Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1544 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.6K Views

اللہ تعالیٰ کے لئے سائیں اور میاں کا لفظ استعمال کرنا کیسا؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اللہ تعالیٰ کے لئے سائیں اور میاں کا لفظ استعمال کرنا کیسا؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اللہ تعالیٰ کے لئے سائیں اور میاں کا لفظ استعمال کرنا کیسا؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.. کیا فر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سائیں اور میاں کا لفظ استعمال کرنا کیسا؟ (سائل عبدالرحمان پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب امام اہلسنت مجدد دین و ملت سید اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ اللہ میاں کہنا جائزہے یانہیں؟؟ تو آپ نے فرمایا زبانِ اردو میں لفظِ میاں کے تین معنیٰ ہیں ان میں سےدو ایسے ہیں جن سے شان اُلُوہیت پاک و منزہ ہے اور ایک کا مِصداق ہو سکتاہے تو جب لفظ دوخبیث معنوں میں اورایک اچھے معنیٰ میں مشترک ٹھرا اور شرع میں وارد نہیں تو ذات باری تعالیٰ پر اس کا اطلاق ممنوع ہوگا اس کے ایک معنیٰ مولیٰ اللہ تعالیٰ بے شک مولیٰ ہے دوسرے معنیٰ شوہر تیسرے معنیٰ زنا کا دلال کہ زانی اور زانیہ میں متوسط ہو: (1)ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ-1-صفحہ-231-مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ) (2)فتاویٰ رضویہ جلد14-صفحہ-614) (3)رسالہ اللہ میاں کہناکیسا/مکتبۃ المدینۃ کراچی) (4)فتاویٰ نعیمیہ-فتویٰ نمبر66) حیات اعلیٰ حضرت میں ہے سید ایوب علی صاحب ہی کا بیان ہے کہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا اسم جلالت کے ساتھ عوام لفظِ میاں لگاتے ہیں اس سے اجتناب کرنا چاہئے میاں کے دومعنیٰ. 1خراب اور ایک اچھاہے: (5)حیات اعلیٰ حضرت-جلد1-صفحہ-349 ) (اہلسنت وجماعت کے عظیم فقیہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں جس لفظ کے چند معنی ہوں اور کچھ معنی خبیث ہوں اور وہ لفظ شرع میں وارد نہ ہو تو اس کا اطلاق اللہ عزوجل پر منع ہے: علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا مجرد ایھام المعنی المحال کاف للمنع= یعنی صرف محال معنی کا احتمال منع کے لئے کافی ہے اس کی مثال راعنا ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات صحابہ کرام جب اچھی طرح سن نہ پاتے یاسمجھ نہ پاتے توعرض کرتے راعنا/ یعنی ہماری رعايت فرمائیں _یہودکی لغت میں راعنا کے معنی ہمارے بے وقوف کے ہیں یہود بھی راعنا راعنا کہنے لگے اوروہ اس معنی خبیث کی نیت سے کہتے اللہ عزوجل نے راعنا کہنے سے صحابہ کرام کومنع فرمادیا حکم ہوا انظرنا کہو اسی طرح یہاں بھی خطرہ ہے آپ اللہ عزوجل کومیاں کہیں آپ کی نیت مالک کی ہوگی لیکن کوئی دھریہ بے دین دوسرے خبیث معنی کی نیت سے کہے توکون روکے گا وہ کہہ دے گا کہ آپ بھی توکہتے ہیں اس لیے ایسے الفاظ کے استعمال کی اجازت نہیں” (6)فتاوی شارح بخاری جلد اول صفحہ 233 مکتبہ دائرۃ البرکات) (مفتئ اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے تفہیم المسائل میں اللہ میاں اوراللہ سائیں کے حوالہ سے فتویٰ تحریر فر ما یاہے جو درج ذیل ہے👇 قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ دْاعُوا الرَّحْمٰنَ=اَيَّامَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمآءُ الْحُسْنٰی= ترجمہ اے رسول ! ) آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو، جس