Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

سفر معراج میں آسمانی مناظر و مشاہد کا آغاز از کتاب معراج حبیب ﷺ

سفر معراج میں آسمانی مناظر و مشاہد کا آغاز از کتاب معراج حبیب ﷺ
Reference 1469 September 18, 2025 7,361 views
اصل سوالسفر معراج میں آسمانی مناظر و مشاہد کا آغاز از کتاب معراج حبیب ﷺ

سفر معراج میں آسمانی مناظر و مشاہد کا آغاز

عروج کی ابتدا: پھرسیڑھی لائی گئی، یہ وہ ربانی سیڑھی تھی جس کے ذریعہ آپ کا عروج ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عروج (بلندیوں پر تشریف لے جانا) براق کے ذریعہ نہیں تھابلکہ اِسی ربانی معراج (سیڑھی) کے ذریعہ ہواتھا۔بعض روایات میں ہے کہ آپ بدستور براق پر تشریف فرما رہے یہاں تک کہ آپ کو آسمان کی بلندیوں پر لے جایاگیا مگر مشہور یہی ہے کہ آپ بذریعۂ معراج بلندیوں پر تشریف لے گئے۔

آسمان اول پر

حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: پھر ہم کو آسمانِ دنیا (پہلے آسمان) پر لے جایاگیا، حضرت جبرئیل نے آسمان کے دروازے پر دستک دی، پوچھا گیا کون ہے؟ جواب دیا جبرئیل، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرئیل نے کہا میرے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پھر آواز آئی کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ جبرئیل بولے ہاں اُن کو بلایا گیا ہے۔ فرشتے نے اَھْلاً وَّسَھْلاً مَّرْحَبَا کہا۔ اللہ رب العزت ہمارے بھائی اور خلیفہ کوسلامت رکھے ،آپ کتنے عمدہ بھائی اورکتنے اچھے خلیفہ ہیں! آنے والا کتنا مبارک ہے! پھر دونوں کے لیے دروازہ کھول دیاگیا جب ہم دونوں آگے بڑھے تو وہاں ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام اپنی اسی صورت پر موجود تھے جس صورت پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تخلیق فرمائی تھی، ان پر انبیاے کرام اور ان کی اہل ایمان اولاد کو پیش کیا جاتاہے تو فرماتے ہیں: پاک وطیب نفوس اور روحیں ہیں انہیں مقام علیین(۱) میں لے جاؤ پھر آپ پر کافر اولاد کی روحیں پیش کی جاتی ہیں تو فرماتے ہیں یہ خبیث وناپاک ارواح ہیں انہیں مقام سجین(۲) میں لے جاؤ۔ آپ نے اپنے دائیں جانب ایک گروہ اور دروازے کو دیکھا جس سے خوشبو آرہی تھی اور بائیں جانب بھی ایک گروہ اور دروازے کو دیکھا جس سے بدبو آرہی تھی، جب حضرت آدم اپنی دائیں طرف دیکھتے تو ہنس پڑتے اور خوش ہوجاتے اور جب بائیں طرف دیکھتے توغمگین ہو جاتے اور روپڑتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سلام کیا، حضرت آدم علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: مَرْحَباً بِالْاِبْنِ الصَّّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ خوش آمدید اے صالح بیٹے ا ور صالح نبی! حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: اے جبرئیل! یہ کون ہیں؟ حضرت جبرئیل بولے یہ آپ کے والد حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ گروہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں، ان میں دا ہنی جانب والے جنتی ہیں اور بائیں جانب والے جہنمی ہیں۔ آپ داہنی طرف والوں کو دیکھ کر ہنستے اور خوش ہوتے ہیں اور بائیں جانب والوں کو دیکھ کر غمگین ہوتے اور رو پڑتے ہیں۔ آپ کے داہنی طرف کا دروازہ جنت کا دروازہ ہے اپنی اولاد کو اس میں داخل ہوتا دیکھ کر آپ ہنستے اور خوش ہوتے ہیں اور جو دروازہ آپ کی بائیں جانب ہے وہ جہنم کا دروازہ ہے جب اس میں اپنی اولاد کو داخل ہوتا دیکھتے ہیں رنجیدہ ہوکر رو پڑتے ہیں۔ (شامی نے اتنا اضافہ کیا ہے)

