Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

حج کے لئے جمع روپیوں پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ | مسائل ورلڈ

حج کے لئے جمع روپیوں پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ | مسائل ورلڈ
Reference 1519 September 18, 2025 13,827 views
اصل سوالحج کے لئے جمع روپیوں پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ | مسائل ورلڈ

حج کے لئے جمع روپیوں پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ اگر یقین سے نہ معلوم ہو کہ کتنے سال مالک نصاب رہا تو اس کی زکوۃ کیسے نکالے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں میرے بھائی پندرہ سولہ سالوں سے بمبئی کمانے کے لئے جاتے ہیں ایک ڈیڑھ سال بمبئی رہتے ہیں اور سال چھ مہینہ گھر پر گزارتے ہیں. اولا بھاڑے پر دھندا کرتے تھے پھر اپنی کمائی سے خود ہی اپنا دھندا خرید لیا اور پھر اس کے بعد اپنی کمائی سے گھر بنوایا اور ضرورت کی چیزیں خریدیں اپنی شادی میں لگایا اور پھر بہن کی شادی کی اور اس سال والدین کو حج کے لیے بھیج رہے ہیں. اس دوران کبھی ان کے پاس لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے اکٹھے ہوگئے اور کبھی کچھ نہ بچا اور کبھی ان روپے پر سال ڈیڑھ سال گزر گیا اور کبھی جلد خرچ ہوگئے. لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو روپے حج کے لیے ابھی جمع ہیں ان کی زکوۃ نکالی جائے یا اتنے سالوں میں جو کمایا ان سب کی اور اگر ان سب سالوں کی ادا کی جائے تو کس طرح ادا کی جائے؟ کوئی آسان طریقہ تجویز فرما دیں عین نوازش ہوگی اس لیے کہ اب یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہو گیا کہ کب کب نصاب کا مالک ہوا اور کب کب نصاب پر سال گزرا. بینوا و توجروا الجوابـــــــــــــــــــــــ حج کے لئے جو روپے جمع ہیں ان پر اگر حولان الحول ہوچکا ہے تو ان روپے پر زکوۃ واجب ہے ساتھ ہی گزشتہ ان تمام سالوں کے روپیوں پر بھی واجب ہے جن سالوں میں وہ مالک نصاب رہا لیکن جب تحقیقی طور پر یہ معلوم نہیں کہ کتنے سال وہ مالک نصاب رہا اور کتنے سال مالک نصاب نہیں رہا تو اب اس کی ادائیگی کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک بڑی سے بڑی رقم جس پر ظن غالب ہو جائے کہ اب اس سے زیادہ رقم زکوۃ کی نہیں نکلے گی فرض کرکے ادا کردے امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالی شرف قبولیت عطا فرمائے. فتاویٰ رضویہ میں ہے ” مدت دراز گزرنے کے باعث اگر زکوۃ کا تحقیقی حساب نہ معلوم ہو سکے تو عاقبت پاک کرنے کے لیے بڑی سے بڑی رقم جہاں تک خیال میں آ سکے فرض کر لے کہ زیادہ ہو جائے گا تو ضائع نہ جائے گا بلکہ تیرے رب مہربان کے پاس تیری بڑی حاجت کے وقت کے لئے جمع رہے گا. (صفحہ 439 جلد 4) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد سفیر الحق رضوی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.