Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1543
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.5K Views
مرشد کامل کی پہچان از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مرشد کامل کی پہچان از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مرشد کامل کی پہچان از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید قرآن شریف اور اردو کی چند کتابیں پڑھا ہوا تھا محلہ کی مسجد میں کبھی نماز کے لیے حاضر نہ ہوا محلہ کے لوگوں سے سوائے چند افراد کے ہمیشہ الگ تھلک رہا،کیونکہ زید اپنے آپ کو سب سے بہتر اور لوگوں کو کمتر سمجھتا تھا اور محلہ کے مسلمانوں کے لیے کیڑے مکوڑوں اور دیگر غیر مناسب الفاظ کا استعمال کرتا تھا، برسوں سے باجے پر قوالی گاتا رہا،اور سود خور بھی تھا،سود میں لی ہوئی دوکٹھہ زمین اب تک اس کے والا وارث کے پاس موجود ہے، جیسے گاؤں کے لوگ جانتے ہیں کھیت میں کاشتکاری کے دوران گھٹنے کھول کر لوگوں کے سامنے کام کرتا تھا اور اس کے بھائی کی جنازہ میں اس لیے شرکت نہیں کی کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا جنازہ کی نماز پڑھائے، زید کے مرنے کے بعد اسے وقفہ قبرستان میں پختہ قبر اور اب اس کے گھر کے لوگ اور دوسرے چار پانچ افراد اس کی قبر پر چادر ڈالنا شروع کردئیے ہیں اور قبر کے گرد پانچ جھنڈے بھی لگا ڈالا ہے اور آئندہ اس وقفہ قبرستان میں پختہ قبر اور عمارت بنا کر عرس لگانے کا پروگرام بھی ہے، اب عرض یہ ہے کہ ایسے آدمی کا پختہ قبر بنانا اس پر چادر چڑھانا اسے اللہ کا ولی ماننا اس کا عرس منانا، اس کے نام کے ساتھ صوفی اور رحمت اللہ علیہ لکھنا کہاں تک درست ہے، دلائل کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔ المستفتی : محمد فیروز احمد چمن برکاتی خادم مدرسہ نورالعلوم گلیچھہہ تنہوں نیپال الجواب بعون الملک الوھاب اگر واقعی زید کے اندر سوال میں مذکورصفات ذمیمہ اور کبائر شنیعہ موجود ہیں تو وہ فاسق معلن ہے، اس کو ولی کہنا،اس کا عرس منانا اور اس کا مزار بناناقطعا جائز نہیں. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ولی کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (یونس :٦٢-٦٣) رسالہ ایھاالولد میں حُجَّۃُ الاِسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی ولی کامل کے اوصاف یوں بیان فرماتے ہیں: “وشـرط الشيـخ الـذي يصلح أن يكون نائباً لرسول الله صلى الله عليه وسلم، أن يكون عالماً، لان كل عالم لايصلح له، واني أبين لك بعض علامتـه على سبيل الاجمال حتى لا يدعي كل احد انه مرشد ، فنقول: هو من يعرض عن حب الدنيا وحب الجاه، وكان تابعاًلشخص بصير بتسلسـل مـتـابـعتـه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فان يكون محسناً ريـاضـة نفسه من قلة الأكل والشرب والقول والنوم وكثرة الصلوات والصوم والصـدقـة، وكان بمتابعة الشيخ البصير جاعلا محاسن الأخلاق له سيرة، كالصبر، والشكر، والتوكل، واليقين، والسخاوة ، والقنـاعـة، والأمانة وطمأنينة النفس وبذل المال والحلم، والتواضع ، والعلم، والصـدق، والحياء، والـوفـاء، والـوقـار، والسكـون، والتأني ، وامثـالهـا، فهـو إذا نور من أنـوار النبي صلى الله عليه وسلم ويصلح للاقتـداء(رسالہ ایھا الولد ص ٢٧) یعنی :شیخ کے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نائب ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ عالم ہو لیکن ہر عالم بھی مرشِدِ کامل نہیں ہو سکتا ۔ لہٰذا ہم یہاں اِجمالی طور پر مرشد کامل کی بعض علامات بیان کرتے ہیں تاکہ ہر شخص مرشِد و رَہبر بننے کا دعویٰ نہ کر سکے ۔ (١) … پیرکامل وہی ہے جس کے دل میں دنیا کی محبت اور عزّت و مرتبے کی چاہت نہ ہو (٢) … وہ ایسے مرشد ِ کامل سے بیعت ہو جو نورِ بصیرت سے مالا مال ہو (٣) … اس کا سلسلہ رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک متّصل ہو (٤) … نیک اَعمال بجا لانے والا ہو (٥) … ریاضت ِ نفس کا عادی ہو (٦) … کم کھانے (٧) … کم سونے (٨) …کم بولنے (٩) … کثرتِ نوافل (١٠) … زیادہ روزے رکھنے اور (١١) … خوب صدقہ وخیرات کرنے جیسے نیک اَعمال کرنے والا ہو (١٢) … نیز وہ پیرکامل اپنے شیخ کی کامل اِتباع کے سبب صبر (١٣) …نماز (١٤) …شکر (١٥) … تَوَّکُل (١٦) … یقین (١٧) …سخاوت (١٨) … قناعت (١٩) …طمانیت نفس (٢٠) …حِلْم (٢١) …تواضع (٢٢) …علم (٢٣) … صدق (٢٤) … وفا (٢٥) … حیا اور(٢٦) … وقارو سکون جیسے پسندیدہ اَوصاف کا پیکر ہو ۔ پس جو پیرکامل ان اَوصاف سے متصف ہو وہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے انوارِ مبارکہ میں سے ایک نور بن جاتا ہے اور اس قابل ہوجاتا ہے کہ اسکی اِقتدا کی جائے ۔ فتاوی فقیہ ملت میں ہے: ” جو شخص نماز با جماعت نہ پڑھتا ہو، پابند شرع نہ وہ ہرگز پیر نہیں بلکہ شیطان کامسخرہ ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی بہ القوی تحریر فرماتے ہیں جو با وصف بقاۓ عقل واستطاعت قصدا نماز وروزہ ترک کرے ہرگز ولی نہیں،ولی الشیطان ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد ششم صفہ ٩۴ )اورتفسیر صاوی جلد ۲ صفحہ ١٨٢ پر ہے كـل مـن كـان لـلشـرع عليه اعتراض فهو مغرور مخادع “اه.(١/ ٢٧) رہا وقفی قبرستان میں اس کی قبر کو پختہ کرنا، اس کو مزار بنانا اور اس پر چادر ڈالنا تو یہ سب بھی ناجائز ہے: فتاوی شامی میں ہے : ” فی الاحکام عن جامع الفتاوی وقیل لایکرہ البناء اذاکان المیت من المشایخ والعلماء والسادات قلت لکن ھذا فی غیر المقابر المسبلة کما لا یخفی اھ” (٢/ ٢٣٧) فتاوی فقیہ ملت میں ہے: جوقبرستان عام مسلمانوں کے لئے وقف ہو اس میں پختہ قبر بنانا جائز نہیں کہ ہمیشہ کے لئے وہ جگہ کسی کی خاطر مخصوص کر لینا اس میں تصرف مالکانہ ہے اور وقف میں ایسا تصرف حرام ہے ۔ البتہ اگر کسی شخص نے وقف کرتے وقت یہ شرط لگا دی کہ میری یا فلاں کی قبر پختہ بنے گی تو اسے پختہ بنانے میں حرج نہیں کہ وقف میں اتباع شرط واقف لازم ہے ۔ جیسا کہ در مختار مع شامی جلد چہارم صفحہ۳۳۴ میں ہے ” شـرط الـواقف كـنـص الشاع اي في وجوب العمل به اه ” اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی عنہ ربه القوی شرح معانی الآ ثار اور غایة البیان شرح ہدایہ کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں: ” لا يـجـوز لا حـدان يبتنى فيه بناء و لا ان يحتجر فيه موضعا و كذلك حكم جميع المواضع التي لا يقع لاحد فيهـا ملك و جميع الناس فيها سواء. ” ( فتاوی رضوی جلد ششم صفحہ ٣۴٦ ) اور اس میں صفحہ۴۹۰ پر ہے اگر بعد وقف بنائی ہے تو یہ عمارت خود ہی ناجائز ہے کہ مقابر موقوفہ میں عمارت بنانے کی اجازت نہیں:”لانــــه يسـتـحـق الازالة لا الادامة ” اسی طرح وہ زمین مقبرہ اس کی ملک نہ تھی بلکہ وہ قبرستان وقفی تھا جس میں اس نے عمارت بنالی جب بھی حکم عدم جواز ہے۔