01
The questionSawaal
اصل سوالحضور ﷺ کی ولادت کی صحیح تاریخ کیا ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
حضور ﷺ کی ولادت کی صحیح تاریخ کیا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے یہ لکھاہےکہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم کی ولادت 8ربیع الاول ہے اور ولادت مبارکہ کی صحیح کوئ نسی تاریخ ہے؟ : سائل قاری سلطان ضلع چنیوٹ : وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھّاب امام اہلسنت مجدد دین ملت الشاہ امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ ولادت مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم بارہ ربیع الاول کو ہی منایاجائے ۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں اس ولادت کی تاریخ کےبارےمیں اقوال بہت مختلف ہیں (2))((8)⬅️((10))⬅️((12))⬅️((17))⬅️((18))⬅️((22))..سات قول ہیں.. (مگر اشہرو اکثر و ماخوذ و معتبربارہویں ہے) (فتویٰ رضویہ جلد26صفحہ411) مکۂ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ کومکان مولد اقدس کی زیارت کرتے ہیں.. کمافی المواھب و المدارج(جیسا کہ مواھب الدنیہ اور مدارج النبوۃ میں ہے ۔ شیخِ محقق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ولادت نبی کریم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے بارے تحریر فرماتے ہیں بارہ/12ربیع الاول کاقول زیادہ مشہور وا کثرہے، اسی پراہل مکہ کاعمل ہے، ولادت شریف کے مقام کی زیارت اسی رات کرتے ہیں، اور میلاد شریف پڑھتےہیں۔ (مزید شیخ محقق فر ماتے ہیں، یہ ولادت مبارک بارہویں ربیع الاول کی رات روزِ دوشنبہ واقع ہوئی) (مدارج النبوت جلد2صفحہ 30-شبیر برادرز) فتاویٰ رضویہ جلد26صفحہ 427 پرہے شرعِ مطہّر میں مشہور بین الجمہور ہونےکے لئے وقت عظیم ہے(یعنی جوموقف اکثر علماء کا ہو وہ خود ایک بہت بڑی دلیل ہوتی ہے، اور مشہور عندالجمہور 12 ربیع الاول ہے.. اورعلم ھیئت وزیجات کےحساب سے روز ولادت شریف 8ربیع الاوّل ہے- (مزید امام اہل سنت فر ماتے ہیں، تعامل مسلمین حرمین شریفین و مصر و شام و بلاد اسلام وہند وستان میں بارہ ہی پر ہے اسی پرعمل کیاجائے ۔ جب کوئی محقق وقت کسی مسئلہ پرقلم اٹھا تاہے تووہ اس مسئلہ سے متعلق مختلف لوگوں کی آراء اور اقوال بھی نقل کرتاہے اس مقام پر امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ نے اسی طرح کا طرز عمل اختیار کرتے ہوئے مختلف لوگوں کے موقف کو بھی بیان فرمایا اورعلم زیج والوں کاقول بھی نقل کیا کہ وہ تمام کےتمام آٹھ ربیع الاول کو یوم ولادت قرار دیتے ہیں، محض آدھی بات کو لے کر پر وپیگنڈا کرنا اوراس بات کو چھوڑ دینا کہ امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جمہورکاموقف کس تاریخ کو قرار دیاہے اور کس تاریخ کو جشن ولادت منانےکی تاکید کی ہے انصاف کے خلاف غلط روش ہے خود امام اہلسنت علیہ رحمہ نے اپنے کلام میں یہ شعرکہاہے ۔ بارہویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نورکا. بارہ برجوں سے جھکا اک اک ستارہ نورکا.ولادت مبارک 12ربیع الاول ہے
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جمہورباہل سیر اور ارباب تواریخ کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی ولادت مبارک عام الفیل کے چالیس یا پچپن دن کے بعد ہوئ یہ قول سب سے زیادہ صحیح ہے) (مداج النبوّت جلد2صفحہ 30شبیر برادرز لاہور) (حضرت علامہ نورالدین عبدالرحمان جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے کہ ولادت رسول اکرم صلی تعالیٰ علیہ والہ و سلم بتاریخ 12ربیع الاول بروز پیر واقعۂ فیل سے پچیس دن کے بعد ہوئ) (شواھد النبوّت صفحہ52) (حضرت علامہ محمد نوربخش توکلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں جب حمل شریف کو چاند کےحساب سے پورے نو مہینے ہوگئے توبحضور اقدس صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ وسلم بارہ ربیع الاول کو دوشنبہ کےدن فجر کے وقت کہ ابھی بعض ستارے آسمان پر نظرآرہے تھے پیداہوئے) (سیرت رسول عربی صفحہ 57–مکتبۃ المدینہ کراچی) ولادت مبارک 12ربیع الاول ہے اس پر چند کتب کے حوالہ جات درج ذیل ہیں (سلامی زندگی صفحہ106)(فتاویٰ نعیمیہ صفحہ46) (فتاوی مہریہ ص110)(جنتی زیورص473)(سید الکونین,ص60) (انوار شریعت)(نشر الطیب,ص22) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.