حرام کے مرتکب

پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ذرا آگے بڑھے تو وہاں چند دستر خوان دیکھے جن پر کٹے ہوئے گوشت کے ٹکڑے تھے کوئی اس کے قریب بھی نہیں جاتاتھا، تھوڑے فاصلے پر بدبودار گوشت رکھا ہوا ہے وہاں لوگ اکٹھا ہیں اور اسے کھارہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبرئیل بولے: ہٰوُلَآئِ مِنْ اُمَّتِکَ یَتْرُکُوْنَ الْحَلاَلَ وَیَأْتُوْنَ الْحَرَامَ ( یہ آپ کی اُمت کے وہ لوگ ہیں جو حلال کو چھوڑ کر حرام اختیار کرتے تھے)۔ ایک روایت میں یوں ہے:آپ ایسے لوگوں پر گزرے جن کے سامنے دستر خوان پر بھنا ہوا حلال گوشت تھا اور قریب ہی میں مردار گوشت تھا لوگ حلال گوشت کو چھوڑ کر مردار کھارہے تھے۔ دریافت کرنے پر حضرت جبرئیل نے بتایا کہ یہ زانی ہیں، جو اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرتے تھے اور اس کے حلال کردہ کو حرام کرلیتے تھے۔

سودخور کاانجام

کچھ اور آگے بڑھے تو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگوں کے پیٹ گھروں کی طرح ہیں جن میں سانپ ہیں جو ان کے پیٹ کے باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ جب بھی ان میں کا کوئی اٹھتا ہے گر جاتا ہے پھر کہتا ہے: اے اللہ قیامت قائم مت کر۔وہ آل فرعون کی گزرگاہ پر کھڑے ہیں اور گزرنے والاقافلہ ان کوروندتے ہوئے گزرجاتاہے ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کوخوف سے پکارتے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریادکرتے ہوئے سنا۔ تو آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا کہ یہ آپ کی اُمت کے وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے ہیں یہ اس طرح کھڑے ہوں گے جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو شیطان نے چھو لیا ہو۔(مخبوط الحواس ہوں گے)

یتامیٰ کامال کھانے والے

پھر تھوڑا اور آگے بڑھے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹ جیسے ہیں ان کے منہ کھول کر پتھر ڈالے جارہے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے منہ میں جہنم کی چٹان ڈالی جاتی ہے پھر ان کے پیچھے کے مقام سے نکالی جاتی ہے آپ نے سنا کہ وہ اللہ کے حضور خوف سے چلّا رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: جبرئیل! یہ کون ہیں؟ جواب ملا یہ وہ لوگ ہیں جو ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے تھے وہ تو اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔

زناکارعورتیں

پھر ذراا اور آگے بڑھے تو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ عورتیں اپنی پستانوں کے بل لٹکی ہوئی ہیں اور کچھ عورتیں پیروں کے بل اوندھا لٹکی ہوئی ہیں آپ نے انہیں بھی سنا کہ خوف ودہشت سے اللہ کو پکار رہی ہیں۔ حضور نے دریافت فرمایا جبرئیل! یہ کون ہیں؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام بولے : ہٰوُلائِ اللّٰتِیْ یَزْنِیْنَ وَیَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ یہ وہ عورتیں ہیں جو زناکا ارتکاب کرتی تھیں اور اپنی اولاد کو قتل کرتی تھیں۔

غیبت کی سزا

کچھ اور آگے بڑھے تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے پہلوؤں سے گوشت کاٹ کر لقمہ بنایا جاتا ہے اور پھر ہر ایک سے کہا جاتا ہے اسے کھا جیسے تو اپنے بھائی کاگوشت کھایا کرتا تھا۔ حضور کے دریافت کرنے پر حضرت جبرئیل نے بتایا کہ یہ آپ کی اُمت کے غیبت کرنے والے اور عیب جُو لوگ ہیں۔ (شامی کا اضافہ مکمل ہوا)

