Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1497 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.2K Views

اللہ تعالیٰ کو دیوانہ کہنا حرام بلکہ کفر ہوسکتا ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اللہ تعالیٰ کو دیوانہ کہنا حرام بلکہ کفر ہوسکتا ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اللہ تعالیٰ کو دیوانہ کہنا حرام بلکہ کفر ہوسکتا ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام ان اشعار کے بارے میں جو مندرجہ ذیل ہے. سبحان اللہ بنے رسول اللہ عرش معلی کے دولھا. میرا مولیٰ نبی کا دیوانہ ہے حور وغلماں کے لب پر ترانہ ہے. آئے نبی جی کرم کی پھر برسات ہوگئی. طیبہ والے کی رب سے ملاقات ہوگئی. ان اشعار کو پڑھنا کیسا ہے ان اشعار کو اگر پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ المستفتی:نور فیضی چتیاں بازار سدھارتھ نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب۔ صورت مستفسرہ میں مذکورہ اشعار کسی عقل ناقص کی پیداوار ہیں جو نہ فنی لحاظ سے درست ہیں اور نہ ہی معنوی لحاظ سے کہ دوسرے مصرع میں ذات باری تعالیٰ کو “دیوانہ” کہا گیا ہے اور لفظ”دیوانہ” کا اطلاق جناب باری تعالیٰ میں حرام بلکہ کفر بھی ہوسکتا ہے ۔ دیوانہ کا معنی”مجنون، پاگل، سڑی، خبطی، سودائی، باؤلا، اور عاشق ہے”(فیروز اللغات ص٦٧٤،وفرہنگ آصفیہ ج٢ص٣١٦) اور معاذ ﷲ رب العالمين ﷲ عزوجل ان تمام باتوں سے منزہ ہے “تعالیٰ ﷲ عن ذلك علوا کبیرا. لہذا ان اشعار کا پڑھنا حرام حرام حرام اشد حرام بلکہ معنئ عاشق جو جانب بشر میں مراد نہ ہو کے سواء دوسرے معنی مراد ہوں تو کفر میں صریح ہیں قائل وسامع پر توبہ، تجدید ایمان ونکاح بہرکیف لازم ہے. اعلیحضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں”معنئ عشق اللہ عزوجل کے حق میں محال قطعی ہیں اور ایسا لفظ بے ورود ثابت شرعی حضرت عزت کی شان میں بولنا ممنوع قطعی، رد المحتار میں ہے مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع” اھ(ج٩ص ٦١،نصف اول کتاب الحظر والاباحۃ، باب العقائد) فتاویٰ تاج الشریعہ میں ہے”اور عاشق ومعشوق میں حرج نہیں جبکہ وہ معنی مراد نہ لیں جو جانب بشر میں مراد ہوتے ہیں”اھ(ج١ ص١٧١،کتاب العقائد) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:مفتی محمد ارشد حسین الفیضی  ٣٠رجب المرجب١٤٤٣ھ

Kutubahu & Verified by:

<h2>اللہ تعالیٰ کو دیوانہ کہنا حرام بلکہ کفر ہوسکتا ہے</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام ان اشعار کے بارے میں جو مندرجہ ذیل ہے. سبحان اللہ بنے رسول اللہ عرش معلی کے دولھا. میرا مولیٰ نبی کا دیوانہ ہے حور وغلماں کے لب پر ترانہ ہے. آئے نبی جی کرم کی پھر برسات ہوگئی. طیبہ والے کی رب سے ملاقات ہوگئی. ان اشعار کو پڑھنا کیسا ہے ان اشعار کو اگر پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ المستفتی:نور فیضی چتیاں بازار سدھارتھ نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب۔</strong></span> صورت مستفسرہ میں مذکورہ اشعار کسی عقل ناقص کی پیداوار ہیں جو نہ فنی لحاظ سے درست ہیں اور نہ ہی معنوی لحاظ سے کہ دوسرے مصرع میں ذات باری تعالیٰ کو "دیوانہ" کہا گیا ہے اور لفظ"دیوانہ" کا اطلاق جناب باری تعالیٰ میں حرام بلکہ کفر بھی ہوسکتا ہے ۔ دیوانہ کا معنی"مجنون، پاگل، سڑی، خبطی، سودائی، باؤلا، اور عاشق ہے"(فیروز اللغات ص٦٧٤،وفرہنگ آصفیہ ج٢ص٣١٦) اور معاذ ﷲ رب العالمين ﷲ عزوجل ان تمام باتوں سے منزہ ہے "تعالیٰ ﷲ عن ذلك علوا کبیرا. لہذا ان اشعار کا پڑھنا حرام حرام حرام اشد حرام بلکہ معنئ عاشق جو جانب بشر میں مراد نہ ہو کے سواء دوسرے معنی مراد ہوں تو کفر میں صریح ہیں قائل وسامع پر توبہ، تجدید ایمان ونکاح بہرکیف لازم ہے. اعلیحضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں"معنئ عشق اللہ عزوجل کے حق میں محال قطعی ہیں اور ایسا لفظ بے ورود ثابت شرعی حضرت عزت کی شان میں بولنا ممنوع قطعی، رد المحتار میں ہے مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع" اھ(ج٩ص ٦١،نصف اول کتاب الحظر والاباحۃ، باب العقائد) فتاویٰ تاج الشریعہ میں ہے"اور عاشق ومعشوق میں حرج نہیں جبکہ وہ معنی مراد نہ لیں جو جانب بشر میں مراد ہوتے ہیں"اھ(ج١ ص١٧١،کتاب العقائد) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:مفتی محمد ارشد حسین الفیضی  ٣٠رجب المرجب١٤٤٣ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...