Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1494 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.9K Views

سوئم کے چنے مالدار کھا سکتے ہیں یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سوئم کے چنے مالدار کھا سکتے ہیں یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سوئم کے چنے مالدار کھا سکتے ہیں یا نہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں بعض علماء کہتے ہیں کہ سوئم کے چنے مالدار لوگ بھی کھا سکتے ہیں اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ مالدار سوئم کے چنے نہیں کھا سکتے تو عوام الناس کس پر عمل کریں اس طرح کا اختلاف کیوں ہے ؟اس سے عوام کو کیا فائدہ؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ سوئم کے چنے ایصال ثواب کے لئے منگوائے جاتے ہیں اگر مالک نے صرف فقراء اور مساکین کو دینے کے لئے منگوائے اور یہی اس کی نیت ہے تو مالدار کو کھانا جائز نہیں ۔ اور اگر اسے عام حاضرین پر تقسیم کے لیے منگائے ہیں تو اس صورت میں مالدار بھی کھا سکتے ہیں جیساکہ فتاویٰ رضویہ میں ہے. اور سوئم کے چنے بتاشے کہ بغرض مہمانی نہیں منگائے جاتے آتے بلکہ ثواب پہنچانے کے قصد سے ہوتے ہیں. یہ اگر مالک نے صرف محتاجوں کو دینے کے لئے منگائے اور یہی اس کی نیت ہے تو غنی کو ان کا بھی لینا ناجائز اور اگر اس نے عام حاضرین پر تقسیم کے لیے منگائے ہیں تو اگر غنی بھی لے گا تو گنہگار نہ ہوگا اور یہاں بحکم عرف و رواج عام حکم یہی ہے کہ وہ خاص مساکین کے لیے نہیں ہوتے تو غنی کو لینا بھی جائز ہے اگرچہ احتراز زیادہ پسندیدہ ہے. (صفحہ 138 جلد 4) لہذا جن علماء نے یہ کہا کہ سوئم کے چنے مالدار لوگ بھی کھا سکتے ہیں یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ عام حاضرین پر تقسیم کے لئے منگوائے گئے ہوں اور عرف و رواج یہی ہے کہ وہ خاص مساکین کے لئے نہیں منگائے جاتے بلکہ تمام حاضرین کے لیے ہوتے ہیں خواہ وہ فقیر ہوں یا غنی. اور جن علماء نے یہ کہا کہ مالدار لوگ سوئم کے چنے نہیں کھا سکتے تو یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ مالک نے صرف فقیروں کو دینے کے لئے منگائے ہوں واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد سفیر الحق رضوی نظامی

Kutubahu & Verified by:

<h2>سوئم کے چنے مالدار کھا سکتے ہیں یا نہیں؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں بعض علماء کہتے ہیں کہ سوئم کے چنے مالدار لوگ بھی کھا سکتے ہیں اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ مالدار سوئم کے چنے نہیں کھا سکتے تو عوام الناس کس پر عمل کریں اس طرح کا اختلاف کیوں ہے ؟اس سے عوام کو کیا فائدہ؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــ</strong></span> سوئم کے چنے ایصال ثواب کے لئے منگوائے جاتے ہیں اگر مالک نے صرف فقراء اور مساکین کو دینے کے لئے منگوائے اور یہی اس کی نیت ہے تو مالدار کو کھانا جائز نہیں ۔ اور اگر اسے عام حاضرین پر تقسیم کے لیے منگائے ہیں تو اس صورت میں مالدار بھی کھا سکتے ہیں جیساکہ فتاویٰ رضویہ میں ہے. اور سوئم کے چنے بتاشے کہ بغرض مہمانی نہیں منگائے جاتے آتے بلکہ ثواب پہنچانے کے قصد سے ہوتے ہیں. یہ اگر مالک نے صرف محتاجوں کو دینے کے لئے منگائے اور یہی اس کی نیت ہے تو غنی کو ان کا بھی لینا ناجائز اور اگر اس نے عام حاضرین پر تقسیم کے لیے منگائے ہیں تو اگر غنی بھی لے گا تو گنہگار نہ ہوگا اور یہاں بحکم عرف و رواج عام حکم یہی ہے کہ وہ خاص مساکین کے لیے نہیں ہوتے تو غنی کو لینا بھی جائز ہے اگرچہ احتراز زیادہ پسندیدہ ہے. (صفحہ 138 جلد 4) لہذا جن علماء نے یہ کہا کہ سوئم کے چنے مالدار لوگ بھی کھا سکتے ہیں یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ عام حاضرین پر تقسیم کے لئے منگوائے گئے ہوں اور عرف و رواج یہی ہے کہ وہ خاص مساکین کے لئے نہیں منگائے جاتے بلکہ تمام حاضرین کے لیے ہوتے ہیں خواہ وہ فقیر ہوں یا غنی. اور جن علماء نے یہ کہا کہ مالدار لوگ سوئم کے چنے نہیں کھا سکتے تو یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ مالک نے صرف فقیروں کو دینے کے لئے منگائے ہوں واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد سفیر الحق رضوی نظامی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...