آسمان دوم پر

پھر دونوں دوسرے آسمان پر پہنچے، حضرت جبرئیل نے دروازے پر دستک دی، پوچھا گیا کون ہے؟ بولے کہ جبرئیل ہوں۔ پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جواب ملا ہاں: آوازآئی مرحبا اَھْلاً وَّسَھْلاً ،اللہ تعالیٰ اس بھائی اور خلیفہ کو سلامت رکھے۔ کیا ہی عمدہ بھائی اور خلیفہ ہیں اور کتنا اچھا مہمان آیا۔ اس کے بعد دروازہ کھول دیا گیا۔ جب دونوں آگے بڑھے تو وہاں دو خالہ زاد بھائی حضرت عیسیٰ ابن مریم اور حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام سے ملاقات ہوئی، وہ ایک دوسرے کے صورت، لباس اور بالوں میں مشابہ تھے۔ ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ افراد بھی تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میانہ قد، مائل بسرخی وسفیدی اور سیدھے بالوں والے تھے ایسالگتا تھا کہ ابھی ابھی حمام سے غسل فرما کر نکلے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کو عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہہ قراردیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دونوں حضرات کو سلام کیا، دونوں نے آپ کے سلام کا جواب دیا۔ پھر دونوں نے حضور کو مرحبا اے صالح بھائی ا ور صالح نبی کہا اور دونوں حضرات نے خیر وعافیت کی دعا فرمائی۔

آسمان سوم پر

پھر تیسرے آسمان پر پہنچے، حضرت جبرئیل نے دروازے پر دستک دی، پوچھا گیا کون ہے؟ جواب دیا میں جبرئیل ہوں۔ پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے۔ جواب دیا ہاں انہیں بلایا گیا ہے۔یہاں بھی سابقہ طریقے پر آپ کو مرحبا کہاگیا۔ جب آگے بڑھے تو حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت یوسف کو سلام کیا انہوں نے آپ کے سلام کا جواب دیا۔ پھر بولے: صالح بھائی اور صالح نبی کوخوش آمدید۔اورپھر آپ کے لیے دعاے خیرکی۔ آپ کو نصف حسن دیاگیاتھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ مخلوقات میں سب سے حسین تھے ۔ اللہ رب العزت نے آپ کو خوبصورتی کے ذریعے ایسی فضیلت عطا فرمائی جیسے چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر۔ حضور کے سوال پر جبرئیل نے بتایا یہ آپ کے بھائی یوسف علیہ السلام ہیں۔

آسمان چہارم پر

پھر چوتھے آسمان پر تشریف لے گئے، حضرت جبرئیل نے دستک دی، سابقہ طریقے پر سوال وجواب کے بعد یہاں حضرت اِدریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، حضور نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کاجو اب دیا حضرت اِدریس علیہ السلام نے بھی آپ کو مرحبا کہا اور دعاے خیر فرمائی۔

آسمان پنجم پر

پھرپانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی دوسرے انبیا کی طرح آپ کو مرحبا اور خوش آمدید کہا، آپ کی داڑھی مبارک نصف سفید اور نصف سیاہ تھی اور ان کی داڑھی ان کے ناف کے قریب تک تھی۔ ان کے پاس کچھ بنی اسرائیلی تھے آپ ان سے خطاب فرما رہے تھے، حضور نے سلام کیا، انہوں نے سلام کاجواب دیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے آپ کو مرحبا اے صالح بھائی ا ور صالح نبی کہا اور دعاے خیر فرمائی۔ حضور کے دریافت کرنے پر حضرت جبرئیل نے بتایا کہ یہ اپنی قوم کے محبوبِ نظر حضرت ہارون بن عمران علیہ السلام ہیں۔

