Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1555
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.2K Views
غیر نبی کے ساتھ علیہ السلام لکھنا پڑھناکیسا؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
غیر نبی کے ساتھ علیہ السلام لکھنا پڑھناکیسا؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
غیر نبی کے ساتھ علیہ السلام لکھنا پڑھناکیسا؟
کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر نبی کےساتھ علیہ السلام پڑھنےکاکیاشرعی حکم ہے؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْوَھَّاب اَنبیاء عَلَیْھِمُ السَّلام اور فِرِشتوں کے علاوہ کسی اور کے نام کے ساتھ عَلَیْہِ السَّلام اِسْتِقْلالاً یا اِبتداء ًلکھنا یابولنا شرعاً دُرُست نہیں ہے ۔ عُلماء نے اسے اَنبیاء کرام عَلَیْھِمُ السَّلام کے ساتھ خاص لکھا ہے ۔ چُنانچہ صَدْرُ الشَّریعہ بَدْرُ الطَّریقہ مُفْتی امجد علی اَعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’کسی کے نام کے ساتھ عَلَیْہِ السَّلام کہنا ، یہ انبیاء و ملائکہ عَلَیْھِمُ السَّلام کے ساتھ خاص ہے ۔ مثلاً موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام ، جبریل عَلَیْہِ السَّلام۔ نبی اور فِرِشتہ کے سوا کسی دوسرے کے نام کے ساتھ یوں نہ کہا جائے: (بہار شریعت ۳ / ص۴۶۵) اَلبتَّہ ان کی تَبْعِیَّت میں غیر نبی پر دُرُود وسلام بھیجا گیا ہو تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ چُنانچہ فقیہ مِلَّت حضرت علاَّمہ مولانا مُفْتی جلالُ الدِّین اَمجدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی لکھتے ہیں : ’’یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے جمہور علماء کا مَذہَب یہ کہ اِسْتِقْلالاً واِبتداء ً نہیں جائز اور اِتباعا جائز ہے یعنی امام حسین عَلَیْہِ السَّلام کہنا جائز نہیں ہے اور امام حسین عَلٰی نَبِینا وَعَلَیْہِ السَّلام جائز ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول ، ۱ / ۲۶۷) حضرت علامہ مُحدِّث بدرُ الدِّین عینی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں : وَقَالَ أبُوْ حَنِیْفَۃَ وَ اَصْحَابُہٗ وَمَالِکٌ وَالشَّافِعِیُّ وَالْاَکْثَرُوْنَ اِنَّہٗ لاَ یُصَلّٰی عَلٰی غَیْرِ اْلَانْبِیَاء عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلاَمُ اِسْتِقْلاَلاً، فَلاَ یُقَالُ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی اٰلِ اَبِیْ بَکر اَوْ عَلٰی اٰلِ عُمَرَ اَوْ غَیْرِھِمَا و لٰکِن یُّصَلّٰی عَلَیْہِمْ تَبْعاً : (عمدۃ القاری ، کتاب الزکاۃ ، باب صلاۃ الامام ودعائہ لصاحب الصدقۃ وقولہ، ۶ / ۵۵۶) مشہور شافعی بُزُرگ حضرت امام مُحی الدِّین نووی عَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی لکھتے ہیں : ’’لاَ یُصَلّ عَلٰی غَیْرِ الْأَنْبِیَائِ اِلَّا تَبْعاً لِاَنَّ الصَّلاَۃَ فِیْ لِسَانِ السَّلَفِ مَخْصُوْصَۃٌ بِالْاَنْبِیَاء صَلَواتُ اللّٰہ وَسَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ کَمَا اَنَّ قَوْلَنَا ’’عَزَّوَجَلَّ‘‘ مَخْصُوْصٌ بِاللّٰہ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی فَکَمَا لَایُقَالُ مُحَمَّدٌ عَزَّوَجَلَّ وَاِنْ کَان عَزِیْزاً جَلِیْلًا لَا یُقَالُ اَبُوْ بَکْرٍ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِنْ صَحَّ الْمَعْنٰی (اِلٰی اَنْ قَال) وَاتَّفَقُوْا عَلٰی اَنَّہٗ یَجُوْزُ اَنْ یُّجْعَلَ غَیْرَ اْلَانْبِیَائِ تَبْعَاً لَّھُمْ فِیْ ذٰلِکَ فَیُقَالُ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیّٰتِہ وَاَتْبَاعِہٖ لِاَنَّ السَّلَفَ لَمْ یَمْنَعُوْا مِنْہُ وَقَدْ اُمِرْنَا بِہٖ فِی التَّشَہُّدِ وَغَیْرِہ قَالَ الشَّیْخُ اَبُوْمُحَمَّدِ الجُوَیْنِیْ مِنْ اَئِمَّۃِ اَصْحَابِنَا اَلسَّلَامُ فِیْ مَعْنَی الصَّلَاۃِ وَلَایُفْرَدُ بِہٖ غَیْرُ الْاَنْبِیَائِ لِاَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَرَنَ بَیْنَہُمَا وَلَا یُفْرَدُ بِہٖ غَائِبٌ وَلَا یُقَالُ قَالَ فُلَانٌ عَلَیْہِ السَّلاَمُ‘‘ (شرح مسلم للنووی، باب الدعاء لمن اتی بصدقتہ، ۴ / ۱۸۵، الجزء السابع) ان دونوں عبارتوں کا خُلاصہ یہ ہے کہ اِمام ابُو حَنیفہ، اُن کے اَصحاب، امام مالک، امام شافعی اور اکثر عُلماء کا قول یہ ہے کہ غَیرِ نبی پر اِسْتِقْلالاً صلاۃ نہیں پڑھی جائے گی، اَلبتَّہ تَبْعاً پڑھی جاسکتی ہے ۔ یعنی یوں نہیں کہا جائے گا : اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍاَلبتَّہ یوں کہا جاسکتا ہے : اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلی اَبِیْ بَکْرٍ ۔ اس کے جَواز اور عَدمِ جَواز کی دلیل سلف صالحین کا عمل ہے ، اور جَواز باِلتَّبع کی دلیل تَشَہُّد وغیرہ دیگر مَقامات بھی ہیں جہاں باِلتَّبع پڑھنے کا حکم ہے ۔ اِمامُ الْحَرَمَیْن حضرت امام جُوَیْنی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ سلام بھی اس حکم میں صَلاۃ کے مَعْنی میں ہے ۔ سَیِّدِی اَعلیٰ حضرت مُجدِّدِدین ومِلَّت شاہ اِمام احمد رضاخان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن ارشاد فرماتے ہیں : صَلوۃ وسَلام باِلاِسْتِقْلَال اَنبیاء و مَلائکہ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السّلام کے سوا کسی کے لئے روانہیں ، ہاں بہ تَبْعیَّت جائز جیسے اَللّٰھُمَّ صَلّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلیٰنَامُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا وَمَوْلیٰنا مُحَمَّدٍاور صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُم کے لئے رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہا جائے ، اَولیائے وعُلماء کو رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ یا قُدِّسَتْ اَسْرَارُھُمْ اور اگر رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْھُمْ کہے جب بھی کوئی مضائقہ نہیں : (فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۳۹۰ ) وَاللّٰہ اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہٗ عَزَّوَجَلَّ وَ صَلّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ واٰلہ وَاَصْحابِہ وَبارَک وسلّم
Kutubahu & Verified by:
<h2>غیر نبی کے ساتھ علیہ السلام لکھنا پڑھناکیسا؟</h2> کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر نبی کےساتھ علیہ السلام پڑھنےکاکیاشرعی حکم ہے؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْوَھَّاب</strong></span> اَنبیاء عَلَیْھِمُ السَّلام اور فِرِشتوں کے علاوہ کسی اور کے نام کے ساتھ عَلَیْہِ السَّلام اِسْتِقْلالاً یا اِبتداء ًلکھنا یابولنا شرعاً دُرُست نہیں ہے ۔ عُلماء نے اسے اَنبیاء کرام عَلَیْھِمُ السَّلام کے ساتھ خاص لکھا ہے ۔ چُنانچہ صَدْرُ الشَّریعہ بَدْرُ الطَّریقہ مُفْتی امجد علی اَعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’کسی کے نام کے ساتھ عَلَیْہِ السَّلام کہنا ، یہ انبیاء و ملائکہ عَلَیْھِمُ السَّلام کے ساتھ خاص ہے ۔ مثلاً موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام ، جبریل عَلَیْہِ السَّلام۔ نبی اور فِرِشتہ کے سوا کسی دوسرے کے نام کے ساتھ یوں نہ کہا جائے: (بہار شریعت ۳ / ص۴۶۵) اَلبتَّہ ان کی تَبْعِیَّت میں غیر نبی پر دُرُود وسلام بھیجا گیا ہو تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ چُنانچہ فقیہ مِلَّت حضرت علاَّمہ مولانا مُفْتی جلالُ الدِّین اَمجدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی لکھتے ہیں : ’’یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے جمہور علماء کا مَذہَب یہ کہ اِسْتِقْلالاً واِبتداء ً نہیں جائز اور اِتباعا جائز ہے یعنی امام حسین عَلَیْہِ السَّلام کہنا جائز نہیں ہے اور امام حسین عَلٰی نَبِینا وَعَلَیْہِ السَّلام جائز ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول ، ۱ / ۲۶۷) حضرت علامہ مُحدِّث بدرُ الدِّین عینی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں : وَقَالَ أبُوْ حَنِیْفَۃَ وَ اَصْحَابُہٗ وَمَالِکٌ وَالشَّافِعِیُّ وَالْاَکْثَرُوْنَ اِنَّہٗ لاَ یُصَلّٰی عَلٰی غَیْرِ اْلَانْبِیَاء عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلاَمُ اِسْتِقْلاَلاً، فَلاَ یُقَالُ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی اٰلِ اَبِیْ بَکر اَوْ عَلٰی اٰلِ عُمَرَ اَوْ غَیْرِھِمَا و لٰکِن یُّصَلّٰی عَلَیْہِمْ تَبْعاً : (عمدۃ القاری ، کتاب الزکاۃ ، باب صلاۃ الامام ودعائہ لصاحب الصدقۃ وقولہ، ۶ / ۵۵۶) مشہور شافعی بُزُرگ حضرت امام مُحی الدِّین نووی عَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی لکھتے ہیں : ’’لاَ یُصَلّ عَلٰی غَیْرِ الْأَنْبِیَائِ اِلَّا تَبْعاً لِاَنَّ الصَّلاَۃَ فِیْ لِسَانِ السَّلَفِ مَخْصُوْصَۃٌ بِالْاَنْبِیَاء صَلَواتُ اللّٰہ وَسَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ کَمَا اَنَّ قَوْلَنَا ’’عَزَّوَجَلَّ‘‘ مَخْصُوْصٌ بِاللّٰہ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی فَکَمَا لَایُقَالُ مُحَمَّدٌ عَزَّوَجَلَّ وَاِنْ کَان عَزِیْزاً جَلِیْلًا لَا یُقَالُ اَبُوْ بَکْرٍ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِنْ صَحَّ الْمَعْنٰی (اِلٰی اَنْ قَال) وَاتَّفَقُوْا عَلٰی اَنَّہٗ یَجُوْزُ اَنْ یُّجْعَلَ غَیْرَ اْلَانْبِیَائِ تَبْعَاً لَّھُمْ فِیْ ذٰلِکَ فَیُقَالُ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیّٰتِہ وَاَتْبَاعِہٖ لِاَنَّ السَّلَفَ لَمْ یَمْنَعُوْا مِنْہُ وَقَدْ اُمِرْنَا بِہٖ فِی التَّشَہُّدِ وَغَیْرِہ قَالَ الشَّیْخُ اَبُوْمُحَمَّدِ الجُوَیْنِیْ مِنْ اَئِمَّۃِ اَصْحَابِنَا اَلسَّلَامُ فِیْ مَعْنَی الصَّلَاۃِ وَلَایُفْرَدُ بِہٖ غَیْرُ الْاَنْبِیَائِ لِاَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَرَنَ بَیْنَہُمَا وَلَا یُفْرَدُ بِہٖ غَائِبٌ وَلَا یُقَالُ قَالَ فُلَانٌ عَلَیْہِ السَّلاَمُ‘‘ (شرح مسلم للنووی، باب الدعاء لمن اتی بصدقتہ، ۴ / ۱۸۵، الجزء السابع) ان دونوں عبارتوں کا خُلاصہ یہ ہے کہ اِمام ابُو حَنیفہ، اُن کے اَصحاب، امام مالک، امام شافعی اور اکثر عُلماء کا قول یہ ہے کہ غَیرِ نبی پر اِسْتِقْلالاً صلاۃ نہیں پڑھی جائے گی، اَلبتَّہ تَبْعاً پڑھی جاسکتی ہے ۔ یعنی یوں نہیں کہا جائے گا : اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍاَلبتَّہ یوں کہا جاسکتا ہے : اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلی اَبِیْ بَکْرٍ ۔ اس کے جَواز اور عَدمِ جَواز کی دلیل سلف صالحین کا عمل ہے ، اور جَواز باِلتَّبع کی دلیل تَشَہُّد وغیرہ دیگر مَقامات بھی ہیں جہاں باِلتَّبع پڑھنے کا حکم ہے ۔ اِمامُ الْحَرَمَیْن حضرت امام جُوَیْنی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ سلام بھی اس حکم میں صَلاۃ کے مَعْنی میں ہے ۔ سَیِّدِی اَعلیٰ حضرت مُجدِّدِدین ومِلَّت شاہ اِمام احمد رضاخان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن ارشاد فرماتے ہیں : صَلوۃ وسَلام باِلاِسْتِقْلَال اَنبیاء و مَلائکہ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السّلام کے سوا کسی کے لئے روانہیں ، ہاں بہ تَبْعیَّت جائز جیسے اَللّٰھُمَّ صَلّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلیٰنَامُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا وَمَوْلیٰنا مُحَمَّدٍاور صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُم کے لئے رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہا جائے ، اَولیائے وعُلماء کو رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ یا قُدِّسَتْ اَسْرَارُھُمْ اور اگر رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْھُمْ کہے جب بھی کوئی مضائقہ نہیں : (فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۳۹۰ ) وَاللّٰہ اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہٗ عَزَّوَجَلَّ وَ صَلّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ واٰلہ وَاَصْحابِہ وَبارَک وسلّم
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...