Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1533
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5.5K Views
مسجد کے منار پر لاؤڈ اسپیکر یا ہارن رکھنا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مسجد کے منار پر لاؤڈ اسپیکر یا ہارن رکھنا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مسجد کے منار پر لاؤڈ اسپیکر یا ہارن رکھنا کیسا ہے ؟
مسجد کے اوپر مینارے میں لاؤڈ سپیکر کے ڈبے رکھ سکتے ہیں تاکہ دور تک آواز پہنچے ؟ زید کی یہ دلیل ہے کہ مینار داخل مسجدِ کے اوپر ہے تو مینار بھی داخل مسجد میں ہی شامل ہوگئے اور اذان داخل مسجد میں دینا جائز نہیں اس لئے لاؤڈ اسپیکر کو مینار پر رکھنا صحیح نہیں ہے ۔ تو آپ کا کیا کہنا ہے کیا زید کی دلیل صحیح يا غلط وضاحت سے مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں آپ کا کرم ہوگا ۔ المستفتی محمد شہاب الدین اشرفی راجکوٹ گجرات انڈیا ۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں منار پر لاؤڈ اسپیکر رکھنا درست ہے زید کا استدلال دو وجہوں سے صحیح نہیں ۔ اولاً منار ، مسجد کے اندر نہیں بلکہ مسجد کی حد پر دیوار سے متصل یا مسجد کے باہر ہوتا ہے اسی لئے فقہاء نے منار پر اذن دینے کاحکم دیا ہے ۔ مدخل میں ہے: ” أن للاذان ثلاثة مواضع المنارة وعلي سطح المسجد وعلي بابه ” اھ ( جلد 1 صفحہ 408 ، فصل في النهي عن الاذان في المسجد ، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ) یعنی اذان دینے کے لئے تین جگہیں ہیں (١) منارہ (٢) سطح مسجد پر (٣) دروازہ مسجد پر ۔ اعلی حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” اقول وبالله التوفيق اعلم -وفقنا الله تعالى واياك- ان للمسجد اطلاقين احدهما موضع الصلاة من الارض الموقوفة لها وهو الاصل و بهذا المعني لا يدخل فيه البناء فإن البناء من الاوصاف كالاطراف فالباب والجدار خارج عن المسجد وكذا الدكة والمنارة والحياض والابار و إن كانت في حدوده بل في جوفه اذا بنيت قبل تمام المسجدية ” اه ( فتاوی رضویہ مترجم جلد 28 صفحہ 136 ، کتاب الشتی ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) یعنی میں رب تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں جان لیجئے کہ مسجد دو چیزوں پر بولا جاتا ہے (١) زمین کا وہ حصہ جو نماز کے لئے وقف کیا گیا ہو وہی اصل مسجد ہے اس معنی کے اعتبار سے مسجد کی بنیادیں مسجد میں داخل نہیں اس لئے کہ بنیادیں اوصاف کے حکم میں ہیں جیسے کہ اطراف پس مسجد کے دروازے اور دیواریں مسجد سے خارج ہیں اسی طرح اذان کے چبوترے مناریں ، حوض ، اور کنویں اگرچہ حدود مسجد ہی میں ہوں بلکہ جوف مسجد میں ہوں پھر بھی مسجد سے خارج ہیں جبکہ تمام مسجدیت سے پہلے بنائے گئے ہوں ۔ ثانیاً خارج مسجد یا داخل مسجد ہونے میں اعتبار مؤذن کا ہے لاؤڈ اسپیکر کا نہیں پس بمطابق سنت اذان دینے کے لئے مؤذن کا مسجد کے باہر ہونا ضروری ہے لاؤڈ اسپیکر کا نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>مسجد کے منار پر لاؤڈ اسپیکر یا ہارن رکھنا کیسا ہے ؟</h2> مسجد کے اوپر مینارے میں لاؤڈ سپیکر کے ڈبے رکھ سکتے ہیں تاکہ دور تک آواز پہنچے ؟ زید کی یہ دلیل ہے کہ مینار داخل مسجدِ کے اوپر ہے تو مینار بھی داخل مسجد میں ہی شامل ہوگئے اور اذان داخل مسجد میں دینا جائز نہیں اس لئے لاؤڈ اسپیکر کو مینار پر رکھنا صحیح نہیں ہے ۔ تو آپ کا کیا کہنا ہے کیا زید کی دلیل صحیح يا غلط وضاحت سے مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں آپ کا کرم ہوگا ۔ المستفتی محمد شہاب الدین اشرفی راجکوٹ گجرات انڈیا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مستفسرہ میں منار پر لاؤڈ اسپیکر رکھنا درست ہے زید کا استدلال دو وجہوں سے صحیح نہیں ۔ اولاً منار ، مسجد کے اندر نہیں بلکہ مسجد کی حد پر دیوار سے متصل یا مسجد کے باہر ہوتا ہے اسی لئے فقہاء نے منار پر اذن دینے کاحکم دیا ہے ۔ مدخل میں ہے: " أن للاذان ثلاثة مواضع المنارة وعلي سطح المسجد وعلي بابه " اھ ( جلد 1 صفحہ 408 ، فصل في النهي عن الاذان في المسجد ، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ) یعنی اذان دینے کے لئے تین جگہیں ہیں (١) منارہ (٢) سطح مسجد پر (٣) دروازہ مسجد پر ۔ اعلی حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: " اقول وبالله التوفيق اعلم -وفقنا الله تعالى واياك- ان للمسجد اطلاقين احدهما موضع الصلاة من الارض الموقوفة لها وهو الاصل و بهذا المعني لا يدخل فيه البناء فإن البناء من الاوصاف كالاطراف فالباب والجدار خارج عن المسجد وكذا الدكة والمنارة والحياض والابار و إن كانت في حدوده بل في جوفه اذا بنيت قبل تمام المسجدية " اه ( فتاوی رضویہ مترجم جلد 28 صفحہ 136 ، کتاب الشتی ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) یعنی میں رب تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں جان لیجئے کہ مسجد دو چیزوں پر بولا جاتا ہے <strong> (١)</strong> زمین کا وہ حصہ جو نماز کے لئے وقف کیا گیا ہو وہی اصل مسجد ہے اس معنی کے اعتبار سے مسجد کی بنیادیں مسجد میں داخل نہیں اس لئے کہ بنیادیں اوصاف کے حکم میں ہیں جیسے کہ اطراف پس مسجد کے دروازے اور دیواریں مسجد سے خارج ہیں اسی طرح اذان کے چبوترے مناریں ، حوض ، اور کنویں اگرچہ حدود مسجد ہی میں ہوں بلکہ جوف مسجد میں ہوں پھر بھی مسجد سے خارج ہیں جبکہ تمام مسجدیت سے پہلے بنائے گئے ہوں ۔ <strong>ثانیاً</strong> خارج مسجد یا داخل مسجد ہونے میں اعتبار مؤذن کا ہے لاؤڈ اسپیکر کا نہیں پس بمطابق سنت اذان دینے کے لئے مؤذن کا مسجد کے باہر ہونا ضروری ہے لاؤڈ اسپیکر کا نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...