نام سے بھی پکارو، اس کے سب ہی نام اچھے ہیں: (سورۂ بنی اسرائیل-آیت-110-پارہ-15 اللہ تعالی کی ذات کو تعبیر کرنے کے لئے اسم ذات اللہ ہےاس سے قریب تر صفاتی نام الرحمن ہے باقی اس کے بہت سے صفاتی نام ہیں جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں-مثلا الستار-الغفار- الرؤف-الرحیم- وغیرہ- اللہ تعالی کی ذات کو تعبیر کرنے کے لئے جو بھی اسماء صفات اور کلمات استعمال کئے جائیں، ان کے لیئے ضروری ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ کے شایانِ شان ہوں-میاں-اورسائیں- ایسے کلمات اللہ تعالٰی کی ذات کے شایان شان نہیں ہیں، کیونکہ اگرچہ استعمال کرنے والا انہیں اچھے معنوں میں استعمال کر رہا ہو، لیکن ان میں کم تر معنی کا وہم پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالٰی کے اسمِ جلالت کے ساتھ ان کلمات کا استعمال درست نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ- اللہ جل شانہ اور اللہ سبحانہ-و تعالی یا باری تعالٰی جیسے کلمات استعمال کرنے چاہئیں۔ ذیل میں ہم کتبِ لغت کے حوالے سے میاں-اورسائیں کے معنی درج کررہے ہیں، ملاحظہ فرمائیے= میاں اردو زبان میں شوہر- خواجہ سرا- ایک کلمہ جس سے برابر والے یا اپنے سے کم درجہ شخص کو خطاب کرتے ہیں-بیٹا وغیرہ معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ( قائداللغات/فیروزاللغات سائیں-خاوند- فقیر، بھکاری وغیرہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ (قائداللغات) ان معانی سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ اللہ جل شانہٗ کے شایانِ شان نہیں ہیں، ان میں سے بعض معانی ایسے ہیں جو ذاتِ باری تعالی کے لئے نقص اور اہانت کا پہلو رکھتے ہیں-مفتی صاحب فر ما تے ہیں-لہٰذا ہماری رائے میں اللہ میاں- اور اللہ سائیں- بولنے سے بالکل گریز کرنا چاہیے اور اپنے گھروں- دفاتر- مجالس اور بچوں کے ساتھ گفتگو کرتے وقت اللہ جل شانہ کا ذکر کرتے وقت اسی احتیاط پر عمل کرنا چاہیے اللہ تعالی کی شان جلالت تو بہت بلند تر ہے وہ ہر نقص عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے👇 سبحان ربك رب العزة عما يصفون= (الصافات) ترجمہ آپ کا رب جو بڑی عزت والا ہے ہر اس عیب سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں: ( الصافات/پارہ/23/رکوع/8 ) ذاتِ پاک رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بھی اللہ جل شانہ نے ایسا ذومعنی کلمہ استعمال کرنے سے منع فرمایا- جس کے معنی شانِ رسالت کے مطابق نہ ہوں، خواہ استعمال کرنے والے کی نیت بھی درست ہولیکن اس سےکوئ بدنیت بدمذہب اوربدطینت شخص دورکا ایسا معنی مراد لے سکتاہے جس سے اہانت اور بے ادبی کا پہلو نکلتاہو= اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے..یٰآیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْلَاتَقُوْلُوْا رَاعِنَاوَقُوْلُوانْظُرنَاوَاسْمَعُوْوَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابُٗ اَلِیْم ۔ ( سورۂ بقرہ / آیت/104 ترجمہ اےایمان والواگردوران کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کواپنی جانب متوجہ کرناچاہوتو رَاعِنَا یَارسول اللہ..نہ کہو بلکہ اُنْظُرْنَا..