Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1503 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.9K Views

زکاۃ کی رقم دنیاوی اسکول کی زمین و تعمیر میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

زکاۃ کی رقم دنیاوی اسکول کی زمین و تعمیر میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

زکاۃ کی رقم دنیاوی اسکول کی زمین و تعمیر میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کی کیا بیت المال، صدقہ و زکوۃ کی رقم سے دینی اور دنیاوی تعلیم کے لئے اسکول کی زمین خریدنا درست ہے اور تعمیر اسکول بھی درست ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــ زکاۃ و صدقہ کی رقم کے اصل حقدار فقیر اور مسکین مسلمان ہیں. قرآن پاک میں ہے ” انما الصدقت للفقراء و المساکین” ( پارہ 10 رکوع 14 آیت 60) تو زکوۃ انہیں کو دینے سے ادا ہوگی اور دوسرے کو دینا ناجائز و گناہ ہے اس لئے کسی بھی اسکول میں زکوۃ کی رقم دینا جائز نہیں اور نہ ہی اسکول میں دینے سے زکوۃ ادا ہوگی. دینی مدرسہ میں جو زکات کی اجازت فقہاء کرام نے دی ہے تو وہ ضرورت شرعیہ کے تحت دی ہے. فقہ کا قاعدہ کلیہ ہے ” الضرورات تبیح المحظورات ،الحاجۃ قد تنزل منزلۃ الضرورۃ، المشقۃ تجلب التیسیر” ١ھ. اور اسکول میں ضرورت شرعیہ کیا حاجت شرعیہ بھی نہیں پائی جاتی. لہذا زکوۃ و صدقات کی رقم کسی بھی دنیاوی اسکول میں دینے سے ہرگز ادا نہ ہوگی اور نہ ہی اس سے زمین خریدنا اور اس سے اسکول کی تعمیر کرنا جائز ہے. البتہ بیت المال کی رقم جو زکوۃ صدقہ فطر نیز کسی اور صدقہ واجبہ کی نہ ہو بلکہ چندے اور عطیہ کی رقم ہو جس کا مصرف قومی اور ملی فلاح و بہبود کے کام ہوں تو اس سے اسکول کی زمین خریدنا اور تعمیر کرنا جائز ہے. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد نیاز برکاتی مصباحی

Kutubahu & Verified by:

<h3>زکاۃ کی رقم دنیاوی اسکول کی زمین و تعمیر میں خرچ کرنا کیسا ہے؟</h3> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کی کیا بیت المال، صدقہ و زکوۃ کی رقم سے دینی اور دنیاوی تعلیم کے لئے اسکول کی زمین خریدنا درست ہے اور تعمیر اسکول بھی درست ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــ</strong></span> زکاۃ و صدقہ کی رقم کے اصل حقدار فقیر اور مسکین مسلمان ہیں. قرآن پاک میں ہے <span style="color: #ff0000;">" انما الصدقت للفقراء و المساکین"</span> ( پارہ 10 رکوع 14 آیت 60) تو زکوۃ انہیں کو دینے سے ادا ہوگی اور دوسرے کو دینا ناجائز و گناہ ہے اس لئے کسی بھی اسکول میں زکوۃ کی رقم دینا جائز نہیں اور نہ ہی اسکول میں دینے سے زکوۃ ادا ہوگی. دینی مدرسہ میں جو زکات کی اجازت فقہاء کرام نے دی ہے تو وہ ضرورت شرعیہ کے تحت دی ہے. فقہ کا قاعدہ کلیہ ہے " الضرورات تبیح المحظورات ،الحاجۃ قد تنزل منزلۃ الضرورۃ، المشقۃ تجلب التیسیر" ١ھ. اور اسکول میں ضرورت شرعیہ کیا حاجت شرعیہ بھی نہیں پائی جاتی. لہذا زکوۃ و صدقات کی رقم کسی بھی دنیاوی اسکول میں دینے سے ہرگز ادا نہ ہوگی اور نہ ہی اس سے زمین خریدنا اور اس سے اسکول کی تعمیر کرنا جائز ہے. البتہ بیت المال کی رقم جو زکوۃ صدقہ فطر نیز کسی اور صدقہ واجبہ کی نہ ہو بلکہ چندے اور عطیہ کی رقم ہو جس کا مصرف قومی اور ملی فلاح و بہبود کے کام ہوں تو اس سے اسکول کی زمین خریدنا اور تعمیر کرنا جائز ہے. واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد نیاز برکاتی مصباحی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...