آسمان ششم پر

پھر چھٹے آسمان پر پہنچے، حسب سابق سوال وجواب ہوئے اور مرحبا کے کلمات کہے گئے۔ پھرکچھ انبیاے کرام اور ان کی قوموں کے پاس سے گزرہوا، کسی نبی کے ساتھ چند لوگ تھے، کسی کے ساتھ کثیر لوگ تھے۔ کچھ انبیا ایسے بھی تھے جن کے ساتھ کوئی نہ تھا، پھر آپ ایک بڑے گروہ کے پاس سے گزرے، پوچھا یہ کون ہیں؟ جواب ملا یہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ہے ،آپ اپنا سر اٹھائیے میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ ایک بہت بڑی جماعت ایک جانب سے دوسری جانب تک اُفق کو گھیرے ہوئے ہے، بتایا گیا کہ یہ آپ کی اُمت ہے۔ ان کے علاوہ ستر ہزار وہ ہیں جو بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ ذرا آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ آپ طویل القامت شخص تھے، ایسا لگتا کہ آپ قبیلۂ شنووہ کے لوگوں میں سے تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کو سلام کیا، حضرت موسیٰ نے آپ کے سلام کا جواب دیا پھر مرحبا اے صالح بھائی اور صالح نبی کہا۔ پھر دعاے خیر فرمایا۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگوں کا خیال ہے کہ اولادِ آدم میں اللہ کے حضور سب سے اونچا مقام میرا ہے حالاں کہ حقیقت یہ ہے:یہ ہستی اللہ کے نزدیک مجھ سے زیادہ معزز ومکرم ہے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے توحضرت موسیٰ علیہ السلام رو پڑے، پوچھا گیا رونے کا سبب کیا ہے، فرمایا: یہ نوجوان میرے بعد مبعوث ہوئے لیکن ان کی اُمت میری اُمت سے زیادہ جنت میں داخل ہوگی۔ بنی اسرائیل کا گمان ہے کہ میں اللہ کے حضور اولادِ آدم میں سب سے معزز ہوں حالاںکہ یہ شخصیت دنیا میں میرے بعد آئی جب کہ میں دوسری دنیا میںہوں۔اگر فقط آپ کی ذات افضل ہوتی تو کوئی بات نہ تھی مگر ان کے ساتھ ان کی اُمت بھی تمام امتوں سے افضل ہے۔

