Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1554
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8K Views
حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حالت حیض و نفاس میں اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنے کا کیا شرعی حکم ہے اور اس حالت میں جسم کے کس حصے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ سائل محمد شاہد ضلع لیہ شہر فتح پور الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب حالت حيض و نفاس میں اپنی بيوی کے ساتھ ہمبستری کرنا ناجائز و حرام ہے ۔ قال اللہ تعالٰی وَ یَسْـــلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ هُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ ترجمہ: اور تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تم فرماؤ: وہ ناپاکی ہے تو حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک پاک نہ ہوجائیں: سورۂ بقرہ پارہ- 2-آیت222- آیت قرآنی سے واضح ہے کہ حالت حیض و نفاس میں جمع کرنا جائز نہیں ہے ۔ لہٰذا ایسی حالت میں جماع کو جائز جاننا کفر ہے ۔ مرآۃ المناجیح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، حائضہ سے مساس جائز ہے، مگر یہ اس کے لئے ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو، اگر صحبت کر لینے کا اندیشہ ہو تو نہ کرے- جیسے روزہ دار کے لئے بیوی کا بوسہ کہ جوان کے لئے مکروہ ، بوڑھے کے لئے جائز ۔ مرآۃ المناجیح جلد-1-صفحہ338-حیض کا بیان ۔ ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عضو سے چھونا جائز نہیں ہے، جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شہوت سے ہو یا بے شہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حرج نہیں: 🏵البتہ: ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کانفع لینے میں حرج نہیں.. یوہیں بوس و کنار بھی جائزہے: (بہار شریعت حصہ2صفحہ382) (الدرالمختار و ردالمحتار کتاب الطھارہ باب الحیض جلد1صفحہ534) (فتاویٰ بریلی شریف صفحہ166) واللہ و ر سولہ اعلم با لصواب کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
Kutubahu & Verified by:
<h2>حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حالت حیض و نفاس میں اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنے کا کیا شرعی حکم ہے اور اس حالت میں جسم کے کس حصے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ سائل محمد شاہد ضلع لیہ شہر فتح پور <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> حالت حيض و نفاس میں اپنی بيوی کے ساتھ ہمبستری کرنا ناجائز و حرام ہے ۔ قال اللہ تعالٰی وَ یَسْـــلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ هُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ ترجمہ: اور تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تم فرماؤ: وہ ناپاکی ہے تو حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک پاک نہ ہوجائیں: سورۂ بقرہ پارہ- 2-آیت222- آیت قرآنی سے واضح ہے کہ حالت حیض و نفاس میں جمع کرنا جائز نہیں ہے ۔ لہٰذا ایسی حالت میں جماع کو جائز جاننا کفر ہے ۔ مرآۃ المناجیح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، حائضہ سے مساس جائز ہے، مگر یہ اس کے لئے ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو، اگر صحبت کر لینے کا اندیشہ ہو تو نہ کرے- جیسے روزہ دار کے لئے بیوی کا بوسہ کہ جوان کے لئے مکروہ ، بوڑھے کے لئے جائز ۔ مرآۃ المناجیح جلد-1-صفحہ338-حیض کا بیان ۔ ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عضو سے چھونا جائز نہیں ہے، جب کہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شہوت سے ہو یا بے شہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حرج نہیں: 🏵البتہ: ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کانفع لینے میں حرج نہیں.. یوہیں بوس و کنار بھی جائزہے: (بہار شریعت حصہ2صفحہ382) (الدرالمختار و ردالمحتار کتاب الطھارہ باب الحیض جلد1صفحہ534) (فتاویٰ بریلی شریف صفحہ166) واللہ و ر سولہ اعلم با لصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...