Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1440 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.9K Views

معلمہ حیض و نفاس میں قرآن پاک کا ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

معلمہ حیض و نفاس میں قرآن پاک کا ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

معلمہ حیض و نفاس میں قرآن پاک کا ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے

سوال : عورت کو شرعی عذر ہو یعنی حیض یا نفاس والی ہو تو قرآن پڑھا سکتی ہے یانہیں ؟ المستفتیہ مدیحہ فاطمہ الجواب بعون الملک الوھاب پڑھا سکتی ہے جبکہ ایک ایک کلمہ سانس توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ بحوالہ حلیہ تحریر فرماتے ہیں: “اذا حاضت المعلمۃ فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ وتقطع بین کلمتین “ اھ ( فتاوی رضویہ جدید جلد ١ حصہ ٢ صفحہ١٠٩٢ ، رسالہ ارتفاع الحجب عن وجوہ قرأۃ الجنب) یعنی: جب معلمہ حائض ہو تو اسے چاہئے کہ بچوں کو ایک ایک کلمہ سکھائے اور دوکلموں کے درمیان فصل کردے بہار شریعت میں ہے:” معلمہ کو حیض یانفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر قرآن پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں ” اھ (حصہ٢ صفحہ٣٨٩ کتاب الطہارۃ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبــــــــہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>معلمہ حیض و نفاس میں قرآن پاک کا ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے</h3> سوال : عورت کو شرعی عذر ہو یعنی حیض یا نفاس والی ہو تو قرآن پڑھا سکتی ہے یانہیں ؟ المستفتیہ مدیحہ فاطمہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> پڑھا سکتی ہے جبکہ ایک ایک کلمہ سانس توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ بحوالہ حلیہ تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"اذا حاضت المعلمۃ فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ وتقطع بین کلمتین "</strong></span> اھ ( فتاوی رضویہ جدید جلد ١ حصہ ٢ صفحہ١٠٩٢ ، رسالہ ارتفاع الحجب عن وجوہ قرأۃ الجنب) یعنی: جب معلمہ حائض ہو تو اسے چاہئے کہ بچوں کو ایک ایک کلمہ سکھائے اور دوکلموں کے درمیان فصل کردے بہار شریعت میں ہے:" معلمہ کو حیض یانفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر <a href="https://masailworld.com/quran-ka-urdu-ya-farsi-tarjuma-sunne-ka-hukm/"><strong>قرآن</strong> </a>پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں " اھ (حصہ٢ صفحہ٣٨٩ کتاب الطہارۃ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...