آسمان ہفتم پر

پھر دونوں حضرات ساتویں آسمان پر پہنچے، حضرت جبرئیل نے دستک دی، یہاں بھی سوال وجواب کے بعد مرحبا کے کلمات کہے گئے، ذرا آگے بڑھے تو یہاں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات ہوئی، آپ جنت کے دروازے کے پاس بیت المعمور سے ٹیک لگائے سونے کی کرسی پر رونق افروز تھے، آپ کی اُمت کے کچھ لوگ بھی وہاں تھے، حضور نے انہیں سلام کیا، حضرت ابراہیم نے سلام کاجواب دیا۔ اور آپ نے بھی فرمایا: مرحبا اے صالح بیٹے و صالح نبی۔ پھر ارشاد فرمایا: اپنی اُمت کو حکم دیں کہ جنت میں بکثرت پودے لگائیں کہ جنت کی مٹی پاکیزہ ہے اور اس کی زمین وسیع ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّۃِ؟ جنت کے پودے کیا ہیں؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا: لاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ اپنی اُمت کو میری طرف سے سلام کہیں اور انہیں خبر دیں کہ جنت کی مٹی پاکیزہ ہے ،اس کا پانی شیریں ہے اور اس کے پودے :سُبْحٰنَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ اِلّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرْ ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قریب ہی کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے جن کے چہرے (چمک اور سفیدی میں) کاغذ کی طرح تھے، کچھ اور لوگ تھے جن کے رنگوں میں کچھ کمی تھی، جن کے رنگوں میں کمی تھی، اُٹھے اور ایک نہر میں داخل ہوگئے، اس میں انہوں نے غسل کیا جب نکلے تو ان کا رنگ کچھ صاف ہوگیا، دوبارہ نہر میں داخل ہوکر غسل کیا، نکلے تو ان کا رنگ مزید صاف ہوگیا۔ تیسری بار پھر نہر میں داخل ہوکر انہوں نے غسل کیا اب ان کا رنگ ان کے ساتھیوں کی طرح بالکل صاف وسفید ہوگیا۔ پھر وہ آکر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: جبرئیل! یہ سفید چہرے والے اور جن کے رنگوں میں کمی تھی کون ہیں؟ اور یہ نہریں کیسی ہیں جن میں داخل ہوکر انہوں نے غسل کیا؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا: سفید چہرے والے وہ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم ومعاصی کو شامل نہ کیا تھا اور وہ جن کے رنگوں میں کچھ کمی ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نیک عمل کیے اور اس کے ساتھ گناہ بھی کیے۔ پھر بارگاہ الٰہی میں توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور ان نہروں کی تفصیل یہ ہے کہ پہلی نہرِ رحمت ہے دوسری نہرِ نعمت ہے اور تیسری نہر شراب ِطہور کی ہے۔ کہاگیا کہ یہ آپ اور آپ کی اُمت کی جگہ ہے۔ اسی اثنا میں آپ نے دیکھا کہ آپ کی اُمت دو حصوں میں منقسم ہے، ایک گروہ کے جسم پر کاغذ کی طرح سفید کپڑے ہیں دوسرے گروہ پر خاکستری رنگ کے کپڑے ہیں۔ پھر آپ بیت المعمور میں داخل ہوئے۔ آپ کے ساتھ سفید لباس والے بھی داخل ہوئے اور جن کے لباس خاکستری رنگ کے تھے انہیں چھُپا دیاگیا حالاںکہ وہ بھی خیر پر ہوں گے۔ پھر آپ نے اپنے ساتھ کے مومنین کو لے کر بیت المعمور میں نماز پڑھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں قیامت تک دوبارہ داخلہ نصیب نہ ہوتا۔ بیت المعمور خانۂ کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے یہاں تک کہ اگر بیت المعمور سے کوئی پتھر گرایا جائے تو وہ کعبۂ معظمہ پر گرے گا۔ (شامی نے درج ذیل کلمات کا اضافہ کیا ہے) طبرانی سے سند صحیح کے ساتھ مروی ایک حدیث میں ہے: جس رات مجھے سیر کرائی گئی جب میں ملأ اعلیٰ پر سے گزرا تو حضرت جبرئیل کو دیکھا کہ خشیتِ الٰہی سے آپ کی حالت تنکے کی طرح تھی۔ دوسری روایت میں ہے: آپ کی حالت زمین سے چمٹے ہوئے کجاوے جیسی تھی۔

