کسی کو ناحق گدھا کہنے سے قائل گدھا نہ ہو جائے گا”(فتاوی رضویہ ج ۹ ص ۴۷۲) اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں : ” ہاں اگر اس شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی بنا پر تکفیر ہوسکے اور اس نے اسے کافر کہا اور کافر جانا تو کافر نہ ہوگا-یہ اس صورت میں ہے کہ وہ وجہ جس کی بنا پر اس نے کافر کہا ظنی ہو یعنی تاویل ہوسکے تو وہ مسلمان ہی کہا جائے گا مگر جس نے اسے کافر کہا وہ بھی کافر نہ ہوا-اور اگر اس میں قطعی کفر پایا جاتا ہے جو کسی طرح تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تو وہ مسلمان ہی نہیں اور بیشک وہ کافر ہے اور اسکو کافر کہنا مسلمان کو کافر کہنا نہیں بلکہ کافر کو کافر کہنا ہے بلکہ ایسے کو مسلمان جاننا یا اسکے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے”(ج ۲ ح ۹ ص ۴۰۸/مکتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحیح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاو درس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h2>کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟</h2> سوال:- کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟ باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب</strong></span> جب کوئی مسلمان کسی کلمہ گو کو کافر کہے اور وہ کافر نہ تھا آیا وہ قائل خود کافر ہوگا یا نہیں تو اس میں دو صورتیں ہیں اگر کہنے والا اسے مسلمان جانتا ہے اور بطور گالی اسے کافر کہا تو کفر کہنے والے پر نہ پلٹے گا اور اگر کہنے والا اسے کافر اعتقاد کرتا ہے تو کفر کہنے والے پر پلٹے گا کیونکہ مسلمان کو کافر جاننا دین اسلام کو کفر جاننا ہے اور دین اسلام کو کفر جاننا کفر ہے ۔ ہاں اگر اس میں کوئی ایسی بات پائی جاتی تھی جس کی بنا پر تکفیر ہوسکے اور اس نے اسے کافر کہا اور کافر جانا تو قائل کافر نہ ہوگا ۔ یہ اس صورت میں ہے کہ وہ وجہ جس کی بنا پر قائل نے کافر کہا ظنی ہو یعنی اس میں تاویل کی گنجائش ہو تو وہ مسلمان ہی کہلائے گا اس صورت میں قائل بھی کافر نہ ہوگا ۔ اور اگر اس میں قطعی طور پر کفر پایا جائے جس میں کسی طرح تاویل نہ ہوسکے تو وہ مسلمان ہی نہیں اور بیشک وہ کافر ہے اور اس کو کافر کہنا مسلمان کو کافر کہنا نہیں بلکہ کافر کو ہی کافر کہنا ہے بلکہ ایسے شخص کو مسلمان جاننا یا اس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ در مختار میں ہے "وعزر الشاتم بياكافر وهل يكفر ان اعتقد المسلم كافرا ؟ نعم،والا لا،به يفتى "(ج ۶ ص ۱۱۶) اور رد المحتار میں ہے ۔" لأنه لما اعتقد المسلم كافرا فقد اعتقد دين الاسلام كفرا"(ج ۶ ص ۱۱۶) اور نھر الفائق میں ہے " وفي "الذخيرة" المختار للفتوى أنه اذا اراد الشتم ولا يعتقده كفرا لا يكفر وان اعتقد كفرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر لأنه لما اعتقد المسلم فقد اعتقد دين الاسلام كفر"(ج ۳ ص ۱۶۸ تا ۱۶۹) اور اعلحضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: "جو قول باطل دوسرے کو کہا جائے اسکا وبال قائل پر آتا ہے بعینہ وہی قول پلٹنا مطلق نہیں کسی کو ناحق گدھا کہنے سے قائل گدھا نہ ہو جائے گا"(فتاوی رضویہ ج ۹ ص ۴۷۲) اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں : " ہاں اگر اس شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی بنا پر تکفیر ہوسکے اور اس نے اسے کافر کہا اور کافر جانا تو کافر نہ ہوگا-یہ اس صورت میں ہے کہ وہ وجہ جس کی بنا پر اس نے کافر کہا ظنی ہو یعنی تاویل ہوسکے تو وہ مسلمان ہی کہا جائے گا مگر جس نے اسے کافر کہا وہ بھی کافر نہ ہوا-اور اگر اس میں قطعی کفر پایا جاتا ہے جو کسی طرح تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تو وہ مسلمان ہی نہیں اور بیشک وہ کافر ہے اور اسکو کافر کہنا مسلمان کو کافر کہنا نہیں بلکہ کافر کو کافر کہنا ہے بلکہ ایسے کو مسلمان جاننا یا اسکے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے"(ج ۲ ح ۹ ص ۴۰۸/مکتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاو درس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...