Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1536 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.8K Views

ٹائلس میں چہرہ نظر آئے تو بھی ان پر نماز پڑھنا اور انہیں مسجد میں لگانا جائز ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ٹائلس میں چہرہ نظر آئے تو بھی ان پر نماز پڑھنا اور انہیں مسجد میں لگانا جائز ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ٹائلس میں چہرہ نظر آئے تو بھی ان پر نماز پڑھنا اور انہیں مسجد میں لگانا جائز ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسے ٹائلس پر نماز پڑھنا جس پر چہرہ صاف صاف نظر آتا ہو کیسا ہے نماز ہوجائے گی یا نہیں اور ایسے ٹائلس کو مسجد میں لگا سکتے ہیں یا نہیں برائے کرم دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ۔ المستفتی محمد حسین رضوی فیضی گورڈیہ سدھارتھ نگر اُتر پردیش انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب ایسے ٹائیلس جن میں اپنی صورت نظر آئے ان کو مسجد میں لگانا اور ان پر نماز پڑھنا جائز ہے کہ وہ نظر آنے والی صورت عکس ہے تصویر نہیں پس یہ آئینہ کی طرح ہوگیا اور آئینہ نمازی کے سامنے ہو جس میں اس کی صورت نظر آئے تو بھی نماز ہوجائے گی ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں : ” سُئِلتُ عَمَّن صَلَّی وَاَمَامَہُ مِرْآۃ فَاَجَبتُ بِالجَوازِ آخِذاً مِمَّا ھَاھُنَا , اِذِ المِرآۃُ لَم تُعبَد وَلاَ الشِّبحُ المُنطَبَعُ فِیھَا , وَلاَ ھُوَ مِن صَنِیعِ الْکُفَّارِ , نَعَم اِن کَانَ بِحَیْثُ یَبدُو لَہ فِیہ صُورَتُہ واَفعالُہ رُکُوعاً وسُجُوداً وقیاماً وقعوداً وَظَنَّ اَنَّ ذٰلِکَ یَشغُلُہ وَیَلھٰی فَاِذنُُ لاَیَنبَغِی قَطعاً ” اھ (جدالممتار علی ردالمحتار جلد 3 صفحہ 416 مکتبۃ المدینہ کراچی) یعنی مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے شیشہ کے سامنے نماز پڑھي تو میں نے نماز کے درست ہونے کا حکم دیا یہاں (یعنی انڈیا) کے اعتبار سے کیونکہ یہاں شیشے کی عبادت نہیں کی جاتی اور نہ ہی شیشے میں ڈھالی گئی صورت ہوتی ہے اور نہ یہ کفار کی بنائی ہوئی چیز میں سے ہے ۔ ہاں اگر شیشہ میں اس کی صورت اس کے افعال رکوع سجود قیام قعود وغیرہ ظاہر ہوں جن کے باعث نماز سے غافل ہوجانے کا گمان ہو تو قطعا اس کی اجازت دینا مناسب نہیں. صدرالشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : “آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں, کہ سببِ کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں اور اگر اسے تصویر کا حکم دیں تو آئینہ کا رکھنا بھی مثلِ تصویر ناجائز ہو جائے حالانکہ بالاجماع جائز ہے۔ اور حقیقت امر یہ ہے کہ وہاں تصویر ہوتی ہے نہیں بلکہ خطوط شعاعی آئینہ کی صقالت کی وجہ سے لوٹ کر چہرہ پر آتے ہیں گویا یہ شخص خود اپنے کو دیکھتا ہے نہ یہ کہ آئینہ میں اس کی صورت چھپتی ہو ” اھ (فتاوی امجدیہ جلد 1 صفحہ 184 کتاب الصلاۃ ، باب مفسدات الصلاۃ ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>ٹائلس میں چہرہ نظر آئے تو بھی ان پر نماز پڑھنا اور انہیں مسجد میں لگانا جائز ہے</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسے ٹائلس پر نماز پڑھنا جس پر چہرہ صاف صاف نظر آتا ہو کیسا ہے نماز ہوجائے گی یا نہیں اور ایسے ٹائلس کو مسجد میں لگا سکتے ہیں یا نہیں برائے کرم دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ۔ المستفتی محمد حسین رضوی فیضی گورڈیہ سدھارتھ نگر اُتر پردیش انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> ایسے ٹائیلس جن میں اپنی صورت نظر آئے ان کو مسجد میں لگانا اور ان پر نماز پڑھنا جائز ہے کہ وہ نظر آنے والی صورت عکس ہے تصویر نہیں پس یہ آئینہ کی طرح ہوگیا اور آئینہ نمازی کے سامنے ہو جس میں اس کی صورت نظر آئے تو بھی نماز ہوجائے گی ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں : " سُئِلتُ عَمَّن صَلَّی وَاَمَامَہُ مِرْآۃ فَاَجَبتُ بِالجَوازِ آخِذاً مِمَّا ھَاھُنَا , اِذِ المِرآۃُ لَم تُعبَد وَلاَ الشِّبحُ المُنطَبَعُ فِیھَا , وَلاَ ھُوَ مِن صَنِیعِ الْکُفَّارِ , نَعَم اِن کَانَ بِحَیْثُ یَبدُو لَہ فِیہ صُورَتُہ واَفعالُہ رُکُوعاً وسُجُوداً وقیاماً وقعوداً وَظَنَّ اَنَّ ذٰلِکَ یَشغُلُہ وَیَلھٰی فَاِذنُُ لاَیَنبَغِی قَطعاً " اھ (جدالممتار علی ردالمحتار جلد 3 صفحہ 416 مکتبۃ المدینہ کراچی) یعنی مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے شیشہ کے سامنے نماز پڑھي تو میں نے نماز کے درست ہونے کا حکم دیا یہاں (یعنی انڈیا) کے اعتبار سے کیونکہ یہاں شیشے کی عبادت نہیں کی جاتی اور نہ ہی شیشے میں ڈھالی گئی صورت ہوتی ہے اور نہ یہ کفار کی بنائی ہوئی چیز میں سے ہے ۔ ہاں اگر شیشہ میں اس کی صورت اس کے افعال رکوع سجود قیام قعود وغیرہ ظاہر ہوں جن کے باعث نماز سے غافل ہوجانے کا گمان ہو تو قطعا اس کی اجازت دینا مناسب نہیں. صدرالشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : "آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں, کہ سببِ کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں اور اگر اسے تصویر کا حکم دیں تو آئینہ کا رکھنا بھی مثلِ تصویر ناجائز ہو جائے حالانکہ بالاجماع جائز ہے۔ اور حقیقت امر یہ ہے کہ وہاں تصویر ہوتی ہے نہیں بلکہ خطوط شعاعی آئینہ کی صقالت کی وجہ سے لوٹ کر چہرہ پر آتے ہیں گویا یہ شخص خود اپنے کو دیکھتا ہے نہ یہ کہ آئینہ میں اس کی صورت چھپتی ہو " اھ (فتاوی امجدیہ جلد 1 صفحہ 184 کتاب الصلاۃ ، باب مفسدات الصلاۃ ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...