اہ۔ ملخصا(٢/ ١٨٤ باب فی المقابر) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>مرشد کامل کی پہچان از علامہ کمال احمد علیمی نظامی</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید قرآن شریف اور اردو کی چند کتابیں پڑھا ہوا تھا محلہ کی مسجد میں کبھی نماز کے لیے حاضر نہ ہوا محلہ کے لوگوں سے سوائے چند افراد کے ہمیشہ الگ تھلک رہا،کیونکہ زید اپنے آپ کو سب سے بہتر اور لوگوں کو کمتر سمجھتا تھا اور محلہ کے مسلمانوں کے لیے کیڑے مکوڑوں اور دیگر غیر مناسب الفاظ کا استعمال کرتا تھا، برسوں سے باجے پر قوالی گاتا رہا،اور سود خور بھی تھا،سود میں لی ہوئی دوکٹھہ زمین اب تک اس کے والا وارث کے پاس موجود ہے، جیسے گاؤں کے لوگ جانتے ہیں کھیت میں کاشتکاری کے دوران گھٹنے کھول کر لوگوں کے سامنے کام کرتا تھا اور اس کے بھائی کی جنازہ میں اس لیے شرکت نہیں کی کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا جنازہ کی نماز پڑھائے، زید کے مرنے کے بعد اسے وقفہ قبرستان میں پختہ قبر اور اب اس کے گھر کے لوگ اور دوسرے چار پانچ افراد اس کی قبر پر چادر ڈالنا شروع کردئیے ہیں اور قبر کے گرد پانچ جھنڈے بھی لگا ڈالا ہے اور آئندہ اس وقفہ قبرستان میں پختہ قبر اور عمارت بنا کر عرس لگانے کا پروگرام بھی ہے، اب عرض یہ ہے کہ ایسے آدمی کا پختہ قبر بنانا اس پر چادر چڑھانا اسے اللہ کا ولی ماننا اس کا عرس منانا، اس کے نام کے ساتھ صوفی اور رحمت اللہ علیہ لکھنا کہاں تک درست ہے، دلائل کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔ المستفتی : محمد فیروز احمد چمن برکاتی خادم مدرسہ نورالعلوم گلیچھہہ تنہوں نیپال <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> اگر واقعی زید کے اندر سوال میں مذکورصفات ذمیمہ اور کبائر شنیعہ موجود ہیں تو وہ فاسق معلن ہے، اس کو ولی کہنا،اس کا عرس منانا اور اس کا مزار بناناقطعا جائز نہیں. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ولی کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (یونس :٦٢-٦٣) رسالہ ایھاالولد میں حُجَّۃُ الاِسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی ولی کامل کے اوصاف یوں بیان فرماتے ہیں: "وشـرط الشيـخ الـذي يصلح أن يكون نائباً لرسول الله صلى الله عليه وسلم، أن يكون عالماً، لان كل عالم لايصلح له، واني أبين لك بعض علامتـه على سبيل الاجمال حتى لا يدعي كل احد انه مرشد ، فنقول: هو من يعرض عن حب الدنيا وحب الجاه، وكان تابعاًلشخص بصير بتسلسـل مـتـابـعتـه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فان يكون محسناً ريـاضـة نفسه من قلة الأكل والشرب والقول والنوم وكثرة الصلوات والصوم والصـدقـة، وكان بمتابعة الشيخ البصير جاعلا محاسن الأخلاق له سيرة، كالصبر، والشكر، والتوكل، واليقين، والسخاوة ، والقنـاعـة، والأمانة وطمأنينة النفس وبذل المال والحلم، والتواضع ، والعلم، والصـدق، والحياء، والـوفـاء، والـوقـار، والسكـون، والتأني ، وامثـالهـا، فهـو إذا نور من أنـوار النبي صلى الله عليه وسلم ويصلح للاقتـداء(رسالہ ایھا الولد ص ٢٧) یعنی :شیخ کے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نائب ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ عالم ہو لیکن ہر عالم بھی مرشِدِ کامل نہیں ہو سکتا ۔ لہٰذا ہم یہاں اِجمالی طور پر مرشد کامل کی بعض علامات بیان کرتے ہیں تاکہ ہر شخص مرشِد و رَہبر بننے کا دعویٰ نہ کر سکے ۔ (١) … پیرکامل وہی ہے جس کے دل میں دنیا کی محبت اور عزّت و مرتبے کی چاہت نہ ہو (٢) … وہ ایسے مرشد ِ کامل سے بیعت ہو جو نورِ بصیرت سے مالا مال ہو (٣) … اس کا سلسلہ رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک متّصل ہو (٤) … نیک اَعمال بجا لانے والا ہو (٥) … ریاضت ِ نفس کا عادی ہو (٦) … کم کھانے (٧) … کم سونے (٨) …کم بولنے (٩) … کثرتِ نوافل (١٠) … زیادہ روزے رکھنے اور (١١) … خوب صدقہ وخیرات کرنے جیسے نیک اَعمال کرنے والا ہو (١٢) … نیز وہ پیرکامل اپنے شیخ کی کامل اِتباع کے سبب صبر (١٣) …نماز (١٤) …شکر (١٥) … تَوَّکُل (١٦) … یقین (١٧) …سخاوت (١٨) … قناعت (١٩) …طمانیت نفس (٢٠) …حِلْم (٢١) …تواضع (٢٢) …علم (٢٣) … صدق (٢٤) … وفا (٢٥) … حیا اور(٢٦) … وقارو سکون جیسے پسندیدہ اَوصاف کا پیکر ہو ۔ پس جو پیرکامل ان اَوصاف سے متصف ہو وہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے انوارِ مبارکہ میں سے ایک نور بن جاتا ہے اور اس قابل ہوجاتا ہے کہ اسکی اِقتدا کی جائے ۔ فتاوی فقیہ ملت میں ہے: ” جو شخص نماز با جماعت نہ پڑھتا ہو، پابند شرع نہ وہ ہرگز پیر نہیں بلکہ شیطان کامسخرہ ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی بہ القوی تحریر فرماتے ہیں جو با وصف بقاۓ عقل واستطاعت قصدا نماز وروزہ ترک کرے ہرگز ولی نہیں،ولی الشیطان ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد ششم صفہ ٩۴ )اورتفسیر صاوی جلد ۲ صفحہ ١٨٢ پر ہے كـل مـن كـان لـلشـرع عليه اعتراض فهو مغرور مخادع "اه.(١/ ٢٧) رہا وقفی قبرستان میں اس کی قبر کو پختہ کرنا، اس کو مزار بنانا اور اس پر چادر ڈالنا تو یہ سب بھی ناجائز ہے: فتاوی شامی میں ہے : " فی الاحکام عن جامع الفتاوی وقیل لایکرہ البناء اذاکان المیت من المشایخ والعلماء والسادات قلت لکن ھذا فی غیر المقابر المسبلة کما لا یخفی اھ" (٢/ ٢٣٧) فتاوی فقیہ ملت میں ہے: جوقبرستان عام مسلمانوں کے لئے وقف ہو اس میں پختہ قبر بنانا جائز نہیں کہ ہمیشہ کے لئے وہ جگہ کسی کی خاطر مخصوص کر لینا اس میں تصرف مالکانہ ہے اور وقف میں ایسا تصرف حرام ہے ۔ البتہ اگر کسی شخص نے وقف کرتے وقت یہ شرط لگا دی کہ میری یا فلاں کی قبر پختہ بنے گی تو اسے پختہ بنانے میں حرج نہیں کہ وقف میں اتباع شرط واقف لازم ہے ۔ جیسا کہ در مختار مع شامی جلد چہارم صفحہ۳۳۴ میں ہے " شـرط الـواقف كـنـص الشاع اي في وجوب العمل به اه " اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی عنہ ربه القوی شرح معانی الآ ثار اور غایة البیان شرح ہدایہ کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں: " لا يـجـوز لا حـدان يبتنى فيه بناء و لا ان يحتجر فيه موضعا و كذلك حكم جميع المواضع التي لا يقع لاحد فيهـا ملك و جميع الناس فيها سواء. " ( فتاوی رضوی جلد ششم صفحہ ٣۴٦ ) اور اس میں صفحہ۴۹۰ پر ہے اگر بعد وقف بنائی ہے تو یہ عمارت خود ہی ناجائز ہے کہ مقابر موقوفہ میں عمارت بنانے کی اجازت نہیں:"لانــــه يسـتـحـق الازالة لا الادامة " اسی طرح وہ زمین مقبرہ اس کی ملک نہ تھی بلکہ وہ قبرستان وقفی تھا جس میں اس نے عمارت بنالی جب بھی حکم عدم جواز ہے۔اہ۔ ملخصا(٢/ ١٨٤ باب فی المقابر) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...