Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1477 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.2K Views

جو شرعی حصہ نہ دے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جو شرعی حصہ نہ دے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جو شرعی حصہ نہ دے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟

سوال : ہمارے یہاں جائیداد کی تقسیم شرعی طور پر نہیں ہوتی ہے. لڑکی کو حصہ نہیں جاتا، بیوہ کی صرف پرورش ہوتی ہے حصہ نہیں ملتا ہے. یہ رائج ہی نہیں ہے. تو شرعی حصہ نہ لینے اور نہ دینے پر امامت کے لئے کیا حکم ہے جبکہ اکثر حضرات اللہ ماشاء اللہ اس فعل میں ملوث ہوں گے. بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــ جائیداد کا شرعی طور پر تقسیم نہ کرنا یعنی ماں بہن وغیرہ عورتوں کو حصہ نہ دینا حرام ہے اور فعل حرام میں اکثر لوگ ملوث وہ تو حلال نہیں ہو جائے گا. اپنا حصہ شرعی نہ لینے پر کوئی مواخذہ نہیں لیکن دوسروں کا حصہ غصب کرنے والا اگر صاحب حق کو حصہ نہ دے اور نہ معاف کرائے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں. ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب کتبہ :مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 324

Kutubahu & Verified by:

<h2>جو شرعی حصہ نہ دے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟</h2> سوال : ہمارے یہاں جائیداد کی تقسیم شرعی طور پر نہیں ہوتی ہے. لڑکی کو حصہ نہیں جاتا، بیوہ کی صرف پرورش ہوتی ہے حصہ نہیں ملتا ہے. یہ رائج ہی نہیں ہے. تو شرعی حصہ نہ لینے اور نہ دینے پر امامت کے لئے کیا حکم ہے جبکہ اکثر حضرات اللہ ماشاء اللہ اس فعل میں ملوث ہوں گے. بینوا و توجروا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــ</strong></span> جائیداد کا شرعی طور پر تقسیم نہ کرنا یعنی ماں بہن وغیرہ عورتوں کو حصہ نہ دینا حرام ہے اور فعل حرام میں اکثر لوگ ملوث وہ تو حلال نہیں ہو جائے گا. اپنا حصہ شرعی نہ لینے پر کوئی مواخذہ نہیں لیکن دوسروں کا حصہ غصب کرنے والا اگر صاحب حق کو حصہ نہ دے اور نہ معاف کرائے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں. ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 324</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...