Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1432 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13K Views

عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟

سوال : والدہ اگر اپنی حیات میں شرعاً وصیت کرنا چاہے تو کس طرح وصیت کرے ۔ اور وفات کے بعد جس کے نام وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کیا جائے گا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــ اگر کوئی عورت اپنی زندگی میں کسی کے لیے وصیت کرنا چاہے تو کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ وصیّت تہائی مال کی ہو اور وہ کسی وارث کے لئے نہ ہو تو یہ جائز ہے ورنہ نہیں. ہدایہ آخرین میں صفحہ 654 پر ہے “لا تجوز بما زاد علی الثلث ١ھ. اور لا تجوز لوارثہ. ” ١ھ. اسی میں صفحہ 607 پر ہے لقولہ علیہ السلام” لا وصیۃ لوارث ” اگر کوئی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کر دے تو بھی وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہوگی البتہ عاقل بالغ ورثہ مرنے کے بعد تہائی مال سے زیادہ کی اجازت دے دیں تو جائز ہے. عالمگیری جلد 6 صفحہ ٩٠ پر ہے  “لا تجوز بما زاد علی الثلث الا ان یجیزہ الورثۃ بعد موتہ وھم کبار ١ھ. البتہ وصیت میراث پر مقدم ہے اسلئے پہلے وصیت کی ادائیگی کی جائے گی پھر ما بقیہ مال ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا. درمختار جلد 6 صفحہ 760 پر ہے ” تقدم وصیتہ من ثلث ما بقی ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ١ھ. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد اجمل حسین بلرام پوری

Kutubahu & Verified by:

<h2>عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟</h2> سوال : والدہ اگر اپنی حیات میں شرعاً وصیت کرنا چاہے تو کس طرح وصیت کرے ۔ اور وفات کے بعد جس کے نام وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کیا جائے گا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــ</strong></span> اگر کوئی عورت اپنی زندگی میں کسی کے لیے وصیت کرنا چاہے تو کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ وصیّت تہائی مال کی ہو اور وہ کسی وارث کے لئے نہ ہو تو یہ جائز ہے ورنہ نہیں. ہدایہ آخرین میں صفحہ 654 پر ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"لا تجوز بما زاد علی الثلث ١ھ. اور لا تجوز لوارثہ. ''</strong></span> ١ھ. اسی میں صفحہ 607 پر ہے لقولہ علیہ السلام<span style="color: #ff0000;"><strong>" لا وصیۃ لوارث ''</strong></span> اگر کوئی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کر دے تو بھی وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہوگی البتہ عاقل بالغ ورثہ مرنے کے بعد تہائی مال سے زیادہ کی اجازت دے دیں تو جائز ہے. عالمگیری جلد 6 صفحہ ٩٠ پر ہے  <span style="color: #ff0000;"><strong>"لا تجوز بما زاد علی الثلث الا ان یجیزہ الورثۃ بعد موتہ وھم کبار</strong></span> ١ھ. البتہ وصیت میراث پر مقدم ہے اسلئے پہلے وصیت کی ادائیگی کی جائے گی پھر ما بقیہ مال ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا. درمختار جلد 6 صفحہ 760 پر ہے " تقدم وصیتہ من ثلث ما بقی ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ١ھ. واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد اجمل حسین بلرام پوری</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...