Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1540 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.2K Views

سری نماز کی پہلی رکعت میں مقتدی کب تک ثنا پڑھ سکتا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سری نماز کی پہلی رکعت میں مقتدی کب تک ثنا پڑھ سکتا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سری نماز کی پہلی رکعت میں مقتدی کب تک ثنا پڑھ سکتا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سری نماز کی پہلی رکعت میں مقتدی اس وقت آئے کہ امام قراءت شروع کرچکا ہو ابھی رکوع نہ کیا ہو لیکن رکوع کے قریب ہو تو مقتدی ثناء پڑھ سکتا ہےیا نہیں؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب سری نماز کی پہلی رکعت میں امام کے قراءت شروع کرنے کے بعد مقتدی آئے تو اس کو ثناء پڑھنی چاہیے خواہ امام رکوع کے قریب پہنچ چکا ہو بلکہ اگر امام رکوع میں جا چکا ہے اور مقتدی کو گمان ہو کہ وہ امام کو رکوع میں پا لے گا تو بھی ثنا ء پڑھے، ہاں اگر یہ اندیشہ ہو کہ امام کے ساتھ رکوع نہ پا سکے گا توثناءنہ پڑھےاور رکوع کر لے ۔ فتاوی قاضی خان میں ہے ”لو أدرك الإمام بعد ما اشتغل بالقراءة قال ابن الفضل لا يثني وقال غيره يثني وينبغي التفصيل، إن كان الإمام يجهر لا يثني، وإن كان يسر يثني “ترجمہ:اگر مقتدی نے امام کو اس حالت میں پایا کہ وہ قرأت شروع کر چکاہے ،تو ابن الفضل نےکہا کہ مقتدی ثناء پڑھےاور دیگر فقہاء نے کہا کہ مقتدی ثناء نہ پڑھے۔مناسب ہے کہ اس میں یوں تفصیل ہو کہ اگر امام جہری قراءت کر رہا ہے تو مقتدی ثناء نہ پڑھےاور اگر سری قراءت کر رہا ہے تو مقتدی ثناء پڑھے۔ (فتاوی قاضی خان ،جلد1،صفحہ84،دار الکتب العلمیہ ،بیروت) سری نماز میں شامل ہونے والے مقتدی کے بارے میں بہار شریعت میں ہے کہ ”امام آہستہ پڑھتا ہو تو (ثناء)پڑھ لے“ (بہار شریعت ،جلد1،صفحہ523،مکتبۃ المدینہ، کراچی) منیۃ المصلی میں ہے ”ان ادرک الامام فی الرکوع فانہ یتحری :ان اکثر رأیہ انہ لو اتی بہ یدرک الامام فی شئی من الرکوع ،يأتی بہ قائما،و الا یرکع ویتابع الامام کذا اذا ادرک الامام فی السجدۃ الاولیٰ“ترجمہ:اگر مقتدی نے امام کو رکوع کی حالت میں پایا تو غور و فکر کرے اگر اس کی غالب رائے ہو کہ ثناء پڑھ کر امام کے ساتھ رکوع کا کچھ حصہ پا لے گا تو حالت قیام میں ثناء پڑھ کر رکوع کرے گا اور اگر اس کی غالب رائے ہو کہ ثناء پڑھ کر امام کے ساتھ رکوع نہ پا سکے گا تو (ثناء کے بغیر ہی )امام کی متابعت کرتے ہوئے رکوع کرے گا، اور اگر امام کو پہلے سجدہ کی حالت میں پایا تو بھی یہ ہی حکم ہے ۔ (منیۃ المصلی،صفحہ191،دار القلم ،دمشق) بہار شریعت میں ہے ” امام کو رکوع یا پہلے سجدہ میں پایا، تو اگر غالب گمان ہے کہ ثنا پڑھ کر پالے گا تو پڑھے“ (بہار شریعت ،جلد1،صفحہ523،مکتبۃ المدینہ، کراچی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

Kutubahu & Verified by:

<h2>سری نماز کی پہلی رکعت میں مقتدی کب تک ثنا پڑھ سکتا ہے ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سری نماز کی پہلی رکعت میں مقتدی اس وقت آئے کہ امام قراءت شروع کرچکا ہو ابھی رکوع نہ کیا ہو لیکن رکوع کے قریب ہو تو مقتدی ثناء پڑھ سکتا ہےیا نہیں؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> سری نماز کی پہلی رکعت میں امام کے قراءت شروع کرنے کے بعد مقتدی آئے تو اس کو ثناء پڑھنی چاہیے خواہ امام رکوع کے قریب پہنچ چکا ہو بلکہ اگر امام رکوع میں جا چکا ہے اور مقتدی کو گمان ہو کہ وہ امام کو رکوع میں پا لے گا تو بھی ثنا ء پڑھے، ہاں اگر یہ اندیشہ ہو کہ امام کے ساتھ رکوع نہ پا سکے گا توثناءنہ پڑھےاور رکوع کر لے ۔ فتاوی قاضی خان میں ہے ”لو أدرك الإمام بعد ما اشتغل بالقراءة قال ابن الفضل لا يثني وقال غيره يثني وينبغي التفصيل، إن كان الإمام يجهر لا يثني، وإن كان يسر يثني “ترجمہ:اگر مقتدی نے امام کو اس حالت میں پایا کہ وہ قرأت شروع کر چکاہے ،تو ابن الفضل نےکہا کہ مقتدی ثناء پڑھےاور دیگر فقہاء نے کہا کہ مقتدی ثناء نہ پڑھے۔مناسب ہے کہ اس میں یوں تفصیل ہو کہ اگر امام جہری قراءت کر رہا ہے تو مقتدی ثناء نہ پڑھےاور اگر سری قراءت کر رہا ہے تو مقتدی ثناء پڑھے۔ (فتاوی قاضی خان ،جلد1،صفحہ84،دار الکتب العلمیہ ،بیروت) سری نماز میں شامل ہونے والے مقتدی کے بارے میں بہار شریعت میں ہے کہ ”امام آہستہ پڑھتا ہو تو (ثناء)پڑھ لے“ (بہار شریعت ،جلد1،صفحہ523،مکتبۃ المدینہ، کراچی) منیۃ المصلی میں ہے ”ان ادرک الامام فی الرکوع فانہ یتحری :ان اکثر رأیہ انہ لو اتی بہ یدرک الامام فی شئی من الرکوع ،يأتی بہ قائما،و الا یرکع ویتابع الامام کذا اذا ادرک الامام فی السجدۃ الاولیٰ“ترجمہ:اگر مقتدی نے امام کو رکوع کی حالت میں پایا تو غور و فکر کرے اگر اس کی غالب رائے ہو کہ ثناء پڑھ کر امام کے ساتھ رکوع کا کچھ حصہ پا لے گا تو حالت قیام میں ثناء پڑھ کر رکوع کرے گا اور اگر اس کی غالب رائے ہو کہ ثناء پڑھ کر امام کے ساتھ رکوع نہ پا سکے گا تو (ثناء کے بغیر ہی )امام کی متابعت کرتے ہوئے رکوع کرے گا، اور اگر امام کو پہلے سجدہ کی حالت میں پایا تو بھی یہ ہی حکم ہے ۔ (منیۃ المصلی،صفحہ191،دار القلم ،دمشق) بہار شریعت میں ہے ” امام کو رکوع یا پہلے سجدہ میں پایا، تو اگر غالب گمان ہے کہ ثنا پڑھ کر پالے گا تو پڑھے“ (بہار شریعت ،جلد1،صفحہ523،مکتبۃ المدینہ، کراچی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...