Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1461
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.2K Views
معراج حبیب ﷺ | سیرت اور صاحب سیرت سے دلچسپی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
معراج حبیب ﷺ | سیرت اور صاحب سیرت سے دلچسپی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
معراج حبیب ﷺ | سیرت اور صاحب سیرت سے دلچسپی
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ تمام حمد اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں بلند قدر ومنزلت سے نوزا، انہیں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک رات کے ایک پل میں لے گیا اور یہ آپ کے لیے نہایت فخر کی بات ہے اور آپ کو حضرت جبرئیل نے امامت کے لیے آگے بڑھایا چنانچہ آپ نے انبیا ومرسلین کی امامت فرمائی،تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ آپ امام اعظم ہیں اور آپ ہی اس مرتبے کے زیادہ لائق ہیں، پھر آپ آسمانوں کی بلندیوں سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور پھر اس مقام پر پہنچے جہاں قلم تقدیر کے چلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی، وہاں آپ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں، رب تعالیٰ نے آپ کے لیے تجلّی فرمائی۔ آپ کو شرف خطاب وکلام سے نوازا، آپ کے قلب مبارک کو ثبات سے بھر دیا، آپ کو آپ کی مراد عطا فرمائی اور اس کے ذریعہ آپ کو اجر عظیم عنایت فرمایا۔ چنانچہ پاک ہے وہ ذات جس نے واقعہ اسرا کی خبر دیتے وقت اپنی تنزیہہ خود بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا (سبحٰن الذی اسریٰ) پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو اِسرا کا شرف عطا فرمایا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں ایسی شہادت دیتا ہوں جس میں اس کی مدد اور اس کے شکریے یکے بعد دیگرے اتریں، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ کے خاص بندے اور خاص رسول ہیں، جن کو اس نے سارے جہان کے لیے رحمت، خزانہ اور ذخیرہ بنا کرمبعوث فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ آپ کی ذات پر صلاۃ وسلام نازل فرمائے اور آپ کی آل، آپ کے اصحاب اور ان کے بعد آنے والوں پر اپنی رحمت فراوں کا نزول فرمائے، اور خصوصیت کے ساتھ آپ کے وارثین پر اپنی رحمت کاملہ نازل فرمائے۔ جن کے ذکر کو اللہ تعالیٰ نے کونین میں بلند فرمادیاہے ۔یادوں کا جبر
یہ عادت چلی آئی ہے کہ ہم تاریخی مواقع کی یاد تازہ کرنے کے لیے اجتماعات کرتے ہیں، مثلاً عید میلاد النبی مناتے ہیں، اسرا اور معراج، پندرہویں شعبان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی یاد مناتے ہیں، نزولِ قرآن اور غزوۂ بدر کو یاد کرتے ہیں ۔ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس طرح کے جشن اوریادوں کا تعلق عادت سے ہے، ان کا تعلق ان اُمور سے نہیں ہے جن کا شریعت نے حکم دیا ہو، لہٰذا ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گاکہ شریعت نے ان کے کرنے کا حکم دیا ہے یا یہ سنت ہیں۔ یوں ہی اس طرح کے جشن کرنا اور یادیں منانا اصول دین میں سے کسی اصل کے معارض اور مخالف بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ خطرہ وہاں ہوتا ہے جب کسی ایسی چیز کے مشروع ہونے کااعتقاد رکھا جائے جو مشروع نہ ہو۔ اِس سلسلے میں میرا موقف یہ ہے کہ عرف وعادت سے تعلق رکھنے والے اس طرح کے اُمور میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہی جاسکتی کہ یہ شارع علیہ الصلوۃ و السلام کے نزدیک محبوب یا مبغوض ہیں، اور میرے خیال میں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ بعض لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اس طرح کے مواقع جن کی یاد منانے کے لیے لوگ جمع ہوتے ہیں اس کا کوئی متفق علیہ اور قطعی وقت اور دن متعین نہیں ہے،چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی یہ عام عادت ہے کہ وہ ۲۷؍ رجب کو اسرا اور معراج کی یاد منانے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور میلاد النبی کی یاد تازہ کرنے کے لیے ۱۲؍ ربیع الاول کو اکٹھا ہوتے ہیں جب کہ قطعی طور پر ان دونوں واقعات کے وقت کے تعین میں علما کا اختلاف ہے۔ میرا اس سلسلے میں معروضہ یہ ہے کہ وقت کے تعین میں اتفاق نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے کہ ہم یہ عقیدہ نہیں رکھتے ہیں کہ ایک خاص وقت میں اجتماع امرِ مشروع ہے۔ بلکہ اس کا تعلق صرف عادت و رسم سے ہے، جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، جو بات ہمارے لیے اہم ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اس طرح کے اجتماعات کے مواقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے لوگوں کی نصیحت اور ان کی رہنمائی کے کام میں لائیں۔ اس لیے کہ اس رات میں بڑے پیمانے پر لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اب چاہے جس موقع کی یاد منانے کے لیے وہ اکٹھا ہوئے ہیں اس کا وقت در حقیقت درست ہو یا غلط، اس سے کوئی بحث نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے رسول کی محبت میں ان کاصرف اکٹھا ہونا ہی رحمت وفضل الٰہی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جب تک لوگوں کا جمع ہونا خالص اللہ کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہو، وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوگا، اگر چہ تاریخی حیثیت سے درحقیقت وہ وقت غلط ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ وہ کوئی ایسی عبادت نہیں جو زمانے کے ساتھ محدود اور کسی کیفیت کے ساتھ مشروط ہو بلکہ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، اس کا تعلق عادت سے ہے جو محمود اور پسندیدہ ہے۔ اور وہ ان شاء اللہ ثواب اور نیکی کا باعث ہوگا۔ چنانچہ ان اجتماعات کے مواقع کو غنیمت جان کر دعا کرنا، اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنا، اس کی خوشبو، اس کے خیرات وبرکات کے حصول کی کوشش کرنا میرے نزدیک خود یاد منانے کے فائدے سے بڑھ کر ہے، اور لوگوں کے ان اجتما عات کو غنیمت سمجھ کر تذکیر وارشاد، نصیحت وخیر خواہی کرنا اور خیر کی جانب ان کی رہنمائی کرنا ان کو ان اجتماعات سے روکنے، ان کی تردید کرنے اور ان اجتماعات پر بے فائدہ نکیر کرنے سے بہتر ہے۔ اس لیے کہ یہ مشاہدہ ہے کہ اس سے کوئی فائدہ اورنفع حاصل نہیں ہوتا اور جتنی زیادہ نکیرکی جاتی ہے لوگ اتنا ہی زیادہ ان اعمال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان کو شدت کے ساتھ انجام دیتے ہیں، یا اتنی شدت پیدا ہوجاتی ہے کہ ان کاموں سے روکنے والا شخص گویا لاشعوری طور پر ان کاموں کا حکم دینے والا بن جاتا ہے۔ عقل ودانش کے مدعی دنیا کے ارباب فکر ودعوت کی یہ دلی تمنا ہوتی ہے کہ انہیں کوئی ایسی جگہ ہاتھ آجائے جہاں لوگ اکٹھا ہوتے ہوں تاکہ وہ ان کے مابین اپنی آرا وافکار کو پھیلا کرانہیں اپنامتوالا بنا سکیں، اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ یہ لوگ پارکوں، کلبوں اور عوامی جگہوں پر جہاں لوگوں کی بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے، ان کے چکر لگاتے رہتے ہیں، تاکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرسکیں اورہماری اُمت کاحال یہ ہے کہ وہ خود ہی مکمل ذوق وشوق اور رغبت کے ساتھ متعدد مواقع پر جمع ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس طرح کے اجتماعات کو باثمر اور نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کریں اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ ہم لوگوں کو خیر وصلاح، نیکی اور بھلائی اور واجبات کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی تلقین کریں۔سیرت اور صاحب سیرت سے دل چسپی
