Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1530 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.2K Views

شب براءت کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شب براءت کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شب براءت کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

کیا احادیثِ مبارکہ میں شعبان المعظم کی پندرھویں رات (یعنی شب براءت) کے فضائل موجود ہیں ؟ سائل : تنویر مدنی ڈیرہ اسماعیل خان بسمہ تعالیٰ الجواب بعون الملک الوھّاب جی ہاں! احادیثِ مبارکہ میں کثرت کے ساتھ شبِ براءت کے فضائل موجود ہے اور ہمارے اسلاف (صحابہ کرام، تابعین عظام، تبع تابعین، اکابرین امت) اس رات کو شب بیداری کرتے، کثرت کے ساتھ الله پاک کی عبادت، ذکر و اذکار وغیرہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اہلسنّت و جماعت اب تک کرتے چلے آ رہے ہیں۔ جمہور محدثین کی رائے اور ان کے مؤقف کے مطابق مثلاً امام بخاری، امام مسلم، امام احمد بن حنبل، امام یحیی بن معین، امام سفیان ثوری اور امام ابن ابی حاتم طائی رحمۃ اللہ علیھم وغیرہ جمہور محدثین کا فیصلہ درجنوں کتب محدثین کی روشنی میں یہ ہے کہ فضائلِ اعمال، ترغیب و ترہیب، زہد، خلاق و آداب اور مواعظ میں احادیثِ ضعیفہ بھی حجت ہیں اور ان سے وہ استدلال کرتے ہیں اور ان کو محدثین کو قبول کرتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ فضائلِ اعمال میں احادیثِ ضعیفہ بھی قبول ہیں، شعبان المعظم کی اس مبارک رات کی فضیلت میں احادیثِ صحیحہ اور حَسّان بھی موجود ہیں۔ کتبِ احادیث اور کتبِ فضائل میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیرہ (13) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مرفوعاً احادیث موجود ہیں، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شبِ براءت کی فضیلت کو بیان کیا ہے، ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اسمائے گرامی یہ ہیں : 1- سیدنا ابو بکر صدیق 2- سیدنا علی المرتضی 3- سیدنا عبداللہ بن عمرو 4- سیدنا معاذ بن جبل 5- سیدنا ابوہریرہ 6- سیدنا ابو موسیٰ اشعری 7- سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی 8- سیدنا ابی بن کعب 9- سیدنا عوف بن مالک 10- سیدنا ابو امامہ الباھلی 11- سیدنا عثمان بن ابی العاص 12- سیدنا یزید بن جاریہ الیربوعی 13- ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھم اجمعین۔ ان اصحابِ رسول رضی اللہ عنھم سے درجنوں کتبِ احادیث میں شبِ براءت کے فضائل موجود ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً احادیث بھی موجود ہیں۔ نوٹ : وہ قول یا فعل یا تقریر یا صفت جس کی اضافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو وہ حدیثِ مرفوع کہلاتی ہے۔ مرسل روایت نمبر 1: مرسل سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنھا: “حدثنا عبداللہ حدثنی ابی ثنا یزید بن ھارون قال : انا الحجاج بن ارطاۃ عن یحیی بن کثیر عن عروۃ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَخَرَجْتُ فَإِذَا ہُوَ بِالْبَقِیعِ رَافِعٌ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَاءِ فَقَالَ لِی : أَکُنْتِ تَخَافِینَ أَنْ یَحِیفَ اللَّہُ عَلَیْکِ وَرَسُولُہُ، قَالَتْ، قُلْتُ : ظَنَنْتُ اَنَّکَ أَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ‘‘ یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو نہیں پایا تو (انہیں تلاش کرنے کی غرض سے) باہر نکلی، دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں تھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے، (مجھے دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا تجھے یہ خوف تھا کہ کہیں اللہ پاک اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری حق تلفی کریں گے ؟ آپ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ازواجِ مطھرات میں سے کسی کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے۔ تو فرمایا : “بے شک اللہ عزوجل شعبان کی پندرہویں رات میں آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے، پس قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گنہگاروں کو بخش دیتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جلد 7، صفحہ 340، رقم الحدیث : 25487، سنن ترمذی، جلد 2، صفحہ 183، رقم الحدیث : 739، دار الفکر بیروت، مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : 29858، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 1389، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 379، رقم الحدیث : 3824، شرح السنۃ للبغوی، جلد 4، صفحہ 126، رقم الحدیث : 992، فضائل الاوقات للبیہقی، رقم الحدیث : 280) یہ حدیث مختلف طرق سے حدیث و فضائل کی درجنوں کتابوں میں موجود ہے، جس کے تمام راوی ثقہ ہیں، اس کے چند طرق درج ذیل ہیں : 1- پہلا طرق، مسند احمد بن حنبل، جلد 7، صفحہ 340، رقم الحدیث : 25487 پر ہے. 2- دوسرا طرق، ابو بکر اسماعیلی کی معجم الشیوخ، جلد 1، صفحہ 408 پر ہے. 3- تیسرا طرق، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 382 پر ہے. 4- چوتھا طرق، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 383، 384 پر ہے. 5- پانچواں طرق، کتاب الدعاء للطبرانی، صفحہ 210، رقم الحدیث : 606 پر ہے. 6- چھٹا طرق، فضائل الاوقات للبیہقی، صفحہ 126، رقم الحدیث : 26 پر ہے. 7- ساتواں طرق، فضائل الاوقات للبیہقی، صفحہ 128، 129 پر ہے. 8- آٹھواں طرق، تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 36، صفحہ 195 پر ہے. اعتراض : امام حجاج بن ارطاۃ کی یحیی بن کثیر سے اور یحیی بن کثیر کی عروۃ سے سماعت کی تصریح نہیں ہے. جواب : محدثین کی جانب سے یہ اعتراض فقط ایک طرق پر ہے جبکہ اس حدیث کے دس (10) کے قریب طرق ہیں، لہٰذا ان تمام طرق کی موجودگی میں یہ اعتراض کسی کام کا نہیں اور نہ ہی یہ حدیث کے ضعف کو مستلزم ہے۔ مصححین : امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اسی روایت کو الجامع الصغیر میں حسن کی اصطلاح پر لکھا ہے یعنی اسے حسن قرار دیا ہے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں : “ان اللہ تعالیٰ ینزل لیلۃ النصف من شعبان الی سماء الدنیا فیغفر لاکثر من عدد شعر غنم کلب (حم۔ ت) عن عائشۃ (ح)” (الجامع الصغیر، صفحہ 120، رقم الحدیث : 1942، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان) ان تمام طرق کو دیکھتے ہوئے غیر مقلدین کے امام ناصر الدین البانی نے اپنا فیصلہ یوں لکھا : “جملۃ القول ان الحدیث بمجموع ھذہ الطرق صحیح بلاریب و الصحۃ تثبت باقل منھا عدداً مادامت سالمۃ من الضعف الشدید کما ھو الشان فی ھذا الحدیث” یعنی اس میں نتیجے کی بات یہ ہے کہ بے شک یہ روایت تمام طرق کے ساتھ بلا شک و شبہ صحیح ہے حالانکہ اس سے کم طرق کے ساتھ بھی صحت یابت ہو جاتی ہے جب تک وہ ضعفِ شدید سے سالم ہو، جس طرح اس حدیث کی شان ہے (کہ اس میں ضعفِ شدید نہیں ہے۔) (السلسلۃ الصحیحۃ، جلد 3، صفحہ 138) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : “ولھذا الحدیث شواھد من حدیث عائشہ” یعنی اس حدیث کے لئے حدیثِ عائشہ سے شواہد ہیں۔ (شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 349، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان) تو شواہد کی وجہ سے محدثین نے اس حدیث کو درجہ صحت پر فائز مانا ہے اور غیر مقلدین کے امام البانی نے بھی اس حدیث کی صحت کو تسلیم کیا ہے۔ مرسل روایت نمبر 2 : مرسل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ : بائیس (22) کتبِ حدیث و فضائل میں موجود ہے۔ “یطلع ﷲ الی جمیع خلقہ لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لجمیع خلقہ الا المشرک أو مشاحن” یعنی پندرہ شعبان کی رات ﷲ تعالیٰ اپنے تمام مخلوق کی جانب طلوع فرماتا ہے اور مشرک و کینہ پرور کے علاوہ اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، جلد 1، صفحہ 445، رقم الحدیث : 1390) ’’حدیث کی تخریج‘‘: اس حدیث کو بزار نے کشف الاستار (۴۳۰/۲)، ابن خزیمہ نے التوحید (۳۲۶/۳)، ابن ابی عاصم نے السنۃ (۲۲۱/۴)، لالکائی نے شرح الاعتقاد (۴۳۸/۵)، ابونعیم نے بحوالہ سلسلۃ الصحیحۃ (۱۳۲/۶)، بیہقی نے الترغیب والترہیب (۲۸۳/۷) میں روایت کیا ہے۔ مسند بزار کے الفاظ یہ ہیں “ان الله تعالیٰ ینزل لیلۃ النصف من شعبان الی سماء الدنیا فیغفر لکل نفس الا لاثنین فی قلبہ شحناء و مشرک باللہ عزوجل” یعنی بے شک اللہ تعالی شعبان المعظم کی پندرھویں شب کو آسمانِ دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے، پس وہ ہر نفس کی بخشش فرما دیتا ہے سوائے دو کے، ایک کینہ پرور کی اور دوسرا اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنے والے کی۔ (مسند بزار، جلد 1، صفحہ 206، رقم الحدیث : 80، کتاب السنۃ ابن ابی عاصم، صفحہ 222، 223، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 381، شرح السنۃ للبغوی، جلد 4، صفحہ 127، رقم الحدیث : 993، کتاب التوحید لابن خزیمۃ، جلد 1، صفحہ 325، رقم الحدیث : 200) مصححین : 1- امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب توحید کے اندر اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (کتاب التوحید لابن خزیمۃ، جلد 1، صفحہ 325، رقم الحدیث : 200) 2- غیر مقلدین کے امام ناصر الدین البانی نے کتاب السنۃ کی تحکیم میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔ 3- امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “رواہ البزار و فیہ عبدالملک بن عبدالملک ذکرہ ابن ابی حاتم فی الجرح و التعدیل و لم یضعفہ و بقیۃ رجالہ ثقات” یعنی اس حدیث کو بزار نے روایت کیا ہے اور اس میں عبد الملک بن عبد الملک ہیں، ان کو ابن ابی حاتم نے “الجرح و التعدیل” میں ذکر کیا ہے اور ان کو ضعیف قرار نہیں دیا اور اس کے بقیہ راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد، جلد 8، صفحہ 65) امام منذری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تحریر فرمایا : “رواہ۔۔۔ البزار و البیھقی من حدیث ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ بنحوہ باسناد لاباس بہ” یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث کو بزار اور بیہقی نے روایت کیا ہے، اس روایت میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے اور نہ کوئی خرابی ہے۔ (الترغیب و الترھیب، جلد 3، صفحہ 307) امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : “ھذا حدیث حسن” یعنی یہ حدیث حسن ہے۔ (الامالی المطلقۃ، صفحہ 122) مرسل روایت نمبر 3: مرسل سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ : “حدثنا عبداللہ حدثنی ابی ثنا حسن، ثنا ابن لھیعۃ ثنا حیی بن عبداللہ عن عبدالرحمن الحبلی عن عبداللہ بن عمرو ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : یطلع الله عزوجل الی خلقہ لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لعبادہ الا لاثنین مشاحن و قاتل نفس” یعنی اللہ عزوجل شعبان کی پندرھویں رات کو اپنی مخلوق کی طرف طلوع فرماتا ہے، اپنے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے مگر دو بندوں کی ایک کینہ پرور کی اور دوسرا خودکشی کرنے والے کی۔ (مسند احمد بن حنبل، جلد 2، صفحہ 368، رقم الحدیث : 6604) اس حدیث کی سند بالکل بےغبار ہے۔ اعتراض : ابن لھیعہ نے اختلاط کے بعد یہ حدیث بیان کی ہے۔ جواب : ابن لھیعہ کے بارے میں محدثین کا اصول یہ ہے کہ اگر اس سے متقدمین ثقات روایت لیں اور اس میں ابن لھیعۃ کی سماع کی تصریح موجود ہو یعنی اَبرنا، حدثنا وغیرہ کے ساتھ بیان کرے تو اس حدیث پر اعتراض واقع نہیں ہوتا اور ابن لھیعہ نے یہ حدیث حدثنا کے ساتھ روایت کی ہے۔ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کا متابع پیش کیا ہے : “رشیدین بن سعد عن حیی بن عبداللہ عن ابی عبدالرحمن الحبلی عن عبداللہ بن عمرو۔۔۔۔ مرفوعاً” (السلسلۃ الصحیحۃ، جلد 3، صفحہ 136) تو اس متابع کی وجہ سے یہ حدیث درجہ حسن تک پہنچتی ہے۔ مرسل روایت نمبر 4: مرسل سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ : “اخبرنا محمد بن المعافی العابد بصیدا، و ابن قتیبۃ وغیرہ قالوا : حدثنا ھشام بن خالد الارزق، قال حدثنا ابوخلید عتبۃ بن حماد عن الاوزاعی و ابن ثوبان عن ابیہ عن مکحول عن مالک بن یخامر عن معاذ بن جبل عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : یطّلع الله الی خلقہ فی لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لجمیع خلقہ الا لمشرک او مشاحن” (صحیح ابن حبان، صفحہ 1514، رقم الحدیث : 5665 دارالمعرفۃ بیروت، المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 20، صفحہ 108، کتاب السنۃ ابن ابی عاصم، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، جلد 5، صفحہ 191، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 382، فضائل الاوقات للبیھقی، صفحہ 118، رقم الحدیث : 22، موارد الظمآن، صفحہ 486، رقم الحدیث : 1980) اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ مصححین : ناصرالدین البانی نے اس حدیث کو صحیح لکھا ہے۔ (صحیح الترغیب و الترھیب، صفحہ 427،رقم الحدیث : 1016) امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا : “رواہ الطبرانی فی الکبیر و الاوسط و رجالھما ثقات” (مجمع الزوائد، جلد 8، صفحہ 65) مرسل روایت نمبر 5 : مرسل سیدنا ابی ثعلبہ الخشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ : “المحاربی عن الاحوص بن حکیم عن حبیب بن صھیب عن مکحول عن ابی ثعلبہ ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : یطلع الله علی عبادہ لیلۃ النصف من شعبان گیغفر للمؤمنین و یمھل الکافرین ویدع اھل الحقد بحقدھم حتی یدعوہ” (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 9، صفحہ 263، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان، کتاب السنۃ لابن ابی عاصم، صفحہ 223، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 381، رقم الحدیث : 3832، فضائل الاوقات للبیھقی، صفحہ 120، رقم الحدیث : 23، شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، جلد 3، صفحہ 445، رقم الحدیث : 760) مصححین : ناصرالدین البانی نے کتاب السنۃ، صفحہ 224 پر اس حدیث کو صحیح لکھا ہے۔ مرسل روایت نمبر 6: مرسل سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ : یہ حدیث تاریخ دمشق، جلد 51، صفحہ 72 پر ہے۔ مرسل روایت نمبر 7 : مرسل سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ : یہ حدیث مسند بزار، جلد 7، صفحہ 186، رقم الحدیث : 2754 اور مجمع الزوائد، جلد 8، صفحہ 65 پر ہے۔ مرسل روایت نمبر 8 : مرسل سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ : یہ حدیث سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 1388، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 379، الترغیب و الترھیب اور فضائل الاوقات للبیہقی میں ہے۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت کے چار طرق ہیں، جن میں سے دو یہ ہیں : 1- شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 379۔ 2- غنیۃ الطالبین، جلد 1، صفحہ 198۔ مرسل روایت نمبر 9 : مرسل سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ : یہ حدیث سنن ابن ماجہ، صفحہ 247، رقم الحدیث : 1390، تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 18، صفحہ 326، کتاب النزول للامام دار قطنی میں ہے۔ اس حدیث کو ناصر الدین البانی نے حسن قرار دیا ہے۔ مرسل روایت نمبر 10 : مرسل سیدنا ابو امامہ الباھلی رضی اللہ عنہ : یہ حدیث الترغیب والترھیب جلد 2، صفحہ 98 پر ہے۔ مرسل روایت نمبر 11 : مرسل سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ : “اخبرنا ابوالحسین بن بشران انا انو جعفر الرزاز نا محمد بن احمد الرباضی نا جامع بم صیع الرملی نا مرحوم بن عبدالعزیز عن داؤد بن عبدالرحمن عن ھشام بن حسان عن الحسن عن عثمان بن ابی العاص عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : (اذا) کان لیلۃ النصف من شعبان (فاذا) مناد ھل من مستغفر فاغفر لہ ھل من سائل فاعطیہ فلایسال احدا لااعطی الا زانیۃ بفرجھا او مشرک” (شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 383) یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ اعتراض : حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے سماعت پر اعتراض ہے کہ سمع کی تصریح نہیں ہے، انہوں نے حدثنا، اخبرنا وغیرہ کے سماعت کی تصریح نہیں فرمائی بلکہ عن کے ذریعے روایت بیان کی ہے۔ جواب : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان نقل فرماتے ہیں کہ: “کنا ندخل علی عثمان بن ابی العاص و قد اخلا بیتا للحدیث” یعنی ہم حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہ پر داخل ہوتے تو تحقیق وہ حدیث سنانے کے لئے اپنے کمرے میں الگ ہو جاتے۔ (کتاب التاریخ الکبیر للبخاری، جلد 6، صفحہ 127، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان) تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اس حوالے اور ان کے مؤقف دے سے ان کی باہمی ملاقات اور ان سے حدیث سننا ثابت ہوگیا۔ مزید یہ کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہان دونوں نے ان کی عثمان بن ابی العاص سے روایت کو صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا سماع ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس رات کی فضیلت میں ایک موقوف حدیث موجود ہے : “قال عبدالرزاق : و اخبرنی من سمع البیلمانی یحدث عن ابیہ عن ابن عمر قال : خمس لیال لاترد فیھن الدعاء، لیلۃ الجمعۃ، و اول لیلۃ من رجب و لیلۃ النصف من شعبان و لیلتی العیدین” حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی، جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، نصف شعبان کی رات اور عیدین کی دو راتیں۔ (مصنف عبدالرزاق، جلد 4، صفحہ 317) اسی طرح پانچ تابعین سے مرسل روایات موجود ہیں۔ وہ پانچ تابعی جن سے شبِ براءت کی فضیلت کے بارے میں مرسل روایات ہیں، درج ذیل میں ان کے نام اور ان کتب کے نام ذکر کیے جاتے ہیں، جن میں ان کی مرسل روایات موجود ہیں : 1- کثیر بن مرہ رحمۃ اللہ علیہ : تابعی کبیر ہیں، انہوں نے ستر (70) بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ملاقات کی ہے، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ ان کی مرسل روایت امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب المطالب رقم الحدیث 1124 میں ہے، جن کے رجال کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ : “رجال الاسناد کلھم ثقات” یعنی اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔ 2- امام مکحول رحمۃ اللہ علیہ : ان کی مرسل روایت “مصنف ابن ابی شیبہ” اور “شعب الایمان” جلد 3 صفحہ 381 پر ہے. 3- راشد بن سعد رحمۃ اللہ علیہ : ان کی مرسل روایت “کتاب المجالسۃ و جواہر العلم للدینوری” جلد 3، صفحہ 303، رقم الحدیث : 944 پر ہے۔ 4- یحییٰ بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ : ان کی مرسل روایت “شعب الایمان” جلد 3 صفحہ 379 پر ہے. 5- عطاء بن یسار رحمۃ اللہ علیہ : ان کی مرسل روایت “شرح اصول اعتقاد اہل سنت” جلد 3، صفحہ 451، رقم الحدیث : 769 پر ہے۔ نوٹ 1: مرسل روایت اس کو کہتے ہیں جس میں تابعی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرے اور صحابی کا واسطہ چھوڑ دے۔ پہلی دو صدیوں تک تابعین کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ تابعین کی مرسل روایت بھی حجت ہے، اس کو امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے “تدریب الراوی” میں امام طبری کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ امام طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : “اس پر تابعین کا اجماع ہے کہ تابعین کی مرسل روایت تابعین کے ہاں حجت ہے، پورے دو سو سال تک تابعین کے مرسلات کو محدثین خود تسلیم کرتے آئے ہیں۔ نوٹ 2: ہمارے نزدیک مرسل روایت جب تک مرفوع حدیث کے مقابلے میں نہ آئے تو اپنی شرائط کے ساتھ مقبول ہے. اسی طرح سات تابعین کرام سے موقوفاً شب برات کی فضیلت میں حدیثِ مبارکہ موجود ہیں، ان سات تابعین عظام کے نام درج ذیل ہیں : 1- کثیر بن مرہ حضرمی رحمۃ اللہ علیہ 2- امام مکحول شامی رحمۃ اللہ علیہ 3- ابو ادریس خولانی رحمۃ اللہ علیہ 4- فضیل بن فضالہ ہوزنی رحمۃ اللہ علیہ 5- خالد بن سعدان رحمۃ اللہ علیہ 6- لقمان بن عامر رحمۃ اللہ علیہ 7- عکرمہ مولیٰ ابن عباس رحمۃ اللہ علیہ نوٹ : وہ قول، فعل یا سکوت جس کی اضافت صحابی کی طرف ہو، اسے موقوف کہتے ہیں۔ اور دو تابعین سے معضل روایات موجود ہیں، ذیل میں ان کے نام اور ان کتب کے نام ذکر کیے جاتے ہیں، جن میں ان کی معضل روایات موجود ہیں : 1- وضین بن عطاء رحمۃ اللہ علیہ : ان کی معضل روایت “مسند اسحاق بن راھویہ” رقم الحدیث : 1702 پر ہے۔ 2- قاسم بن سعید رحمۃ اللہ علیہ : ان کی معضل روایت “طبقات الشافیہ السبکی” جلد 8، صفحہ 68 پر ہے. نوٹ : جس حدیث کی سند سے دو یا زیادہ راوی مسلسل (یعنی ایک ہی جگہ سے) ساقط ہوں، وہ حدیث معضل کہلاتی ہے۔

شب براءت میں جاگنا | شب بیداری کے حوالے سے سلف صالحین کا عمل

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : “بلغنا انه کان یقال ان الدعاء یستجاب فی خمس لیال فی لیلۃ الجمعۃ و لیلۃ الاضحی و لیلۃ الفطر و اول لیلۃ من رجب و لیلۃ النصف من شعبان’’ یعنی ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ (دورِ صحابہ و تابعین میں) کہا جاتا تھا کہ پانچ راتوں میں دعا قبول ہوتی ہے، جمعہ کی رات میں، عیدالاضحی کی رات میں، عیدالفطر کی رات میں، رجب کی پہلی رات میں اور نصف شعبان (پندرھویں شعبان) کی رات میں۔ (کتاب الام، کتاب صلوٰة العیدین، العبادة لیلة العیدین، جلد 1، صفحہ 231) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیھم کا عید کی شب دعا کا معمول ذکر کرنے کے بعد امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “و انا استحب کل ماحکیت فی هذه اللیالی من غیر ان یکون فرضا” یعنی مذکورہ راتوں کے متعلق جو کچھ میں نے بیان کیا ہے، میں اسے مستحب سمجھتا ہوں بغیر اس کے کہ یہ فرض ہو۔ (کتاب الام، کتاب صلوٰة العیدین، العبادة لیلة العیدین، جلد 1، صفحہ 231) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم کتبہ  : ابواسیدعبیدرضامدنی رئیس مرکزی دارالافتاء اہلسنت عیسیٰ خیل