سدرۃ المنتہیٰ کی طرف روانگی

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے،زمین سے اوپرپہنچنے والی ہرشے کی آخری حد یہی ہے وہاں سے اُسے حاصل کیا جاتاہے۔اسی طرح اوپر سے نیچے والی ہرشئی کی آخری حد یہی ہے، یہیں سے اسے حاصل کیا جاتا ہے۔ سدرہ ایسا درخت ہے جس کی جڑوں سے پانی کی ایسی نہریں بہہ رہی ہیں جن کا پانی کبھی خراب نہ ہو۔ اور دودھ کی ایسی نہریں ہیں جس کا مزہ متغیر نہ ہو اور شراب کی ایسی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے اور شہد کی صاف شدہ نہریں ہیں۔ سو اراگر اس کے سایے میں ستر سال تک چلے تو بھی سایہ ختم نہ ہو۔ اس کے پھل ہجر(۱)کے مٹکوں کی طرح،اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے (شکل میں) اُس کا ایک پتہ اس اُمت کو ڈھانپ سکتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا ایک پتہ تمام مخلوقات کو اپنے سایے میں کرسکتاہے۔ اس کے ہر پتے پر ایک فرشتہ ہے اسے ایسے رنگوں نے ڈھانپ رکھا ہے جسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جب امر الٰہی نے اسے ڈھانپ لیا تو اس میں تبدیلی آگئی۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ یاقوت وزبرجد بن گئی۔ کوئی شخص اس کا حسن وجمال بیان نہیں کرسکتا۔اس میں سونے کے پروانے تھے۔ اس کی جڑ سے چار نہریں رواں ہیں،دو نہریں باطنی اور دو ظاہری، حضور علیہ السلام نے دریافت فرمایا: جبرئیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ حضرت جبرئیل نے بتایا کہ دو باطنی نہریں جنتی ہیں اور دو ظاہری نہریں نیل وفرات ہیں۔ (شامی نے اتنا اور اضافہ کیا ہے) سدرہ کی جڑوں سے چشمے بہہ رہے تھے جسے سلسبیل کہا جاتا ہے، پھر اس سے دو نہریں نکلتی ہیں ایک کوثر ہے جو تیر کی طرح نہایت تیزی سے بہتا ہے۔ کوثر پر موتی، یاقوت اور زبر جد کے خیمے تھے، اس پر نہایت خوبصورت سبز پرندے تھے، آپ نے اس میں سونے چاندی کے برتن بھی ملاحظہ کیے۔ یہ نہرِ سلسبیل یاقوت وزمرد کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر بہہ رہی تھی، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید تھا،(حضور فرماتے ہیں) میں نے ایک برتن میں وہ پانی لے کر پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔ پھر حضرت جبرئیل نے حضور سے عرض کیا یہ وہ نہر ہے جسے آپ کے رب نے آپ کے لیے محفوظ کر رکھا ہے اور دوسری نہر نہرِ رحمت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں غسل فرمایا تو آپ کی اگلی پچھلی خطائیں بالفرض اگرہوتیں وہ بھی معاف کردی گئیں ۔ (یہاں شامی کا اضافہ مکمل ہوا) مقامِ سدرہ پر حضور سید کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین کو دوسری صورت میں دیکھا کہ آپ کے چھ سو پَر ہیں، ہر ایک پَر نے اُفق کو گھیر رکھا ہے، ان کے پر سے اس قدر خوبصورت موتی اور یاقوت جھڑتے ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر کوثر سے ہوتے ہوئے جنت میں داخل ہوئے، وہاں ایسی نعمتیں تھیں کہ اس جیسی کسی آنکھ نے دیکھا ، کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا تصور گزرا۔ جنت کے دروازے پر آپ نے لکھا دیکھا: اَلصَّدَقَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا وَالْقَرْضُ بِثَمَانِیَۃَ عَشَرْ یعنی صدقہ پر دس گنا اجر وثواب ہے اور قرض پر اَٹھارہ گنااجر ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین سے پوچھا: قرض صدقہ سے افضل کیوں ہے؟ جواب دیا کہ مانگنے والا اس وقت بھی مانگتا ہے جب اس کے پاس ہو مگر مقروض حاجت کے وقت ہی قرض لیتا ہے۔ پھر آپ آگے تشریف لے گئے وہاں دودھ کی ایسی نہریں تھیں جن کا رنگ متغیر نہیں ہوتا تھا اور شراب کی ایسی نہریں تھیں جو پینے والے کو لطف ولذت عطاکرنے والی ہیں ۔اور خالص شہد کی نہریں بھی تھیں، اس میں موتیوں کے گنبد تھے، اور جنت کے انار بڑے ڈول جیسے تھے اور اس کے پرندے بختی اونٹوں کی طرح تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ! اس کاگوشت تونرم ہوتاہے، حضور نے فرمایا: میں نے اسے کھایاتواسے بختی اونٹوں سے بھی زیادہ نرم پایا۔ مجھے امید ہے کہ تم بھی اسے کھاؤ گے۔ پھر آپ پر دوزخ کو پیش کیا گیا، اس میں اللہ کا غضب، زجر وتوبیخ اور عذاب تھا پھر آپ کے سامنے جہنم کو بند کردیاگیا۔ پوری کتاب مراج حبیب ﷺ پڑھنے کے لئے کلک کریں

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.