Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

ضرورت کے تحت داڑھی منڈانا جائز ہے؟ از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

ضرورت کے تحت داڑھی منڈانا جائز ہے؟ از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Reference 1443 September 18, 2025 4,181 views
اصل سوالضرورت کے تحت داڑھی منڈانا جائز ہے؟ از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

ضرورت کے تحت داڑھی منڈانا جائز ہے؟

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان اسلام مسئلہ ذیل میں زید فی الوقت مدرسے کا مدرس ہے زید کو کچھ سال پہلے کینسر کی بیماری لاحق ہوئی تو ڈاکٹر نے آپریشن کے لئے کہا اور ساتھ میں یہ کہاکہ پوری داڑھی نکالنی پڑے گی ورنہ آپریشن نہیں ہو پائیگا بوجہ بیماری زید نے پوری داڑھی نکلوادی ۔ آپریشن ہوا ڈاکٹر اپنے کام میں کامیاب ہوۓ زید کو اللہ تعالیٰ نے بطفیل سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم شفاء عطا فرمائ بعدہُ آپریشن آج تک زید نے اپنے داڑھی کے ایک بال بھی نہ کاٹے شرعی طور پر داڑھی کی جو مقدار ہے وہ ان کے چہرے پر موجود ہے تو ایسے شخص کو امام بنانا اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہو گی ۔ فقط والسلام، سائل محمد جمال احمد خان کھمریا یوپی الجواب بعون الملک الوھاب زید نے اگر مجبوری میں علاج کے لئے کسی مسلمان ماہر فن ڈاکٹر غیر ظاہر الفسق کے کہنے پر داڑھی منڈائی تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ نہ ہی وہ فاسق کہلائے گا. پھر اگر کوئی غیر قابل قبول عذر کی بنا پر داڑھی منڈالے تو سخت گناہ گار ہے۔لیکن اگر سچی توبہ کے بعد اصلاحِ حال کرلے اور داڑھی حدِ شرع تک بڑھالے تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔جب کہ اور کوئی خرابی یا مانع امامت چیز نہ ہو۔ قرآن مجید میں ہے : لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ(البقرۃ:٢٨٦) اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے ۔ کسی جان نے جو اچھاکمایا وہ اسی کیلئے ہے اور کسی جان نے جو برا کمایا اس کا وبال اسی پر ہے. تفسیر قرطبی میں اسی آیت کے تحت ہے: “قوله تعالى : لا يكلف الله نفسا إلا وسعها، التكليف هو الأمر بما يشق عليه، وتكلفت الأمر تجشمته ، حكاه الجوهري . والوسع : الطاقة والجدة . وهذا خبر جزم . نص الله تعالى على أنه لا يكلف العباد من وقت نزول الآية عبادة من أعمال القلب أو الجوارح إلا وهي في وسع المكلف وفي مقتضى إدراكه وبنيته. حدیث شریف میں ہے : ما كلف الله نفسا فوق طاقتها ولا تجود يد إلا بما تجد(تفسیر قرطبی زیر آیت :لا یکلف ﷲنفسا الا وسعھا) فقہ کا مشہور قاعدہ ہے : “الحرج مدفوع بالنص ۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “وَلَوْ حَلَقَتْ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا فَإِنْ فَعَلَتْ لِوَجَعٍ أَصَابَهَا لَا بَأْسَ بِهِ ، وَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ تَشَبُّهًا بِالرَّجُلِ فَهُوَ مَكْرُوهٌ كَذَا فِي الْكُبْرَى” (فتاوی عالم گیری، کتاب الکراہیة، الباب التاسع عشر) بہار شریعت ح ١٦ ص ۴۵١ پر ہے: “عمل دینے کی ضرورت ہو تو مرد مرد کے موضع حقنہ کی طرف نظر کرسکتا ہے یہ بھی بوجہ ضرورت جائز ہے۔” واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢١رجب ١٤٤٣/ ٢٣ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.