Kutubahu & Verified by:

<h2>شب براءت کی فضیلت احادیث کی روشنی میں</h2> کیا احادیثِ مبارکہ میں شعبان المعظم کی پندرھویں رات (یعنی شب براءت) کے فضائل موجود ہیں ؟ سائل : تنویر مدنی ڈیرہ اسماعیل خان بسمہ تعالیٰ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھّاب</strong></span> جی ہاں! احادیثِ مبارکہ میں کثرت کے ساتھ شبِ براءت کے فضائل موجود ہے اور ہمارے اسلاف (صحابہ کرام، تابعین عظام، تبع تابعین، اکابرین امت) اس رات کو شب بیداری کرتے، کثرت کے ساتھ الله پاک کی عبادت، ذکر و اذکار وغیرہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اہلسنّت و جماعت اب تک کرتے چلے آ رہے ہیں۔ جمہور محدثین کی رائے اور ان کے مؤقف کے مطابق مثلاً امام بخاری، امام مسلم، امام احمد بن حنبل، امام یحیی بن معین، امام سفیان ثوری اور امام ابن ابی حاتم طائی رحمۃ اللہ علیھم وغیرہ جمہور محدثین کا فیصلہ درجنوں کتب محدثین کی روشنی میں یہ ہے کہ فضائلِ اعمال، ترغیب و ترہیب، زہد، خلاق و آداب اور مواعظ میں احادیثِ ضعیفہ بھی حجت ہیں اور ان سے وہ استدلال کرتے ہیں اور ان کو محدثین کو قبول کرتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ فضائلِ اعمال میں احادیثِ ضعیفہ بھی قبول ہیں، شعبان المعظم کی اس مبارک رات کی فضیلت میں احادیثِ صحیحہ اور حَسّان بھی موجود ہیں۔ کتبِ احادیث اور کتبِ فضائل میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیرہ (13) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مرفوعاً احادیث موجود ہیں، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شبِ براءت کی فضیلت کو بیان کیا ہے، ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اسمائے گرامی یہ ہیں : 1- سیدنا ابو بکر صدیق 2- سیدنا علی المرتضی 3- سیدنا عبداللہ بن عمرو 4- سیدنا معاذ بن جبل 5- سیدنا ابوہریرہ 6- سیدنا ابو موسیٰ اشعری 7- سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی 8- سیدنا ابی بن کعب 9- سیدنا عوف بن مالک 10- سیدنا ابو امامہ الباھلی 11- سیدنا عثمان بن ابی العاص 12- سیدنا یزید بن جاریہ الیربوعی 13- ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھم اجمعین۔ ان اصحابِ رسول رضی اللہ عنھم سے درجنوں کتبِ احادیث میں شبِ براءت کے فضائل موجود ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً احادیث بھی موجود ہیں۔ نوٹ : وہ قول یا فعل یا تقریر یا صفت جس کی اضافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو وہ حدیثِ مرفوع کہلاتی ہے۔ مرسل روایت نمبر 1: مرسل سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنھا: "حدثنا عبداللہ حدثنی ابی ثنا یزید بن ھارون قال : انا الحجاج بن ارطاۃ عن یحیی بن کثیر عن عروۃ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَخَرَجْتُ فَإِذَا ہُوَ بِالْبَقِیعِ رَافِعٌ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَاءِ فَقَالَ لِی : أَکُنْتِ تَخَافِینَ أَنْ یَحِیفَ اللَّہُ عَلَیْکِ وَرَسُولُہُ، قَالَتْ، قُلْتُ : ظَنَنْتُ اَنَّکَ أَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ‘‘ یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو نہیں پایا تو (انہیں تلاش کرنے کی غرض سے) باہر نکلی، دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں تھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے، (مجھے دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا تجھے یہ خوف تھا کہ کہیں اللہ پاک اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری حق تلفی کریں گے ؟ آپ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ازواجِ مطھرات میں سے کسی کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے۔ تو فرمایا : "بے شک اللہ عزوجل شعبان کی پندرہویں رات میں آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے، پس قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گنہگاروں کو بخش دیتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جلد 7، صفحہ 340، رقم الحدیث : 25487، سنن ترمذی، جلد 2، صفحہ 183، رقم الحدیث : 739، دار الفکر بیروت، مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : 29858، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 1389، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 379، رقم الحدیث : 3824، شرح السنۃ للبغوی، جلد 4، صفحہ 126، رقم الحدیث : 992، فضائل الاوقات للبیہقی، رقم الحدیث : 280) یہ حدیث مختلف طرق سے حدیث و فضائل کی درجنوں کتابوں میں موجود ہے، جس کے تمام راوی ثقہ ہیں، اس کے چند طرق درج ذیل ہیں : 1- پہلا طرق، مسند احمد بن حنبل، جلد 7، صفحہ 340، رقم الحدیث : 25487 پر ہے. 2- دوسرا طرق، ابو بکر اسماعیلی کی معجم الشیوخ، جلد 1، صفحہ 408 پر ہے. 3- تیسرا طرق، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 382 پر ہے. 4- چوتھا طرق، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 383، 384 پر ہے. 5- پانچواں طرق، کتاب الدعاء للطبرانی، صفحہ 210، رقم الحدیث : 606 پر ہے. 6- چھٹا طرق، فضائل الاوقات للبیہقی، صفحہ 126، رقم الحدیث : 26 پر ہے. 7- ساتواں طرق، فضائل الاوقات للبیہقی، صفحہ 128، 129 پر ہے. 8- آٹھواں طرق، تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 36، صفحہ 195 پر ہے. اعتراض : امام حجاج بن ارطاۃ کی یحیی بن کثیر سے اور یحیی بن کثیر کی عروۃ سے سماعت کی تصریح نہیں ہے. جواب : محدثین کی جانب سے یہ اعتراض فقط ایک طرق پر ہے جبکہ اس حدیث کے دس (10) کے قریب طرق ہیں، لہٰذا ان تمام طرق کی موجودگی میں یہ اعتراض کسی کام کا نہیں اور نہ ہی یہ حدیث کے ضعف کو مستلزم ہے۔ مصححین : امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اسی روایت کو الجامع الصغیر میں حسن کی اصطلاح پر لکھا ہے یعنی اسے حسن قرار دیا ہے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں : "ان اللہ تعالیٰ ینزل لیلۃ النصف من شعبان الی سماء الدنیا فیغفر لاکثر من عدد شعر غنم کلب (حم۔ ت) عن عائشۃ (ح)" (الجامع الصغیر، صفحہ 120، رقم الحدیث : 1942، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان) ان تمام طرق کو دیکھتے ہوئے غیر مقلدین کے امام ناصر الدین البانی نے اپنا فیصلہ یوں لکھا : "جملۃ القول ان الحدیث بمجموع ھذہ الطرق صحیح بلاریب و الصحۃ تثبت باقل منھا عدداً مادامت سالمۃ من الضعف الشدید کما ھو الشان فی ھذا الحدیث" یعنی اس میں نتیجے کی بات یہ ہے کہ بے شک یہ روایت تمام طرق کے ساتھ بلا شک و شبہ صحیح ہے حالانکہ اس سے کم طرق کے ساتھ بھی صحت یابت ہو جاتی ہے جب تک وہ ضعفِ شدید سے سالم ہو، جس طرح اس حدیث کی شان ہے (کہ اس میں ضعفِ شدید نہیں ہے۔) (السلسلۃ الصحیحۃ، جلد 3، صفحہ 138) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : "ولھذا الحدیث شواھد من حدیث عائشہ" یعنی اس حدیث کے لئے حدیثِ عائشہ سے شواہد ہیں۔ (شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 349، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان) تو شواہد کی وجہ سے محدثین نے اس حدیث کو درجہ صحت پر فائز مانا ہے اور غیر مقلدین کے امام البانی نے بھی اس حدیث کی صحت کو تسلیم کیا ہے۔ مرسل روایت نمبر 2 : مرسل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ : بائیس (22) کتبِ حدیث و فضائل میں موجود ہے۔ "یطلع ﷲ الی جمیع خلقہ لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لجمیع خلقہ الا المشرک أو مشاحن" یعنی پندرہ شعبان کی رات ﷲ تعالیٰ اپنے تمام مخلوق کی جانب طلوع فرماتا ہے اور مشرک و کینہ پرور کے علاوہ اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، جلد 1، صفحہ 445، رقم الحدیث : 1390) ’’حدیث کی تخریج‘‘: اس حدیث کو بزار نے کشف الاستار (۴۳۰/۲)، ابن خزیمہ نے التوحید (۳۲۶/۳)، ابن ابی عاصم نے السنۃ (۲۲۱/۴)، لالکائی نے شرح الاعتقاد (۴۳۸/۵)، ابونعیم نے بحوالہ سلسلۃ الصحیحۃ (۱۳۲/۶)، بیہقی نے الترغیب والترہیب (۲۸۳/۷) میں روایت کیا ہے۔ مسند بزار کے الفاظ یہ ہیں "ان الله تعالیٰ ینزل لیلۃ النصف من شعبان الی سماء الدنیا فیغفر لکل نفس الا لاثنین فی قلبہ شحناء و مشرک باللہ عزوجل" یعنی بے شک اللہ تعالی شعبان المعظم کی پندرھویں شب کو آسمانِ دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے، پس وہ ہر نفس کی بخشش فرما دیتا ہے سوائے دو کے، ایک کینہ پرور کی اور دوسرا اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنے والے کی۔ (مسند بزار، جلد 1، صفحہ 206، رقم الحدیث : 80، کتاب السنۃ ابن ابی عاصم، صفحہ 222، 223، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 381، شرح السنۃ للبغوی، جلد 4، صفحہ 127، رقم الحدیث : 993، کتاب التوحید لابن خزیمۃ، جلد 1، صفحہ 325، رقم الحدیث : 200) مصححین : 1- امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب توحید کے اندر اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (کتاب التوحید لابن خزیمۃ، جلد 1، صفحہ 325، رقم الحدیث : 200) 2- غیر مقلدین کے امام ناصر الدین البانی نے کتاب السنۃ کی تحکیم میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔ 3- امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "رواہ البزار و فیہ عبدالملک بن عبدالملک ذکرہ ابن ابی حاتم فی الجرح و التعدیل و لم یضعفہ و بقیۃ رجالہ ثقات" یعنی اس حدیث کو بزار نے روایت کیا ہے اور اس میں عبد الملک بن عبد الملک ہیں، ان کو ابن ابی حاتم نے "الجرح و التعدیل" میں ذکر کیا ہے اور ان کو ضعیف قرار نہیں دیا اور اس کے بقیہ راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد، جلد 8، صفحہ 65) امام منذری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تحریر فرمایا : "رواہ۔۔۔ البزار و البیھقی من حدیث ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ بنحوہ باسناد لاباس بہ" یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث کو بزار اور بیہقی نے روایت کیا ہے، اس روایت میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے اور نہ کوئی خرابی ہے۔ (الترغیب و الترھیب، جلد 3، صفحہ 307) امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : "ھذا حدیث حسن" یعنی یہ حدیث حسن ہے۔ (الامالی المطلقۃ، صفحہ 122) مرسل روایت نمبر 3: مرسل سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ : "حدثنا عبداللہ حدثنی ابی ثنا حسن، ثنا ابن لھیعۃ ثنا حیی بن عبداللہ عن عبدالرحمن الحبلی عن عبداللہ بن عمرو ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : یطلع الله عزوجل الی خلقہ لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لعبادہ الا لاثنین مشاحن و قاتل نفس" یعنی اللہ عزوجل شعبان کی پندرھویں رات کو اپنی مخلوق کی طرف طلوع فرماتا ہے، اپنے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے مگر دو بندوں کی ایک کینہ پرور کی اور دوسرا خودکشی کرنے والے کی۔ (مسند احمد بن حنبل، جلد 2، صفحہ 368، رقم الحدیث : 6604) اس حدیث کی سند بالکل بےغبار ہے۔ اعتراض : ابن لھیعہ نے اختلاط کے بعد یہ حدیث بیان کی ہے۔ جواب : ابن لھیعہ کے بارے میں محدثین کا اصول یہ ہے کہ اگر اس سے متقدمین ثقات روایت لیں اور اس میں ابن لھیعۃ کی سماع کی تصریح موجود ہو یعنی اَبرنا، حدثنا وغیرہ کے ساتھ بیان کرے تو اس حدیث پر اعتراض واقع نہیں ہوتا اور ابن لھیعہ نے یہ حدیث حدثنا کے ساتھ روایت کی ہے۔ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کا متابع پیش کیا ہے : "رشیدین بن سعد عن حیی بن عبداللہ عن ابی عبدالرحمن الحبلی عن عبداللہ بن عمرو۔۔۔۔ مرفوعاً" (السلسلۃ الصحیحۃ، جلد 3، صفحہ 136) تو اس متابع کی وجہ سے یہ حدیث درجہ حسن تک پہنچتی ہے۔ مرسل روایت نمبر 4: مرسل سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ : "اخبرنا محمد بن المعافی العابد بصیدا، و ابن قتیبۃ وغیرہ قالوا : حدثنا ھشام بن خالد الارزق، قال حدثنا ابوخلید عتبۃ بن حماد عن الاوزاعی و ابن ثوبان عن ابیہ عن مکحول عن مالک بن یخامر عن معاذ بن جبل عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : یطّلع الله الی خلقہ فی لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لجمیع خلقہ الا لمشرک او مشاحن" (صحیح ابن حبان، صفحہ 1514، رقم الحدیث : 5665 دارالمعرفۃ بیروت، المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 20، صفحہ 108، کتاب السنۃ ابن ابی عاصم، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، جلد 5، صفحہ 191، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 382، فضائل الاوقات للبیھقی، صفحہ 118، رقم الحدیث : 22، موارد الظمآن، صفحہ 486، رقم الحدیث : 1980) اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ مصححین : ناصرالدین البانی نے اس حدیث کو صحیح لکھا ہے۔ (صحیح الترغیب و الترھیب، صفحہ 427،رقم الحدیث : 1016) امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا : "رواہ الطبرانی فی الکبیر و الاوسط و رجالھما ثقات" (مجمع الزوائد، جلد 8، صفحہ 65) مرسل روایت نمبر 5 : مرسل سیدنا ابی ثعلبہ الخشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ : "المحاربی عن الاحوص بن حکیم عن حبیب بن صھیب عن مکحول عن ابی ثعلبہ ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : یطلع الله علی عبادہ لیلۃ النصف من شعبان گیغفر للمؤمنین و یمھل الکافرین ویدع اھل الحقد بحقدھم حتی یدعوہ" (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 9، صفحہ 263، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان، کتاب السنۃ لابن ابی عاصم، صفحہ 223، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 381، رقم الحدیث : 3832، فضائل الاوقات للبیھقی، صفحہ 120، رقم الحدیث : 23، شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، جلد 3، صفحہ 445، رقم الحدیث : 760) مصححین : ناصرالدین البانی نے کتاب السنۃ، صفحہ 224 پر اس حدیث کو صحیح لکھا ہے۔ مرسل روایت نمبر 6: مرسل سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ : یہ حدیث تاریخ دمشق، جلد 51، صفحہ 72 پر ہے۔ مرسل روایت نمبر 7 : مرسل سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ : یہ حدیث مسند بزار، جلد 7، صفحہ 186، رقم الحدیث : 2754 اور مجمع الزوائد، جلد 8، صفحہ 65 پر ہے۔ مرسل روایت نمبر 8 : مرسل سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ : یہ حدیث سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 1388، شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 379، الترغیب و الترھیب اور فضائل الاوقات للبیہقی میں ہے۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت کے چار طرق ہیں، جن میں سے دو یہ ہیں : 1- شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 379۔ 2- غنیۃ الطالبین، جلد 1، صفحہ 198۔ مرسل روایت نمبر 9 : مرسل سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ : یہ حدیث سنن ابن ماجہ، صفحہ 247، رقم الحدیث : 1390، تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 18، صفحہ 326، کتاب النزول للامام دار قطنی میں ہے۔ اس حدیث کو ناصر الدین البانی نے حسن قرار دیا ہے۔ مرسل روایت نمبر 10 : مرسل سیدنا ابو امامہ الباھلی رضی اللہ عنہ : یہ حدیث الترغیب والترھیب جلد 2، صفحہ 98 پر ہے۔ مرسل روایت نمبر 11 : مرسل سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ : "اخبرنا ابوالحسین بن بشران انا انو جعفر الرزاز نا محمد بن احمد الرباضی نا جامع بم صیع الرملی نا مرحوم بن عبدالعزیز عن داؤد بن عبدالرحمن عن ھشام بن حسان عن الحسن عن عثمان بن ابی العاص عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : (اذا) کان لیلۃ النصف من شعبان (فاذا) مناد ھل من مستغفر فاغفر لہ ھل من سائل فاعطیہ فلایسال احدا لااعطی الا زانیۃ بفرجھا او مشرک" (شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 383) یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ اعتراض : حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے سماعت پر اعتراض ہے کہ سمع کی تصریح نہیں ہے، انہوں نے حدثنا، اخبرنا وغیرہ کے سماعت کی تصریح نہیں فرمائی بلکہ عن کے ذریعے روایت بیان کی ہے۔ جواب : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان نقل فرماتے ہیں کہ: "کنا ندخل علی عثمان بن ابی العاص و قد اخلا بیتا للحدیث" یعنی ہم حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہ پر داخل ہوتے تو تحقیق وہ حدیث سنانے کے لئے اپنے کمرے میں الگ ہو جاتے۔ (کتاب التاریخ الکبیر للبخاری، جلد 6، صفحہ 127، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان) تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اس حوالے اور ان کے مؤقف دے سے ان کی باہمی ملاقات اور ان سے حدیث سننا ثابت ہوگیا۔ مزید یہ کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہان دونوں نے ان کی عثمان بن ابی العاص سے روایت کو صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا سماع ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس رات کی فضیلت میں ایک موقوف حدیث موجود ہے : "قال عبدالرزاق : و اخبرنی من سمع البیلمانی یحدث عن ابیہ عن ابن عمر قال : خمس لیال لاترد فیھن الدعاء، لیلۃ الجمعۃ، و اول لیلۃ من رجب و لیلۃ النصف من شعبان و لیلتی العیدین" حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی، جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، نصف شعبان کی رات اور عیدین کی دو راتیں۔ (مصنف عبدالرزاق، جلد 4، صفحہ 317) اسی طرح پانچ تابعین سے مرسل روایات موجود ہیں۔ وہ پانچ تابعی جن سے شبِ براءت کی فضیلت کے بارے میں مرسل روایات ہیں، درج ذیل میں ان کے نام اور ان کتب کے نام ذکر کیے جاتے ہیں، جن میں ان کی مرسل روایات موجود ہیں : 1- کثیر بن مرہ رحمۃ اللہ علیہ : تابعی کبیر ہیں، انہوں نے ستر (70) بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ملاقات کی ہے، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ ان کی مرسل روایت امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب المطالب رقم الحدیث 1124 میں ہے، جن کے رجال کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ : "رجال الاسناد کلھم ثقات" یعنی اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔ 2- امام مکحول رحمۃ اللہ علیہ : ان کی مرسل روایت "مصنف ابن ابی شیبہ" اور "شعب الایمان" جلد 3 صفحہ 381 پر ہے. 3- راشد بن سعد رحمۃ اللہ علیہ : ان کی مرسل روایت "کتاب المجالسۃ و جواہر العلم للدینوری" جلد 3، صفحہ 303، رقم الحدیث : 944 پر ہے۔ 4- یحییٰ بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ : ان کی مرسل روایت "شعب الایمان" جلد 3 صفحہ 379 پر ہے. 5- عطاء بن یسار رحمۃ اللہ علیہ : ان کی مرسل روایت "شرح اصول اعتقاد اہل سنت" جلد 3، صفحہ 451، رقم الحدیث : 769 پر ہے۔ نوٹ 1: مرسل روایت اس کو کہتے ہیں جس میں تابعی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرے اور صحابی کا واسطہ چھوڑ دے۔ پہلی دو صدیوں تک تابعین کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ تابعین کی مرسل روایت بھی حجت ہے، اس کو امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے "تدریب الراوی" میں امام طبری کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ امام طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "اس پر تابعین کا اجماع ہے کہ تابعین کی مرسل روایت تابعین کے ہاں حجت ہے، پورے دو سو سال تک تابعین کے مرسلات کو محدثین خود تسلیم کرتے آئے ہیں۔ نوٹ 2: ہمارے نزدیک مرسل روایت جب تک مرفوع حدیث کے مقابلے میں نہ آئے تو اپنی شرائط کے ساتھ مقبول ہے. اسی طرح سات تابعین کرام سے موقوفاً شب برات کی فضیلت میں حدیثِ مبارکہ موجود ہیں، ان سات تابعین عظام کے نام درج ذیل ہیں : 1- کثیر بن مرہ حضرمی رحمۃ اللہ علیہ 2- امام مکحول شامی رحمۃ اللہ علیہ 3- ابو ادریس خولانی رحمۃ اللہ علیہ 4- فضیل بن فضالہ ہوزنی رحمۃ اللہ علیہ 5- خالد بن سعدان رحمۃ اللہ علیہ 6- لقمان بن عامر رحمۃ اللہ علیہ 7- عکرمہ مولیٰ ابن عباس رحمۃ اللہ علیہ نوٹ : وہ قول، فعل یا سکوت جس کی اضافت صحابی کی طرف ہو، اسے موقوف کہتے ہیں۔ اور دو تابعین سے معضل روایات موجود ہیں، ذیل میں ان کے نام اور ان کتب کے نام ذکر کیے جاتے ہیں، جن میں ان کی معضل روایات موجود ہیں : 1- وضین بن عطاء رحمۃ اللہ علیہ : ان کی معضل روایت "مسند اسحاق بن راھویہ" رقم الحدیث : 1702 پر ہے۔ 2- قاسم بن سعید رحمۃ اللہ علیہ : ان کی معضل روایت "طبقات الشافیہ السبکی" جلد 8، صفحہ 68 پر ہے. نوٹ : جس حدیث کی سند سے دو یا زیادہ راوی مسلسل (یعنی ایک ہی جگہ سے) ساقط ہوں، وہ حدیث معضل کہلاتی ہے۔ <h2>شب براءت میں جاگنا | شب بیداری کے حوالے سے سلف صالحین کا عمل</h2> امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "بلغنا انه کان یقال ان الدعاء یستجاب فی خمس لیال فی لیلۃ الجمعۃ و لیلۃ الاضحی و لیلۃ الفطر و اول لیلۃ من رجب و لیلۃ النصف من شعبان’’ یعنی ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ (دورِ صحابہ و تابعین میں) کہا جاتا تھا کہ پانچ راتوں میں دعا قبول ہوتی ہے، جمعہ کی رات میں، عیدالاضحی کی رات میں، عیدالفطر کی رات میں، رجب کی پہلی رات میں اور نصف شعبان (پندرھویں شعبان) کی رات میں۔ (کتاب الام، کتاب صلوٰة العیدین، العبادة لیلة العیدین، جلد 1، صفحہ 231) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیھم کا عید کی شب دعا کا معمول ذکر کرنے کے بعد امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "و انا استحب کل ماحکیت فی هذه اللیالی من غیر ان یکون فرضا" یعنی مذکورہ راتوں کے متعلق جو کچھ میں نے بیان کیا ہے، میں اسے مستحب سمجھتا ہوں بغیر اس کے کہ یہ فرض ہو۔ (کتاب الام، کتاب صلوٰة العیدین، العبادة لیلة العیدین، جلد 1، صفحہ 231) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ  : ابواسیدعبیدرضامدنی رئیس مرکزی دارالافتاء اہلسنت عیسیٰ خیل</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...