Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1453
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5.3K Views
نکاح کی انگوٹھی جو بغیر نگ کی ہو اس کا لینا دینا اور پہننا کیساہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
نکاح کی انگوٹھی جو بغیر نگ کی ہو اس کا لینا دینا اور پہننا کیساہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نکاح کی انگوٹھی جو بغیر نگ کی ہو اس کا لینا دینا اور پہننا کیساہے ؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ سوال شادی میں جو نکاح کی انگوٹھی دی جاتی ہے اس کو کہتے ہیں نکاح والی انگوٹھی اس میں نگ نہیں ہوتاہے کیا اس کو پہن سکتے ہیں یا نہیں اس کو لینا دینا ضروری ہے کیا جواب جلدی عنایت فرمائیں بھائی آپ کی عین نوازش ہوگی ۔ المستفتی محمد شاہد رضا جگنناتھ پور ضلع بہرائچ شریف یوپی انڈیا۔ وعلیکم السلام و رحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب نکاح کے موقع پر دولہا کو انگوٹھی دینا شرعاً ضروری نہیں کہ بے انگوٹھی کے بھی نکاح ہوجائے گا ہاں یہ تحفہ ہے اور تحفہ لینے اور دینے سے محبت بڑھتی ہے حدیث پاک میں ہے: ” تَهَادوا تَحَابُّوا “ (موطا امام مالک، ماجاء فی المصافحۃ، رقم الحدیث ٢٦٤١) لہذا اس موقع پر دولہا کو تحفۃً چاندی کی انگوٹھی دینا بہتر ہے لیکن وہ ساڑھے چار ماشہ سے کم ایک نگ کی ہو کہ یہی مرد کے لئے جائز ہے بغیر نگ کی ہو تو مرد اسے نہیں پہن سکتا کہ بے نگ کی انگوٹھی، انگوٹھی نہیں چھلا ہے اور چھلا چاندی یا سونے کا ہوتو عورت پہن سکتی ہے مرد کو اجازت نہیں کہ خاص لباس زنان ہونے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” چاندی کا چھلا خاص لباس زنان ہے مردوں کو مکروہ ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ٢٢ ص١٣٠ کتاب الحظر والاباحۃ) اور حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال ہوا مردوں کو چاندی کا چھلا ہاتھ یا پاؤں میں پہننا کیسا ہے جواباً تحریر فرمایا: “حرام ہے، فقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الذھب والفضۃ انھما محرمان علی ذکور امتہ قلت ولایجوز القیاس علی خاتم الفضۃ لانہ لایختص بالنساء بخلاف مانحن فیہ فینھی عنہ الاتری الی مافی ردالمحتار عن شرح النقایۃ انما یجوز التختم بالفضۃ لو علی ھیئۃ خاتم الرجال امالو لہ فصان اواکثر حرم انتہی ولان الخاتم یکون للتزین وللختم اما ھذا فلاشیئ فیہ الاالتزین وقد قال فی الدرالمختار لایتحلی الرجل بفضۃ الا بخاتم اذا لم یرد بہ التزین اھ ملخصا۔ وفی الکفایۃ قولہ الا بالخاتم ھذا اذا لم یرد بہ التزیین ” اھ(فتاوی رضویہ مترجم جلد ٢٢ ص١٤٧ کتاب الحظر والاباحۃ) یعنی سونے چاندی کے متعلق حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔ (اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:) میں کہتاہوں اس کو چاندی کی انگوٹھی پرقیاس کرنا جائز نہیں (کہ یہ جائزہے تو وہ بھی جائز ہونا چاہئے) کیونکہ چاندی کی انگوٹھی عورتوں کے ساتھ مختص نہیں بخلاف اس کے جس کی ہم بحث کررہے ہیں (یعنی چاندی کا چھلا )کہ اس سے مردوں کو منع کیا جا ئے گا کیا تم اس کی طرف نہیں دیکھتے جو فتاوی شامی میں شرح نقایہ کے حوالے سے آیا ہے کہ چاندی کی انگوٹھی پہننا اگر مردانہ ہیئت کے مطابق ہو تو جائز ہے لیکن اگر اس کے دو یا دوسے زائد نگینے ہوں تو حرام ہے اور اس لئے کہ انگوٹھی زیب وزینت اورمہر کے لئے ہوا کرتی ہے لیکن چھلے میں زیب وزینت کے علاوہ کوئی مقصدباقی نہیں رہتا حالانکہ درمختار میں فرمایا کہ مرد سوائے انگوٹھی کے چاندی کا کوئی زیور نہ پہنے اور اس سے بھی زیب وزینت مراد نہ ہو، تلخیص پوری ہوگئی، کفایہ میں ہے کہ مصنف کا یہ کہنا ”الا بالخاتم” اس استشہاد کا جواز اس وقت ہے جبکہ انگوٹھی پہننے سے زیب وزینت کا ارادہ نہ ہو۔ مفتی وقار الدین تحریر فرماتے ہیں:” مرد کے لئے ایک چاندی کی انگوٹھی ان شرائط کے ساتھ جائز ہے کہ چاندی کا وزن ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور اس میں نگ بھی ضرور ہو نگ ایک ہی ہونا چاہئے اگر دو نگ لگے ہوں تو ناجائز ہوگی ” اھ (وقار الفتاوی ج٢ ص١٩٠ کتاب الصلاۃ باب الامامۃ) البتہ بغیر نگ کی انگوٹھی مرد کو تحفۃً دی جائے تو قبول کرسکتا ہے جیساکہ حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک ریشمی جبہ بھیجا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے( ایک دن ) پہنے ہوئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو، اسے تو وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ میں نے تو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ کر فائدہ اٹھاؤ۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ أَوْ سِيَرَاءَ ، فَرَآهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ، إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا يَعْنِي تَبِيعَهَا ” (صحيح البخاري كتاب البيوع، رقم الحديث ٢١٠٤) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ ٢١ رجب المرجب ١٤٤٣ھ مطابق ٢٣فروری ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h3>نکاح کی انگوٹھی جو بغیر نگ کی ہو اس کا لینا دینا اور پہننا کیساہے ؟</h3> السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ سوال شادی میں جو نکاح کی انگوٹھی دی جاتی ہے اس کو کہتے ہیں نکاح والی انگوٹھی اس میں نگ نہیں ہوتاہے کیا اس کو پہن سکتے ہیں یا نہیں اس کو لینا دینا ضروری ہے کیا جواب جلدی عنایت فرمائیں بھائی آپ کی عین نوازش ہوگی ۔ المستفتی محمد شاہد رضا جگنناتھ پور ضلع بہرائچ شریف یوپی انڈیا۔ وعلیکم السلام و رحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> نکاح کے موقع پر دولہا کو انگوٹھی دینا شرعاً ضروری نہیں کہ بے انگوٹھی کے بھی نکاح ہوجائے گا ہاں یہ تحفہ ہے اور تحفہ لینے اور دینے سے محبت بڑھتی ہے حدیث پاک میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>" تَهَادوا تَحَابُّوا "</strong></span> (موطا امام مالک، ماجاء فی المصافحۃ، رقم الحدیث ٢٦٤١) لہذا اس موقع پر دولہا کو تحفۃً چاندی کی انگوٹھی دینا بہتر ہے لیکن وہ ساڑھے چار ماشہ سے کم ایک نگ کی ہو کہ یہی مرد کے لئے جائز ہے بغیر نگ کی ہو تو مرد اسے نہیں پہن سکتا کہ بے نگ کی انگوٹھی، انگوٹھی نہیں چھلا ہے اور چھلا چاندی یا سونے کا ہوتو عورت پہن سکتی ہے مرد کو اجازت نہیں کہ خاص لباس زنان ہونے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: " چاندی کا چھلا خاص لباس زنان ہے مردوں کو مکروہ " اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ٢٢ ص١٣٠ کتاب الحظر والاباحۃ) <strong>اور حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال ہوا مردوں کو چاندی کا چھلا ہاتھ یا پاؤں میں پہننا کیسا ہے جواباً تحریر فرمایا: "حرام ہے، فقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الذھب والفضۃ انھما محرمان علی ذکور امتہ قلت ولایجوز القیاس علی خاتم الفضۃ لانہ لایختص بالنساء بخلاف مانحن فیہ فینھی عنہ الاتری الی مافی ردالمحتار عن شرح النقایۃ انما یجوز التختم بالفضۃ لو علی ھیئۃ خاتم الرجال امالو لہ فصان اواکثر حرم انتہی ولان الخاتم یکون للتزین وللختم اما ھذا فلاشیئ فیہ الاالتزین وقد قال فی الدرالمختار لایتحلی الرجل بفضۃ الا بخاتم اذا لم یرد بہ التزین اھ ملخصا۔ وفی الکفایۃ قولہ الا بالخاتم ھذا اذا لم یرد بہ التزیین " اھ(فتاوی رضویہ مترجم جلد ٢٢ ص١٤٧ کتاب الحظر والاباحۃ)</strong> یعنی سونے چاندی کے متعلق حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔ (اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:) میں کہتاہوں اس کو چاندی کی انگوٹھی پرقیاس کرنا جائز نہیں (کہ یہ جائزہے تو وہ بھی جائز ہونا چاہئے) کیونکہ چاندی کی انگوٹھی عورتوں کے ساتھ مختص نہیں بخلاف اس کے جس کی ہم بحث کررہے ہیں (یعنی چاندی کا چھلا )کہ اس سے مردوں کو منع کیا جا ئے گا کیا تم اس کی طرف نہیں دیکھتے جو فتاوی شامی میں شرح نقایہ کے حوالے سے آیا ہے کہ چاندی کی انگوٹھی پہننا اگر مردانہ ہیئت کے مطابق ہو تو جائز ہے لیکن اگر اس کے دو یا دوسے زائد نگینے ہوں تو حرام ہے اور اس لئے کہ انگوٹھی زیب وزینت اورمہر کے لئے ہوا کرتی ہے لیکن چھلے میں زیب وزینت کے علاوہ کوئی مقصدباقی نہیں رہتا حالانکہ درمختار میں فرمایا کہ مرد سوائے انگوٹھی کے چاندی کا کوئی زیور نہ پہنے اور اس سے بھی زیب وزینت مراد نہ ہو، تلخیص پوری ہوگئی، کفایہ میں ہے کہ مصنف کا یہ کہنا ''الا بالخاتم'' اس استشہاد کا جواز اس وقت ہے جبکہ انگوٹھی پہننے سے زیب وزینت کا ارادہ نہ ہو۔ مفتی وقار الدین تحریر فرماتے ہیں:" مرد کے لئے ایک چاندی کی انگوٹھی ان شرائط کے ساتھ جائز ہے کہ چاندی کا وزن ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور اس میں نگ بھی ضرور ہو نگ ایک ہی ہونا چاہئے اگر دو نگ لگے ہوں تو ناجائز ہوگی " اھ (وقار الفتاوی ج٢ ص١٩٠ کتاب الصلاۃ باب الامامۃ) البتہ بغیر نگ کی انگوٹھی مرد کو تحفۃً دی جائے تو قبول کرسکتا ہے جیساکہ حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک ریشمی جبہ بھیجا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے( ایک دن ) پہنے ہوئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو، اسے تو وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ میں نے تو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ کر فائدہ اٹھاؤ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ أَوْ سِيَرَاءَ ، فَرَآهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ، إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا يَعْنِي تَبِيعَهَا " (صحيح البخاري كتاب البيوع، رقم الحديث ٢١٠٤)</strong></span> واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong> <strong>٢١ رجب المرجب ١٤٤٣ھ مطابق ٢٣فروری ٢٠٢٢ء</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...