Fatwa #1461
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
حیض نہ آتا ہو تو عورت عدت کیسے گزارے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
4,078
سوال (Question):
حیض نہ آتا ہو تو عورت عدت کیسے گزارے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حیض نہ آتا ہو تو عورت عدت کیسے گزارے؟
سوال : ہندہ کو اپنی پوری عمر میں حیض آیا ہی نہیں قدرت خداوندی سے اس کے پاس چار اولادیں ہیں طلاق کے بعد عدت گزارنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــ مدخولہ عورت جس سے صحبت ہو چکی ہو اور اسے حیض نہیں آتا چاہے کسی وجہ سے نہیں آتا اس کی عدت تین مہینہ ہے. لہذا ہندہ اگر بعد طلاق تین مہینہ انتظار کر چکی تو اس کی عدت پوری ہوچکی. قرآن عظیم پارہ 28 سورہ طلاق میں ہے ” وَ اللئ یَىٕسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآىٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍۙ- وَّ اﻼ لَمْ یَحِضْنَؕ – فتاوی قاضی خان میں ہے” لو کانت المطلقۃ صغیرۃ او آیسۃ وھی حرۃ فعدتھا ثلثۃ اشھر “ ١ھ. ایسا ہی بہارشریعت حصہ 8 صفحہ 123 میں بھی ہے. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh