Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1460 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.1K Views

حاجی پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہے یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حاجی پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہے یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

حاجی پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہے یا نہیں؟

سوال:- حج کے لیے جانے والے پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہے یا نہیں؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب حاجی اگر شرعا مسافر ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں اور اگر مقیم ہو تو واجب ہے جیسے مکہ شریف کے رہنے والے حج کریں تو چونکہ یہ لوگ مسافر نہیں اس لیے ان پر قربانی واجب ہوگی ۔ درمختار میں ہے “فلا تجب علی حاج مسافر :فأما أهل مكة فتلزمهم وان حجوا”(ج۹ ص ۴۵۷) اور ردالمحتار میں ہے “فتلزمهم وان حجوا اقتصر عليه فى البدائع وذالك لأنهم مقيمون”(ج ۹ ص ۴۵۷) اور بدائع الصنائع میں ہے “وذكر في “الأصل” وقال: ولا تجب الأضحية على الحاج وأراد بالحاج المسافر،فأما أهل مكة فتجب عليهم الأضحية”(ج ۴ ص ۱۹۵) والله تعالی أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h3>حاجی پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہے یا نہیں؟</h3> سوال:- حج کے لیے جانے والے پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہے یا نہیں؟ باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب</strong></span> حاجی اگر شرعا مسافر ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں اور اگر مقیم ہو تو واجب ہے جیسے مکہ شریف کے رہنے والے حج کریں تو چونکہ یہ لوگ مسافر نہیں اس لیے ان پر قربانی واجب ہوگی ۔ درمختار میں ہے "فلا تجب علی حاج مسافر :فأما أهل مكة فتلزمهم وان حجوا"(ج۹ ص ۴۵۷) اور ردالمحتار میں ہے "فتلزمهم وان حجوا اقتصر عليه فى البدائع وذالك لأنهم مقيمون"(ج ۹ ص ۴۵۷) اور بدائع الصنائع میں ہے "وذكر في "الأصل" وقال: ولا تجب الأضحية على الحاج وأراد بالحاج المسافر،فأما أهل مكة فتجب عليهم الأضحية"(ج ۴ ص ۱۹۵) والله تعالی أعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...