مسلم علما، مفکرین، محققین کو عام طور سے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ذات سے متعلق چیزوں سے دل چسپی رہی ہے۔ مضبوط ہمت ا ورحوصلے کے ساتھ اس موضوع پر انہوں نے تصنیف وتالیف اور ریسرچ ا ورتحقیق کی اور اس سلسلے میں انہوں نے ہر ممکن کوشش صرف کردی، اور اس کی طرف پوری توجہ دی۔ اگرچہ یہ ساری کوششیں اس عظمت وجلالت والی ذات کا حق ادا نہیں کرسکتیں اور ان کو وہ شایان شان مقام نہیں دے سکتیں جو منفردمقام ان کے مولیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ لیکن در حقیقت اس کے باوجود تاریخ میں سب سے زیادہ توجہ اور دل چسپی سیرت اور صاحب سیرت علیہ السلام کو ہی حاصل ہوئی اور وہ توجہ دنیا میں محمد بن عبد اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور شخص کو نصیب نہیں ہوئی۔ قرآن کریم اورسنت رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سیرت النبی کے ایک حصے کے طور پر اسرا اور معراج کے واقعے کو بیان فرمایا ہے اور اس درمیان آپ کو حاصل ہونے والے اُمورِ خارقہ کے مشاہدات جو انبیا ورسل میں کسی کوحاصل نہ ہوئے اور اِسرا اورمعراج کے ساتھ آپ کی تخصیص اور خصوصیت کے ذیل میں علماے اسلام نے جو کچھ لکھا ہے ان سب کا محور ومدار یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُo (۱) (ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندۂ خاص کو رات کے تھوڑے سے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے گِردونواح ہم نے برکت رکھی تا کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بے شک وہی خوب سننے والاخوب دیکھنے والاہے)۔ پوری کتاب پڑھنے کے لئے کلک کریں ۔
Kutubahu & Verified by:
<h3>معراج حبیب ﷺ | سیرت اور صاحب سیرت سے دلچسپی</h3> بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ تمام حمد اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں بلند قدر ومنزلت سے نوزا، انہیں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک رات کے ایک پل میں لے گیا اور یہ آپ کے لیے نہایت فخر کی بات ہے اور آپ کو حضرت جبرئیل نے امامت کے لیے آگے بڑھایا چنانچہ آپ نے انبیا ومرسلین کی امامت فرمائی،تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ آپ امام اعظم ہیں اور آپ ہی اس مرتبے کے زیادہ لائق ہیں، پھر آپ آسمانوں کی بلندیوں سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور پھر اس مقام پر پہنچے جہاں قلم تقدیر کے چلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی، وہاں آپ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں، رب تعالیٰ نے آپ کے لیے تجلّی فرمائی۔ آپ کو شرف خطاب وکلام سے نوازا، آپ کے قلب مبارک کو ثبات سے بھر دیا، آپ کو آپ کی مراد عطا فرمائی اور اس کے ذریعہ آپ کو اجر عظیم عنایت فرمایا۔ چنانچہ پاک ہے وہ ذات جس نے واقعہ اسرا کی خبر دیتے وقت اپنی تنزیہہ خود بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا (سبحٰن الذی اسریٰ) پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو اِسرا کا شرف عطا فرمایا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں ایسی شہادت دیتا ہوں جس میں اس کی مدد اور اس کے شکریے یکے بعد دیگرے اتریں، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ کے خاص بندے اور خاص رسول ہیں، جن کو اس نے سارے جہان کے لیے رحمت، خزانہ اور ذخیرہ بنا کرمبعوث فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ آپ کی ذات پر صلاۃ وسلام نازل فرمائے اور آپ کی آل، آپ کے اصحاب اور ان کے بعد آنے والوں پر اپنی رحمت فراوں کا نزول فرمائے، اور خصوصیت کے ساتھ آپ کے وارثین پر اپنی رحمت کاملہ نازل فرمائے۔ جن کے ذکر کو اللہ تعالیٰ نے کونین میں بلند فرمادیاہے ۔ <h3>یادوں کا جبر</h3> یہ عادت چلی آئی ہے کہ ہم تاریخی مواقع کی یاد تازہ کرنے کے لیے اجتماعات کرتے ہیں، مثلاً عید میلاد النبی مناتے ہیں، اسرا اور معراج، پندرہویں شعبان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی یاد مناتے ہیں، نزولِ قرآن اور غزوۂ بدر کو یاد کرتے ہیں ۔ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس طرح کے جشن اوریادوں کا تعلق عادت سے ہے، ان کا تعلق ان اُمور سے نہیں ہے جن کا شریعت نے حکم دیا ہو، لہٰذا ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گاکہ شریعت نے ان کے کرنے کا حکم دیا ہے یا یہ سنت ہیں۔ یوں ہی اس طرح کے جشن کرنا اور یادیں منانا اصول دین میں سے کسی اصل کے معارض اور مخالف بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ خطرہ وہاں ہوتا ہے جب کسی ایسی چیز کے مشروع ہونے کااعتقاد رکھا جائے جو مشروع نہ ہو۔ اِس سلسلے میں میرا موقف یہ ہے کہ عرف وعادت سے تعلق رکھنے والے اس طرح کے اُمور میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہی جاسکتی کہ یہ شارع علیہ الصلوۃ و السلام کے نزدیک محبوب یا مبغوض ہیں، اور میرے خیال میں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ بعض لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اس طرح کے مواقع جن کی یاد منانے کے لیے لوگ جمع ہوتے ہیں اس کا کوئی متفق علیہ اور قطعی وقت اور دن متعین نہیں ہے،چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی یہ عام عادت ہے کہ وہ ۲۷؍ رجب کو اسرا اور معراج کی یاد منانے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور میلاد النبی کی یاد تازہ کرنے کے لیے ۱۲؍ ربیع الاول کو اکٹھا ہوتے ہیں جب کہ قطعی طور پر ان دونوں واقعات کے وقت کے تعین میں علما کا اختلاف ہے۔ میرا اس سلسلے میں معروضہ یہ ہے کہ وقت کے تعین میں اتفاق نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے کہ ہم یہ عقیدہ نہیں رکھتے ہیں کہ ایک خاص وقت میں اجتماع امرِ مشروع ہے۔ بلکہ اس کا تعلق صرف عادت و رسم سے ہے، جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، جو بات ہمارے لیے اہم ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اس طرح کے اجتماعات کے مواقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے لوگوں کی نصیحت اور ان کی رہنمائی کے کام میں لائیں۔ اس لیے کہ اس رات میں بڑے پیمانے پر لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اب چاہے جس موقع کی یاد منانے کے لیے وہ اکٹھا ہوئے ہیں اس کا وقت در حقیقت درست ہو یا غلط، اس سے کوئی بحث نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے رسول کی محبت میں ان کاصرف اکٹھا ہونا ہی رحمت وفضل الٰہی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جب تک لوگوں کا جمع ہونا خالص اللہ کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہو، وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوگا، اگر چہ تاریخی حیثیت سے درحقیقت وہ وقت غلط ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ وہ کوئی ایسی عبادت نہیں جو زمانے کے ساتھ محدود اور کسی کیفیت کے ساتھ مشروط ہو بلکہ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، اس کا تعلق عادت سے ہے جو محمود اور پسندیدہ ہے۔ اور وہ ان شاء اللہ ثواب اور نیکی کا باعث ہوگا۔ چنانچہ ان اجتماعات کے مواقع کو غنیمت جان کر دعا کرنا، اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنا، اس کی خوشبو، اس کے خیرات وبرکات کے حصول کی کوشش کرنا میرے نزدیک خود یاد منانے کے فائدے سے بڑھ کر ہے، اور لوگوں کے ان اجتما عات کو غنیمت سمجھ کر تذکیر وارشاد، نصیحت وخیر خواہی کرنا اور خیر کی جانب ان کی رہنمائی کرنا ان کو ان اجتماعات سے روکنے، ان کی تردید کرنے اور ان اجتماعات پر بے فائدہ نکیر کرنے سے بہتر ہے۔ اس لیے کہ یہ مشاہدہ ہے کہ اس سے کوئی فائدہ اورنفع حاصل نہیں ہوتا اور جتنی زیادہ نکیرکی جاتی ہے لوگ اتنا ہی زیادہ ان اعمال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان کو شدت کے ساتھ انجام دیتے ہیں، یا اتنی شدت پیدا ہوجاتی ہے کہ ان کاموں سے روکنے والا شخص گویا لاشعوری طور پر ان کاموں کا حکم دینے والا بن جاتا ہے۔ عقل ودانش کے مدعی دنیا کے ارباب فکر ودعوت کی یہ دلی تمنا ہوتی ہے کہ انہیں کوئی ایسی جگہ ہاتھ آجائے جہاں لوگ اکٹھا ہوتے ہوں تاکہ وہ ان کے مابین اپنی آرا وافکار کو پھیلا کرانہیں اپنامتوالا بنا سکیں، اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ یہ لوگ پارکوں، کلبوں اور عوامی جگہوں پر جہاں لوگوں کی بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے، ان کے چکر لگاتے رہتے ہیں، تاکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرسکیں اورہماری اُمت کاحال یہ ہے کہ وہ خود ہی مکمل ذوق وشوق اور رغبت کے ساتھ متعدد مواقع پر جمع ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس طرح کے اجتماعات کو باثمر اور نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کریں اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ ہم لوگوں کو خیر وصلاح، نیکی اور بھلائی اور واجبات کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی تلقین کریں۔ <h3>سیرت اور صاحب سیرت سے دل چسپی</h3> مسلم علما، مفکرین، محققین کو عام طور سے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ذات سے متعلق چیزوں سے دل چسپی رہی ہے۔ مضبوط ہمت ا ورحوصلے کے ساتھ اس موضوع پر انہوں نے تصنیف وتالیف اور ریسرچ ا ورتحقیق کی اور اس سلسلے میں انہوں نے ہر ممکن کوشش صرف کردی، اور اس کی طرف پوری توجہ دی۔ اگرچہ یہ ساری کوششیں اس عظمت وجلالت والی ذات کا حق ادا نہیں کرسکتیں اور ان کو وہ شایان شان مقام نہیں دے سکتیں جو منفردمقام ان کے مولیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ لیکن در حقیقت اس کے باوجود تاریخ میں سب سے زیادہ توجہ اور دل چسپی سیرت اور صاحب سیرت علیہ السلام کو ہی حاصل ہوئی اور وہ توجہ دنیا میں محمد بن عبد اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور شخص کو نصیب نہیں ہوئی۔ قرآن کریم اورسنت رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سیرت النبی کے ایک حصے کے طور پر اسرا اور معراج کے واقعے کو بیان فرمایا ہے اور اس درمیان آپ کو حاصل ہونے والے اُمورِ خارقہ کے مشاہدات جو انبیا ورسل میں کسی کوحاصل نہ ہوئے اور اِسرا اورمعراج کے ساتھ آپ کی تخصیص اور خصوصیت کے ذیل میں علماے اسلام نے جو کچھ لکھا ہے ان سب کا محور ومدار یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُo (۱) (ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندۂ خاص کو رات کے تھوڑے سے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے گِردونواح ہم نے برکت رکھی تا کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بے شک وہی خوب سننے والاخوب دیکھنے والاہے)۔ <strong><a href="https://www.sadaeislam.in/blog/meraje-habeeb-sallahu-alaihe/">پوری کتاب پڑھنے کے لئے کلک کریں ۔</a></strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...