Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

قضا نماز کن وقتوں میں پڑھنا چاہئے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی

قضا نماز کن وقتوں میں پڑھنا چاہئے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی
Reference 1457 September 18, 2025 5,771 views
اصل سوالقضا نماز کن وقتوں میں پڑھنا چاہئے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی

قضا نماز کن وقتوں میں پڑھنا چاہئے ؟ اذان جمعہ کے بعد گھر یا مسجد میں قضاء یانفل پڑھنا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ (١) زید کی پانچ سال کی نمازیں چھوٹ گئی ہیں اب وہ ان نمازوں کی قضا کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ فجر کے وقت فجر کی ظہر کے وقت ظہر کی عصر کے وقت عصر کی اسی طریقے سے قضا کرے ؟ (٢) نیز کیا فجر اور عصر کے وقت میں عشاء یا ظہر کی نماز یا عشاء اور ظہر کے وقت میں فجر یا عصر کی قضا کر سکتا یا نہیں ؟ (٣) جمعہ کی اذان کے بعد جمعہ کے فرض سے پہلے مسجد یا گھر میں قضا یا نفل پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب عنایت فرمائیں عین مہربانی ہوگی الجواب بعون الملک الوھاب (١-٢) قضاء نماز کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کوئی بھی نماز کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے جبکہ وقت تنگ نہ ہو سوائے تین اوقاتِ مکروہہ کے ( یعنی سورج طلوع ہونے سے لے کر تقریباً ٢٠ منٹ بعد تک، سورج غروب ہونے کے وقت سے تقریباً ٢٠ منٹ پہلے کا دورانیہ اور ضحوۂ کبری یعنی نصف النہارِ شرعی سے لے کر سورج ڈھلنے تک، جسے عوام زوال کے نام سے جانتی ہے ) کہ ان میں قضا نمازیں ادا کرنا، جائز نہیں۔ صحیح بخاری و مسلم، مسند امام احمد ،المعجم الاوسط اور دیگر کتبِ احادیث میں ہے:واللفظ للمعجم:’’ عن أبي هريرة رضي اللّه تعالى عنه ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن الصلاۃ فی ثلاث ساعات عند طلوع الشمس حتی تطلع ونصف النھار وعند غروب الشمس‘‘ اھ(المعجم الاوسط للطبرانی، ج٥ ص٥٣، رقم الحديث ٤٦٥٠ مطبوعہ دار الحرمین) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین اوقات میں نمازپڑھنے سے منع فرمایا۔ سورج طلوع ہونے کے وقت حتی کہ (اچھی طرح) طلوع ہو جائے، نصف النہار اور غروبِ آفتاب کے وقت۔ علامہ شیخ حسن بن عمار بن علی شرنبلالی تحریر فرماتے ہیں: ’’ثلاثۃ اوقات لا یصح فیھا شیء من الفرائض والواجبات التی لزمت فی الذمۃ قبل دخولھا، عند طلوع الشمس الی ان ترتفع و عند استوائھا الی ان تزول وعند اصفرارھا الی ان تغرب‘‘اھ (مراقی الفلاح بامداد الفتاح شرح نور الایضاح، کتاب الصلاۃ ص٧٣ ، دارالکتب العلمیۃ) یعنی: تین اوقات وہ ہیں، جن میں ایسے فرائض و واجبات ادا کرنا درست نہیں ، جو ان اوقات کے داخل ہونے سے قبل لازم ہو گئے تھے، (وہ تین اوقات یہ ہیں) سورج طلوع ہونے سے لے کر بلند ہونے تک، وقتِ استواء سے سورج ڈھلنے تک اور سورج کے زرد ہونے سے لے کر غروب ہونے تک۔ بدائع الصنائع میں ہے: ليس للقضاء وقت معين بل جميع الاوقات وقت له الا ثلاثة: وقت طلوع الشمس ووقت الزوال ووقت الغروب، فانه لا يجوز القضاء في هذه الاوقات لما مر ان من شان القضاء ان يكون مثل الفائت والصلاة في هذه الاوقات تقع ناقصة والواجب في ذمته كامل، فلا ينوب الناقص عنه‘‘اھ (جلد١ صفحہ٢٤٦ کتاب الصلاۃ، دار الکتب العلمیہ) یعنی: قضا ء نماز کے لیے کوئی وقت معین نہیں ہے، بلکہ تمام اوقات میں(جس وقت چاہیں) پڑھ سکتے ہیں، سوائے تین اوقات کے، یعنی طلوعِ شمس، زوال اور غروب کے وقت کہ ان اوقات میں قضا نماز پڑھنا جائز نہیں ، جیسا کہ گزرا کہ قضا کی ادائیگی فوت ہونے والی نماز کی مثل ہونی چاہئے اور ان اوقات میں نماز ناقص ہوتی ہے، جبکہ اس کے ذمے کامل نماز واجب ہوئی تھی، لہذا ناقض اس کے قائم مقام نہیں ہو گی۔ بہار شریعت میں ہے:’’اوقاتِ مکروہہ: طلوع و غروب و نصف النہار، ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں، نہ فرض، نہ واجب، نہ نفل، نہ ادا، نہ قضا، یوہیں سجدۂ  تلاوت و سجدۂ سہو بھی ناجائز ہے، البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ،مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ۔ حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا۔  طلوع سے مراد آفتاب کا کنارہ ظاہر ہونے سے اس وقت تک ہے کہ اس پر نگاہ خیرہ ہونے لگے، جس کی مقدار کنارہ چمکنے سے ٢٠ منٹ تک ہے اور اس وقت سے کہ آفتاب پر نگاہ ٹھہرنے لگے ڈوبنے تک غروب ہے، یہ وقت بھی ٢٠ منٹ ہے، نصف النہار سے مراد نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی یعنی آفتاب ڈھلکنے تک ہے جس کو ضحوۂ کبریٰ کہتے ہیں، یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک آج جو وقت ہے، اس کے برابر ، برابر دو حصے کریں، پہلے حصہ کے ختم پر ابتدائے نصف النہار شرعی ہے اور اس وقت سے آفتاب ڈھلنے تک وقت استوا و ممانعت ہر نماز ہے ان اوقات میں قضا نماز ناجائز ہے۔‘‘اھ (حصہ ٣، نماز کے وقتوں کابیان جلد١، صفحہ ٤٥٤) (٣) اذان جمعہ کے بعد گھر میں قضاء یانفل نہ پڑھنا چاہئے کہ اذان ہوتے ہی جمعہ کی طرف سعی واجب ہوجاتی ہے ہاں مسجد میں خطبہ سے پہلے تک پڑھنے میں حرج نہیں عین خطبہ کے وقت پڑھنا جائز نہیں۔ قرآن مجید میں ہے:” یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ” الایۃ (سورہ الجمعہ ٦٢ : آیت ٩) اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو (ترجمہ کنزالایمان) حضور اعلی حضرت عظیم البرکت امام اہل سنت رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے کہا: جمعہ کے دن جمعہ کی نماز ادا کرنے سے پہلے نکاح جائز نہیں ہوتا تو کیا یہ مسئلہ سچ ہے کہ جمعہ کے روز نکاح ناجائز ہے۔(ملخصاً) جواباً ارشاد فرمایا :” اس شخص کا یہ کہنا محض غلط اور شریعت پر افترا ہے، نکاح ہر دن جائز ہے، ہاں اگر اذان جمعہ ہوگئی تو اس کے بعد جب تک نماز نہ پڑھ لی جائے نکاح کی اجازت نہیں کہ اذان ہوتے ہی جمعہ کی طرف سعی واجب ہوجاتی ہے” اھ(فتاوی رضویہ جدید ج١١ ص٢٤٢ کتاب النکاح) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : ’’پہلی اذان کے ہوتے ہی سعی واجب ہے اور بیع وغیرہ ان چیزوں کا جو سعی کے مُنافی ہوں چھوڑ دینا واجب، یہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے اگر خرید و فروخت کی تو یہ بھی ناجائز اور مسجد میں خرید و فروخت تو سخت گناہ ہے۔“اھ (بہار شریعت حصہ٤ جلد١ صفحہ ٧٧٥ جمعہ کابیان) علامہ ملا علی قاری علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں:’’(تکرہ) ای الصلاۃ وسجدۃ التلاوۃ وصلاۃ الجنازۃ الا الفائتۃ لصاحب الترتیب (اذا خرج) ای صعد (الامام) المنبر (للخطبۃ) ای خطبۃ الجمعۃ او العیدین او الحج او الکسوف او الاستسقاء‘‘ اھ (فتح باب العنایۃ في شرح كتاب النقایۃ ، کتاب الصلوۃ، صفحہ ١٨٢، دارالکتب العلمیۃ) یعنی: جب امام خطبے کے لیے منبر پہ آ جائے، تو نماز، سجدہ تلاوت اور نمازِ جنازہ ادا کرنا مکروہ ہے، مگر صاحبِ ترتیب کے لیے فوت شدہ نماز پڑھنا مکروہ نہیں، خطبہ جمعہ کا ہو یا عیدین کا یا پھر حج کا یا  نمازِ کسوف یا نمازِ استسقاء کا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.