Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1431
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.9K Views
آنکھ و گردہ بینک کو دینے کی وصیت کرنا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
آنکھ و گردہ بینک کو دینے کی وصیت کرنا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
آنکھ و گردہ بینک کو دینے کی وصیت کرنا کیسا ہے؟
سوال : بکر اپنی زندگی ہی میں یہ وصیت کر جاتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی آنکھیں یا گردہ آنکھ بینک اور گردہ بینک کو تحفتہ عنایت کر دیں کیونکہ وہ اور کسی ضرورت مند کو جس کی آنکھ چلی گئی اور گردہ فیل ہو گیا ہوں کام آئے اور وہ ثواب ٹھہر ے تو کیا ازروئے شرع ایسا کر سکتے ہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ بکر کا اپنی زندگی میں اس طرح کی وصیت کرنا اور بعد موت اس کی وصیت کے مطابق اس کی آنکھیں یاگردہ یا کسی دوسرے عضو کو نکالنا درست نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا انسانی عظمت و تکریم کے خلاف ہے. جب کہ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو تمام مخلوقات سے افضل و اکرم بنایا ہے ۔ قرآن کریم میں ہے ” وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا” اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات سے افضل کیا (سورہ بنی اسرائیل 70) علاوہ ازیں مسلم میت کے کسی عضو کو نکالنے میں اسے ایذاء وتکلیف پہنچانا ہے جو ناجائز و حرام ہے. حدیث شریف میں ہے ” من آذی مسلمان فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ” (کنزالعمال جلد 16 صفحہ 10 حدیث نمبر 43 ہزار 703) واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی علیمی
Kutubahu & Verified by:
<h2>آنکھ و گردہ بینک کو دینے کی وصیت کرنا کیسا ہے؟</h2> سوال : بکر اپنی زندگی ہی میں یہ وصیت کر جاتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی آنکھیں یا گردہ آنکھ بینک اور گردہ بینک کو تحفتہ عنایت کر دیں کیونکہ وہ اور کسی ضرورت مند کو جس کی آنکھ چلی گئی اور گردہ فیل ہو گیا ہوں کام آئے اور وہ ثواب ٹھہر ے تو کیا ازروئے شرع ایسا کر سکتے ہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> بکر کا اپنی زندگی میں اس طرح کی وصیت کرنا اور بعد موت اس کی وصیت کے مطابق اس کی آنکھیں یاگردہ یا کسی دوسرے عضو کو نکالنا درست نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا انسانی عظمت و تکریم کے خلاف ہے. جب کہ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو تمام مخلوقات سے افضل و اکرم بنایا ہے ۔ قرآن کریم میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>" وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا"</strong></span> اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات سے افضل کیا (سورہ بنی اسرائیل 70) علاوہ ازیں مسلم میت کے کسی عضو کو نکالنے میں اسے ایذاء وتکلیف پہنچانا ہے جو ناجائز و حرام ہے. حدیث شریف میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>" من آذی مسلمان فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ"</strong> </span>(کنزالعمال جلد 16 صفحہ 10 حدیث نمبر 43 ہزار 703) واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی علیمی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...