یارسول اللہ کہو/اور ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی بات کوخوب توجہ سے سنو/تاکہ انہیں دوبارہ بتانے میں زحمت نہ دینی پڑے: (7)تفہیم المسائل جلد-اولصفحہ29تا30 ضیاء القرآن پبلی کیشنز خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے میاں اور سائیں وغیرہ کے کلمات استعمال کرنا ممنوع ہے اس سے گریزہی کرنا چاہیے: واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2>اللہ تعالیٰ کے لئے سائیں اور میاں کا لفظ استعمال کرنا کیسا؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.. کیا فر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سائیں اور میاں کا لفظ استعمال کرنا کیسا؟ (سائل عبدالرحمان پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> امام اہلسنت مجدد دین و ملت سید اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ اللہ میاں کہنا جائزہے یانہیں؟؟ تو آپ نے فرمایا زبانِ اردو میں لفظِ میاں کے تین معنیٰ ہیں ان میں سےدو ایسے ہیں جن سے شان اُلُوہیت پاک و منزہ ہے اور ایک کا مِصداق ہو سکتاہے تو جب لفظ دوخبیث معنوں میں اورایک اچھے معنیٰ میں مشترک ٹھرا اور شرع میں وارد نہیں تو ذات باری تعالیٰ پر اس کا اطلاق ممنوع ہوگا اس کے ایک معنیٰ مولیٰ اللہ تعالیٰ بے شک مولیٰ ہے دوسرے معنیٰ شوہر تیسرے معنیٰ زنا کا دلال کہ زانی اور زانیہ میں متوسط ہو: (1)ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ-1-صفحہ-231-مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ) (2)فتاویٰ رضویہ جلد14-صفحہ-614) (3)رسالہ اللہ میاں کہناکیسا/مکتبۃ المدینۃ کراچی) (4)فتاویٰ نعیمیہ-فتویٰ نمبر66) حیات اعلیٰ حضرت میں ہے سید ایوب علی صاحب ہی کا بیان ہے کہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا اسم جلالت کے ساتھ عوام لفظِ میاں لگاتے ہیں اس سے اجتناب کرنا چاہئے میاں کے دومعنیٰ. 1خراب اور ایک اچھاہے: (5)حیات اعلیٰ حضرت-جلد1-صفحہ-349 ) (اہلسنت وجماعت کے عظیم فقیہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں جس لفظ کے چند معنی ہوں اور کچھ معنی خبیث ہوں اور وہ لفظ شرع میں وارد نہ ہو تو اس کا اطلاق اللہ عزوجل پر منع ہے: علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا مجرد ایھام المعنی المحال کاف للمنع= یعنی صرف محال معنی کا احتمال منع کے لئے کافی ہے اس کی مثال راعنا ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات صحابہ کرام جب اچھی طرح سن نہ پاتے یاسمجھ نہ پاتے توعرض کرتے راعنا/ یعنی ہماری رعايت فرمائیں _یہودکی لغت میں راعنا کے معنی ہمارے بے وقوف کے ہیں یہود بھی راعنا راعنا کہنے لگے اوروہ اس معنی خبیث کی نیت سے کہتے اللہ عزوجل نے راعنا کہنے سے صحابہ کرام کومنع فرمادیا حکم ہوا انظرنا کہو اسی طرح یہاں بھی خطرہ ہے آپ اللہ عزوجل کومیاں کہیں آپ کی نیت مالک کی ہوگی لیکن کوئی دھریہ بے دین دوسرے خبیث معنی کی نیت سے کہے توکون روکے گا وہ کہہ دے گا کہ آپ بھی توکہتے ہیں اس لیے ایسے الفاظ کے استعمال کی اجازت نہیں" (6)فتاوی شارح بخاری جلد اول صفحہ 233 مکتبہ دائرۃ البرکات) (مفتئ اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے تفہیم المسائل میں اللہ میاں اوراللہ سائیں کے حوالہ سے فتویٰ تحریر فر ما یاہے جو درج ذیل ہے👇 <span style="color: #ff0000;"><strong>قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ دْاعُوا الرَّحْمٰنَ=اَيَّامَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمآءُ الْحُسْنٰی=</strong></span> ترجمہ اے رسول ! ) آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو، جس نام سے بھی پکارو، اس کے سب ہی نام اچھے ہیں: (سورۂ بنی اسرائیل-آیت-110-پارہ-15 اللہ تعالی کی ذات کو تعبیر کرنے کے لئے اسم ذات