Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1510 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.7K Views

قرض میں دی گئی رقم کی زکاۃ نکالنا کس پر واجب ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

قرض میں دی گئی رقم کی زکاۃ نکالنا کس پر واجب ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

قرض میں دی گئی رقم کی زکاۃ نکالنا کس پر واجب ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے بکر کو کچھ روپیہ بطور قرض آٹھ ماہ کے لیے دیا مگر اس نے وہ روپیہ 8 ماہ کی بجائے تین سال پر ادا کیا ۔ زید ہر سال ان روپیوں کی زکوۃ نکالتا رہا ۔ تو کیا زکوۃ میں دی گئی رقم بکر سے پانے کا حقدار ہے ؟ الجوابــــــــــــــــــــ جس آدمی کا روپیہ کسی کے ذمہ باقی ہو تو اس کی زکوۃ اس شخص پر واجب ہو گی جس کا وہ روپیہ ہے نہ کہ باقی دار پر۔ البتہ ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جب کہ قرض لینے والا قرض ادا کر دے ۔ اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکوۃ دے دی تو ادا ہوگئی. فقیہ اعظم حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں “اگر دین ایسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا میں دیر کرتا ہے تو جب مال ملے گا سالہائے گذشتہ کی بھی زکوۃ واجب ہے ۔ ؎(بہارشریعت حصہ پنجم صفحہ 12) اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: جو روپیہ قرض میں پھیلا ہے اس کی بھی زکوۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوں. اس وقت ادا واجب ھوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر. (فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 432) اور تحریر فرماتے ہیں پانچ سو کہ قرض میں پھیلا ہے اگر فی الحال سب کی زکوۃ دے دے تو آئندہ کے بار بار محاسبہ سے نجات ہے (فتاوی رضویہ جلد 4 صفحہ 410) لہذا زید قرض ملنے سے پہلے ہی ہر سال اس مال کی زکوۃ نکالتا رہا تو ادا ہوگئی مگر زکات میں دی گئی رقم بکر سے پانے کا وہ حقدار نہیں اس لیے کہ اس مال کی زکوۃ زید ہی پر واجب تھی البتہ بکر وعدہ خلافی کرنے کے سبب گناہ گار ہوا اور زید ثواب کا مستحق ہوا. حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” من کان لہ علی رجل حق ومن اخرہ کان لہ بکل یوم صدقۃ” یعنی جس کا کسی شخص پر حق ہو اور وہ اسے مہلت دے تو اسے ہر دن کے عوض اتنا مال سکتا کرنے کا ثواب ملے گا (مسند امام احمد بن حنبل جلد پنجم صفحہ 613) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

Kutubahu & Verified by:

<h2>قرض میں دی گئی رقم کی زکاۃ نکالنا کس پر واجب ہے؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے بکر کو کچھ روپیہ بطور قرض آٹھ ماہ کے لیے دیا مگر اس نے وہ روپیہ 8 ماہ کی بجائے تین سال پر ادا کیا ۔ زید ہر سال ان روپیوں کی زکوۃ نکالتا رہا ۔ تو کیا زکوۃ میں دی گئی رقم بکر سے پانے کا حقدار ہے ؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــ</strong></span> جس آدمی کا روپیہ کسی کے ذمہ باقی ہو تو اس کی زکوۃ اس شخص پر واجب ہو گی جس کا وہ روپیہ ہے نہ کہ باقی دار پر۔ البتہ ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جب کہ قرض لینے والا قرض ادا کر دے ۔ اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکوۃ دے دی تو ادا ہوگئی. فقیہ اعظم حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں "اگر دین ایسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا میں دیر کرتا ہے تو جب مال ملے گا سالہائے گذشتہ کی بھی زکوۃ واجب ہے ۔ ؎(بہارشریعت حصہ پنجم صفحہ 12) اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: جو روپیہ قرض میں پھیلا ہے اس کی بھی زکوۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوں. اس وقت ادا واجب ھوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر. (فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 432) اور تحریر فرماتے ہیں پانچ سو کہ قرض میں پھیلا ہے اگر فی الحال سب کی زکوۃ دے دے تو آئندہ کے بار بار محاسبہ سے نجات ہے (فتاوی رضویہ جلد 4 صفحہ 410) لہذا زید قرض ملنے سے پہلے ہی ہر سال اس مال کی زکوۃ نکالتا رہا تو ادا ہوگئی مگر زکات میں دی گئی رقم بکر سے پانے کا وہ حقدار نہیں اس لیے کہ اس مال کی زکوۃ زید ہی پر واجب تھی البتہ بکر وعدہ خلافی کرنے کے سبب گناہ گار ہوا اور زید ثواب کا مستحق ہوا. حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا <span style="color: #ff0000;"><strong>" من کان لہ علی رجل حق ومن اخرہ کان لہ بکل یوم صدقۃ"</strong></span> یعنی جس کا کسی شخص پر حق ہو اور وہ اسے مہلت دے تو اسے ہر دن کے عوض اتنا مال سکتا کرنے کا ثواب ملے گا (مسند امام احمد بن حنبل جلد پنجم صفحہ 613) واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...