Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1545 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.7K Views

طٰہٰ اور یٰسین نام رکھنا کیساہے؟ از مفتی محمد عمران عطاری مدنی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

طٰہٰ اور یٰسین نام رکھنا کیساہے؟ از مفتی محمد عمران عطاری مدنی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

طٰہٰ اور یٰسین نام رکھنا کیساہے؟ از مفتی محمد عمران عطاری مدنی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.. کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ طٰہٰ اور یٰسین نام رکھنا کیساہے؟ (سائلہ بنت اسد لاہور پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجواب بعون الملک الوھَاب طٰہٰ یہ حروف مُقطِّعات میں سے ہے مفسرین نے اس حرف کے مختلف معنیٰ بھی بیان کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ طٰہٰ تاجدارِ کائنات حضور نبی اکرم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے اَسماءِ مبارکہ میں سے ایک اسم ہے اور جس طرح اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کا نام محمد رکھاہے اسی طرح آپ کا نام طٰہٰ بھی رکھا ہے ۔ ( تفسیرصراط الجنان-جلد6-صفحہ173) یٰسین یہ بھی حروفِ مُقطّعات میں سے ایک حرف ہے اس کی مراد اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتاہے نیز اس کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سیدالمرسلین صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے اَسماءِ مبارکہ میں سے ایک اسم ہے.. امام اہلسنت مجدد دین ملت اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ نے یٰسین نام رکھنےکاجو شرعی حکم بیان فرمایا ہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ کسی کا یٰسین، اورطٰہٰ، نام رکھنا منع ہے، کیونکہ بقولِ بعض علماء ممکن ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالٰی کے ایسے نام ہوں جن کے معنیٰ معلوم نہیں، کیا عجب کہ ان کے وہ معنیٰ ہوں جو غیرِ خدا پر صادق نہ آسکیں اس لئے ان سے بچنالازم ہے، اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے بقول یہ نبی کریم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے ایسے نام ہیں جن کے معنیٰ سے واقف نہیں، ہوسکتاہے کہ ان کا کوئ ایسا معنیٰ ہو جوحضور اقدس صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے لئے خاص ہو اور آپ کے سوا کسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال کرنا درست نہ ہو ان ناموں کی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ رائے زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ان ناموں کا حضور اقدس صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے لئے مُقدّس نام کے طور پر ہونا زیادہ ظاہر اور مشہور ہے.. (فتاویٰ رضویہ-جلد24-صفحہ-680تا681) نوٹ : جن حضرات کا نام یٰسین ہے وہ خود کو غلام یٰسین لکھیں اور بتائیں اور دوسروں کو چاہئے کہ ان کو غلام یٰسین کہ کر بلائیں.. (از تفسیر صراط الجنان-جلد-8-صفحہ-220-مکتبۃ المدینہ کراچی) (اشھب بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک بن انس سے پوچھا : آیا کسی شخص کے لئے یٰسین نام رکھنا جائز ہے؟؟ امام مالک نے فرمایا میری رائے میں اس کو یہ نام نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یٰسین والقرآن الحکیم کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے یہ میرا نام ہے میں نے اپنے نام کے ساتھ اس سورت کا نام رکھا ہے۔(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :18025) (از تفسیر تبیان القرآن-پارہ-22-سورۂ یٰسین) (صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں، یٰسین اورطٰہٰ نام، نہ رکھے جائیں کہ یہ مُقطّعاتِ قرآنیہ سے ہیں جن کے معنیٰ معلوم نہیں ظاہر یہ ہے کہ یہ اسمائے نبی کریم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم سے ہیں اور بعض علماء نے اسمائے اِلٰہیہ سے کہا ہے بہرحال جب معنیٰ معلوم نہیں تو ہوسکتاہے کہ ان کے ایسے معنیٰ ہوں جو حضور صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم، یااللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں اور ان ناموں کے ساتھ محمد ملاکر، محمد طٰہٰ، یا محمد یٰسین، کہنا بھی ممانعت کو دفع نہ کرے گا (بہار شریعت-حصّہ-16-صفحہ-605-مکتبۃ المدینہ کراچی) حدیث شریف امام بیہقی نے ابن عباس رضی اللہُ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم نے فرمایا اولاد کا والد پر یہ حق ہے کہ ان کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے.. (شعب الایمان باب فی حقوق الاولاد/بحوالہ-بہار شریعت حصّہ 16-صفحہ-598-مکتبۃ المدینہ کراچی) خلاصہ کلام یہ ہے کہ طٰہٰ اور یٰسین نام نہ رکھے جائیں اور اگر یہ نام رکھنا ہو تو غلام طٰہٰ، اور غلام یٰسین نام رکھیں.. واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضامحمد عمران عطاری مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h3>طٰہٰ اور یٰسین نام رکھنا کیساہے؟ از مفتی محمد عمران عطاری مدنی</h3> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.. کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ طٰہٰ اور یٰسین نام رکھنا کیساہے؟ (سائلہ بنت اسد لاہور پاکستان) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھَاب</strong></span> طٰہٰ یہ حروف مُقطِّعات میں سے ہے مفسرین نے اس حرف کے مختلف معنیٰ بھی بیان کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ طٰہٰ تاجدارِ کائنات حضور نبی اکرم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے اَسماءِ مبارکہ میں سے ایک اسم ہے اور جس طرح اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کا نام محمد رکھاہے اسی طرح آپ کا نام طٰہٰ بھی رکھا ہے ۔ ( تفسیرصراط الجنان-جلد6-صفحہ173) یٰسین یہ بھی حروفِ مُقطّعات میں سے ایک حرف ہے اس کی مراد اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتاہے نیز اس کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سیدالمرسلین صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے اَسماءِ مبارکہ میں سے ایک اسم ہے.. امام اہلسنت مجدد دین ملت اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ نے یٰسین نام رکھنےکاجو شرعی حکم بیان فرمایا ہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ کسی کا یٰسین، اورطٰہٰ، نام رکھنا منع ہے، کیونکہ بقولِ بعض علماء ممکن ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالٰی کے ایسے نام ہوں جن کے معنیٰ معلوم نہیں، کیا عجب کہ ان کے وہ معنیٰ ہوں جو غیرِ خدا پر صادق نہ آسکیں اس لئے ان سے بچنالازم ہے، اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے بقول یہ نبی کریم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے ایسے نام ہیں جن کے معنیٰ سے واقف نہیں، ہوسکتاہے کہ ان کا کوئ ایسا معنیٰ ہو جوحضور اقدس صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے لئے خاص ہو اور آپ کے سوا کسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال کرنا درست نہ ہو ان ناموں کی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ رائے زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ان ناموں کا حضور اقدس صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے لئے مُقدّس نام کے طور پر ہونا زیادہ ظاہر اور مشہور ہے.. (فتاویٰ رضویہ-جلد24-صفحہ-680تا681) <span style="color: #ff0000;"><strong>نوٹ :</strong></span> جن حضرات کا نام یٰسین ہے وہ خود کو غلام یٰسین لکھیں اور بتائیں اور دوسروں کو چاہئے کہ ان کو غلام یٰسین کہ کر بلائیں.. (از تفسیر صراط الجنان-جلد-8-صفحہ-220-مکتبۃ المدینہ کراچی) (اشھب بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک بن انس سے پوچھا : آیا کسی شخص کے لئے یٰسین نام رکھنا جائز ہے؟؟ امام مالک نے فرمایا میری رائے میں اس کو یہ نام نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یٰسین والقرآن الحکیم کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے یہ میرا نام ہے میں نے اپنے نام کے ساتھ اس سورت کا نام رکھا ہے۔(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :18025) (از تفسیر تبیان القرآن-پارہ-22-سورۂ یٰسین) (صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں، یٰسین اورطٰہٰ نام، نہ رکھے جائیں کہ یہ مُقطّعاتِ قرآنیہ سے ہیں جن کے معنیٰ معلوم نہیں ظاہر یہ ہے کہ یہ اسمائے نبی کریم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم سے ہیں اور بعض علماء نے اسمائے اِلٰہیہ سے کہا ہے بہرحال جب معنیٰ معلوم نہیں تو ہوسکتاہے کہ ان کے ایسے معنیٰ ہوں جو حضور صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم، یااللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں اور ان ناموں کے ساتھ محمد ملاکر، محمد طٰہٰ، یا محمد یٰسین، کہنا بھی ممانعت کو دفع نہ کرے گا (بہار شریعت-حصّہ-16-صفحہ-605-مکتبۃ المدینہ کراچی) حدیث شریف امام بیہقی نے ابن عباس رضی اللہُ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم نے فرمایا اولاد کا والد پر یہ حق ہے کہ ان کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے.. (شعب الایمان باب فی حقوق الاولاد/بحوالہ-بہار شریعت حصّہ 16-صفحہ-598-مکتبۃ المدینہ کراچی) خلاصہ کلام یہ ہے کہ طٰہٰ اور یٰسین نام نہ رکھے جائیں اور اگر یہ نام رکھنا ہو تو غلام طٰہٰ، اور غلام یٰسین نام رکھیں.. واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضامحمد عمران عطاری مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...