Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1539 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.1K Views

سید صاحب کی زوجہ جو غیر سید ہے اس کو زکو ٰ ۃ دے سکتے ہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سید صاحب کی زوجہ جو غیر سید ہے اس کو زکو ٰ ۃ دے سکتے ہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سید صاحب کی زوجہ جو غیر سید ہے اس کو زکو ٰ ۃ دے سکتے ہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص سید ہے لیکن اس کی بیوی سید ہ نہیں ہے وہ دونوں فقیر شرعی ہیں بڑی مشکل سے گزارا کررہے ہیں کیا سید صاحب کی زوجہ جو غیر سید ہے اس کو زکو ٰ ۃ دے سکتے ہیں ؟برائے مہربانی اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں سید صاحب کی زوجہ جب غیر سیدہ اور شرعی فقیر ہیں تو ان کو زکاۃ دینا جائز ہے ۔کیونکہ سید کے ساتھ شادی کی وجہ سے غیر سیدہ عورت سیدہ نہیں بن جاتی ہے ،نیز عورت اور شوہر کا معاملہ دنیاوی اعتبار سے کتنا ہی ایک ہومگر شرعی احکام میں وہ جدا جدا ہیں،لہذا جب وہ عورت شرعی فقیر ہے تو اسے زکاۃ دینا جائز ہے ۔فتاوی تاتارخانیہ میں ہے ” من جملۃ ذلک الفقراء و المساکین “ترجمہ :مستحقین زکاۃ میں سے فقراء اور مساکین بھی ہیں۔ (فتاوی تاتارخانیہ،جلد3،صفحہ 474،مطبوعہ کوئٹہ) صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سید کی غیر ِسیدہ زوجہ کے بارے میں فرماتے ہیں”زید اپنی اس ہمشیرہ کو جو سید کے نکاح میں ہے زکاۃ دے سکتا ہے۔“ (فتاوی امجدیہ ،جلد1،صفحہ390،مکتبہ رضویہ، کراچی) فتاوی خلیلیہ میں ہے ”عورت جبکہ خود سادات و بنی ہاشم سے نہیں،کسی سید کے نکاح میں جانے سے سید ہ نہیں بن گئی ہے ،اس لئے اگر وہ مصرف زکاۃ ہے تو اسے زکاۃ دی جاسکتی ہے ۔“ (فتاوی خلیلیہ،جلد 1،صفحہ 502،ضیاء القرآن ،لاہور) مجدد اعظم امام اہلسنت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں” عورت اور شوہر کا معاملہ دنیاکے اعتبار سے کتنا ہی ایک ہو مگر اﷲعزّوجل کے حکم میں وُہ جدا جدا ہیں۔ “ (فتاوی رضویہ،جلد10،صفحہ126، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

Kutubahu & Verified by:

<h2>سید صاحب کی زوجہ جو غیر سید ہے اس کو زکو ٰ ۃ دے سکتے ہیں ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص سید ہے لیکن اس کی بیوی سید ہ نہیں ہے وہ دونوں فقیر شرعی ہیں بڑی مشکل سے گزارا کررہے ہیں کیا سید صاحب کی زوجہ جو غیر سید ہے اس کو زکو ٰ ۃ دے سکتے ہیں ؟برائے مہربانی اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong> </span> صورت مسئولہ میں سید صاحب کی زوجہ جب غیر سیدہ اور شرعی فقیر ہیں تو ان کو زکاۃ دینا جائز ہے ۔کیونکہ سید کے ساتھ شادی کی وجہ سے غیر سیدہ عورت سیدہ نہیں بن جاتی ہے ،نیز عورت اور شوہر کا معاملہ دنیاوی اعتبار سے کتنا ہی ایک ہومگر شرعی احکام میں وہ جدا جدا ہیں،لہذا جب وہ عورت شرعی فقیر ہے تو اسے زکاۃ دینا جائز ہے ۔فتاوی تاتارخانیہ میں ہے ” من جملۃ ذلک الفقراء و المساکین “ترجمہ :مستحقین زکاۃ میں سے فقراء اور مساکین بھی ہیں۔ (فتاوی تاتارخانیہ،جلد3،صفحہ 474،مطبوعہ کوئٹہ) صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سید کی غیر ِسیدہ زوجہ کے بارے میں فرماتے ہیں”زید اپنی اس ہمشیرہ کو جو سید کے نکاح میں ہے زکاۃ دے سکتا ہے۔“ (فتاوی امجدیہ ،جلد1،صفحہ390،مکتبہ رضویہ، کراچی) فتاوی خلیلیہ میں ہے ”عورت جبکہ خود سادات و بنی ہاشم سے نہیں،کسی سید کے نکاح میں جانے سے سید ہ نہیں بن گئی ہے ،اس لئے اگر وہ مصرف زکاۃ ہے تو اسے زکاۃ دی جاسکتی ہے ۔“ (فتاوی خلیلیہ،جلد 1،صفحہ 502،ضیاء القرآن ،لاہور) مجدد اعظم امام اہلسنت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں” عورت اور شوہر کا معاملہ دنیاکے اعتبار سے کتنا ہی ایک ہو مگر اﷲعزّوجل کے حکم میں وُہ جدا جدا ہیں۔ “ (فتاوی رضویہ،جلد10،صفحہ126، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...