اللہ ہےاس سے قریب تر صفاتی نام الرحمن ہے باقی اس کے بہت سے صفاتی نام ہیں جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں-مثلا الستار-الغفار- الرؤف-الرحیم- وغیرہ- اللہ تعالی کی ذات کو تعبیر کرنے کے لئے جو بھی اسماء صفات اور کلمات استعمال کئے جائیں، ان کے لیئے ضروری ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ کے شایانِ شان ہوں-میاں-اورسائیں- ایسے کلمات اللہ تعالٰی کی ذات کے شایان شان نہیں ہیں، کیونکہ اگرچہ استعمال کرنے والا انہیں اچھے معنوں میں استعمال کر رہا ہو، لیکن ان میں کم تر معنی کا وہم پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالٰی کے اسمِ جلالت کے ساتھ ان کلمات کا استعمال درست نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ- اللہ جل شانہ اور اللہ سبحانہ-و تعالی یا باری تعالٰی جیسے کلمات استعمال کرنے چاہئیں۔ ذیل میں ہم کتبِ لغت کے حوالے سے میاں-اورسائیں کے معنی درج کررہے ہیں، ملاحظہ فرمائیے= میاں اردو زبان میں شوہر- خواجہ سرا- ایک کلمہ جس سے برابر والے یا اپنے سے کم درجہ شخص کو خطاب کرتے ہیں-بیٹا وغیرہ معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ( قائداللغات/فیروزاللغات سائیں-خاوند- فقیر، بھکاری وغیرہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ (قائداللغات) ان معانی سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ اللہ جل شانہٗ کے شایانِ شان نہیں ہیں، ان میں سے بعض معانی ایسے ہیں جو ذاتِ باری تعالی کے لئے نقص اور اہانت کا پہلو رکھتے ہیں-مفتی صاحب فر ما تے ہیں-لہٰذا ہماری رائے میں اللہ میاں- اور اللہ سائیں- بولنے سے بالکل گریز کرنا چاہیے اور اپنے گھروں- دفاتر- مجالس اور بچوں کے ساتھ گفتگو کرتے وقت اللہ جل شانہ کا ذکر کرتے وقت اسی احتیاط پر عمل کرنا چاہیے اللہ تعالی کی شان جلالت تو بہت بلند تر ہے وہ ہر نقص عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے👇 سبحان ربك رب العزة عما يصفون= (الصافات) ترجمہ آپ کا رب جو بڑی عزت والا ہے ہر اس عیب سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں: ( الصافات/پارہ/23/رکوع/8 ) ذاتِ پاک رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بھی اللہ جل شانہ نے ایسا ذومعنی کلمہ استعمال کرنے سے منع فرمایا- جس کے معنی شانِ رسالت کے مطابق نہ ہوں، خواہ استعمال کرنے والے کی نیت بھی درست ہولیکن اس سےکوئ بدنیت بدمذہب اوربدطینت شخص دورکا ایسا معنی مراد لے سکتاہے جس سے اہانت اور بے ادبی کا پہلو نکلتاہو= اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے..یٰآیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْلَاتَقُوْلُوْا رَاعِنَاوَقُوْلُوانْظُرنَاوَاسْمَعُوْوَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابُٗ اَلِیْم ۔ ( سورۂ بقرہ / آیت/104 ترجمہ اےایمان والواگردوران کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کواپنی جانب متوجہ کرناچاہوتو رَاعِنَا یَارسول اللہ..نہ کہو بلکہ اُنْظُرْنَا..یارسول اللہ کہو/اور ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی بات کوخوب توجہ سے سنو/تاکہ انہیں دوبارہ بتانے میں زحمت نہ دینی پڑے: (7)تفہیم المسائل جلد-اولصفحہ29تا30 ضیاء القرآن پبلی کیشنز خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے میاں اور سائیں وغیرہ کے کلمات استعمال کرنا ممنوع ہے اس سے گریزہی کرنا چاہیے: واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...