01
The questionSawaal
اصل سوالسیدنا معاویہ کے متعلق امام احمد بن حنبل کےفتوے اقوال و نظریات
02
The responseAl-Jawab
سیدنا معاویہ کے متعلق امام احمد بن حنبل کےفتوے اقوال و نظریات.!
سوال: کچھ احباب نے ایک ویڈیو بھیجی اور کہا کہ اس کا مدلل جواب دیں ۔ ویڈیو میں ایک شخص کہتا ہے معاویہ نے دین کی کوئی خدمات نہیں کی بلکہ اس نے دین کی بربادی کی اور امام احمد بن حنبل کے مطابق معاویہ کے بارے میں جھوٹی احادیث ہیں کوئی فضیلت ثابت نہیں ۔ یہ مکاری ہوتی ہے کہ ہر سال کوئی نہ کوئی معاویہ کی فضیلت بیان کرنے کے لیے تحریر یا کتاب لکھی جاتی ہے ۔ . الجوابـــــــــــــــــــــــــ قَالَ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: أَلَيْسَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ صِهْرٍ وَنَسَبٍ يَنْقَطِعُ إِلَّا صْهِرِي وَنَسَبِي» ؟ قَالَ: ” بَلَى، قُلْتُ: وَهَذِهِ لِمُعَاوِيَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَهُ صِهْرٌ وَنَسَبٌ. قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: «مَا لَهُمْ وَلِمُعَاوِيَةَ، نَسْأَلُ اللَّهَ الْعَافِيَةَ» راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سوال کیا کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہر نسب اور ہر رشتے داری منقطع ہو جائے گی سوائے میری رشتہ داری اور میرے نسب کے؟ تو امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ جی ہاں یہ حدیث پاک ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سوال کیا کہ کیا یہ فضیلت سیدنا معاویہ کو بھی حاصل ہے؟ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ بے شک یہ فضیلت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے کہ ان کا نسب اور ان کی رشتہ داری نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ سیدنا معاویہ کے بارے میں نامناسب باتیں کرتے ہیں، (نامناسب باتوں اور ایسے لوگوں سے)اللہ عافیت میں رکھے ۔ (أبو بكر الخلال ,السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/432) . عظیم الشان تابعی سیدنا عمر بن عبدالعزیز سے بھی زیادہ افضل قرار دیا اور عظمت والا صحابی قرار دیا سیدنا معاویہ کو امام احمد بن حنبل نے : قلتُ لأبي عبد اللَّه: أيهما أفضل: معاوية أو عمر بن عبد العزيز؟فقال: معاوية أفضل، لسنا نقيس بأصحاب رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم- أحدًا؛ قال النبي -صلى اللَّه عليه وسلم-: “خيرُ الناسِ قرني الذي بعثتُ فيهم امام احمد بن حنبل کے بیٹے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ کون افضل ہے سیدنا معاویہ یا عمر بن عبدالعزیز…..؟؟ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ ہم وہ لوگ نہیں کہ جو صحابہ کرام کے برابر کسی(تابعی وغیرہ) کو نہیں کہتے، صحابہ کرام تو وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین لوگ وہ ہیں کہ جن میں مجھے مبعوث کیا گیا (كتاب الجامع لعلوم الإمام أحمد – العقيدة4/465) . امام احمد بن حنبل نے سیدنا معاویہ کو فضیلت والا صحابی قرار دیا جیسے کہ اوپر حوالہ جات گذرے اور پھر امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ کسی بھی ایک صحابی کی کوئی توہین کرے تو اس کو اسلام پر مت سمجھو قَالَ لِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: يَا أَبَا الْحَسَنِ، إِذَا رَأَيْتَ رَجُلًا يَذْكُرُ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ بِسُوءٍ فَاتَّهِمْهُ عَلَى الْإِسْلَامِ راوی کہتے ہیں کہ مجھے امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ کسی بھی ایک صحابی کو نامناسب الفاظ سے یاد کرے تو اس کے ایمان پر شک کرو ( البداية والنهاية ت التركي11/450) . حتی کہ امام احمد بن حنبل کے مطابق جو سیدنا معاویہ وغیرہ کسی صحابی کے بارے میں نامناسب کہے تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ورنہ بائیکاٹ کا حکم دیا امام احمد بن حنبل نے…. ایسے لوگوں کے بیانات وغیرہ روایات وغیرہ نہ سننے نہ ماننے کا حکم دیا امام احمد بن حنبل نے… اور امام احمد بن حنبل نےحکم دیا کہ لوگوں میں ایسوں کی مذمت کی جائے جو سیدنا معاویہ وغیرہ کے متعلق توہین کریں یا بے ادبی کریں يقول لأبي عبد اللَّه: جاءني كتاب من الرقة أن قومًا قالوا: لا نقول: معاوية خال المؤمنين. فغضب وقال: ما اعتراضهم في هذا الموضع؟ يجفون حتى يتوبوا ایک خط آیا لوگوں نے پوچھا کہ آپ کیا فرماتے ہیں معاویہ مومنوں کے ماموں ہیں یا نہیں تو امام احمد بن حنبل غضبناک ہو گئے اور فرمایا یہ( یعنی صحابہ کرام) بھی کوئی اعتراض کی جگہ ہیں.؟؟ ایسے لوگوں سے بے رخی اور سختی سے پیش آیا جائے گا ( بائیکاٹ کیا جائے گا) یہاں تک کہ توبہ کریں (كتاب الجامع لعلوم الإمام أحمد – العقيدة4/464) . وَجَّهْنَا رُقْعَةً إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ: مَا تَقُولُ رَحِمَكَ اللَّهُ فِيمَنْ قَالَ: لَا أَقُولُ إِنَّ مُعَاوِيَةَ كَاتَبُ الْوَحْيِ، وَلَا أَقُولُ إِنَّهُ خَالُ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّهُ أَخَذَهَا بِالسَّيْفِ غَصْبًا؟ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: هَذَا قَوْلُ سَوْءٍ رَدِيءٌ، يُجَانَبُونَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ، وَلَا يُجَالَسُونَ، وَنُبَيِّنُ أَمْرَهُمْ لِلنَّاسِ ہم نے ایک خط امام احمد بن حنبل کی جانب سے لکھا کہ آپ کیا فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ میں معاویہ کو کاتب وحی نہیں کہوں گا اور میں انہیں مومنوں کا ماموں نہیں کہوں گا، معاویہ نے طاقت کے زور پر حکومت حاصل کی ہے…. امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ یہ برا قول ہے ردی قول ہے ایسے قول کہنے والے لوگوں سے کنارہ کشی کی جائے گی ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ کیا جائے گا(بائیکاٹ کیا جائے گا) اور ایسے لوگوں کے کرتوت و مذمت ہم لوگوں میں عام کریں گے( تاکہ لوگ ایسے لوگوں خطیبوں لکھاریوں سے کنارہ کشی کریں اور گمراہ نہ ہوں) (أبو بكر الخلال ,السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/434) . جھوٹی حدیثیں تو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں بھی ہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ سیدنا علی کی شان گھٹا دی جائے اور کہا جائے کہ ان کی کوئی شان نہیں.؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ ان کی شان میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے تو وہ اس لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ دوٹوک الفاظ میں خصوصی فضیلت ثابت نہیں ورنہ سیدنا معاویہ کا صحابی ہونا مومنوں کا ماموں ہونا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار ہونا ہی بہت بڑی شان ہے پھر بھی آپ کی شان میں صحیح حدیث ثابت ہے الحدیث: أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ البَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا میری امت کا پہلا گروہ کہ جو بحری جہاد کرے گا ان کے لئے جنت واجب ہے (صحيح البخاري,4/42حدیث2924) (المعجم الكبير للطبراني حدیث323) (دلائل النبوة للبيهقي مخرجا 6/452) (مستدرك للحاکم4/599حدیث8668) . أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، سب سے پہلے مسلمانوں نے جو بحری جہاد کیا وہ معاویہ بن سفیان کے ساتھ کیا (سنن ابن ماجه ,2/927) . هذا الحديث منقبة لمعاوية لأنه أول من غزا في البحر یہ حدیث سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی منقبت ثابت کرتی ہے کیونکہ سیدنا معاویہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے بحری جہاد کیا (السراج المنير شرح الجامع الصغير,2/205) . وَفِيهِ فَضْلٌ لِمُعَاوِيَةَ إِذْ جَعَلَ مَنْ غَزَا تَحْتَ رَايَتِهِ مِنَ الْأَوَّلِينَ یعنی اس حدیث پاک سے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اسی کے جھنڈے تلے مسلمانوں نےسب سے پہلے بحری جہاد کیا (الاستذکار لابن عبد البر5/128) . بالفرض اگر یہ بات مان بھی لیا جائے کہ صحیح حدیث سے خصوصی فضیلت ثابت نہیں ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مطلقا فضیلت ثابت نہیں بلکہ ضعیف حدیث فضائل میں مقبول ہوتی ہے اس لیے امام احمد بن حنبل نے اپنی کتاب مسند احمد بن حنبل میں سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں حدیثیں لکھی ہیں مثلا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ: ” اللهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ ” نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ کا تذکرہ فرمایا اور معاویہ کے لیے دعا کی کہ یا اللہ معاویہ کو ہادی مہدی بنا اور اسے ہدایت کا ذریعہ بنا (أحمد بن حنبل ,مسند أحمد ط الرسالة ,29/426) . اللهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ معاویہ کو حساب و کتاب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے بچا (أحمد بن حنبل ,مسند أحمد ط الرسالة ,28/383) . سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جہادوں میں شرکت کی اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد کیا آپ کی بادشاہت میں بہت سارے علاقے فتح ہو کر مسلمانوں کے زیر سلطنت آئے ۔ کیا یہ خدمات کم ہیں؟ جہاد و فتوحاتِ سیدنا معاویہ کی جھلک وفي سنة ثلاث وأربعين فتحت الرخج وغيرها من بلاد سجستان، وودان من برقة، وكور من بلاد السودان وفي سنة خمس وأربعين فتحت القيقان قوهستان خلاصہ: رخج وغیرہا کئ ممالک سجستان ودان کور سوڈان قعقان قوہستان وغیرہ کئ ممالک سلطنتیں سیدنا معاویہ کے دور میں فتح ہوئے ۔ (عرب تا افریقہ تک تقریبا آدھی دنیا پر سیدنا معاویہ کی حکومت تھی) [تاريخ الخلفاء ,page 149ملخصا] . تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.