01
The questionSawaal
اصل سوالغسل فرض ہو اور فجر کا وقت کم ہو تو تیمم کرکے نماز پڑھنا جائز ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
غسل فرض ہو اور فجر کا وقت کم ہو تو تیمم کرکے نماز پڑھنا جائز ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے کہ نماز فجر کا وقت کم ہو اور بندے پر غسل فرض ہو اگر غسل کرے گا تو نماز قضا ہوجائے گی توکیا وہ تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے، اور کیا فتاویٰ رضویہ میں اعلیٰ حضرت نے یہ مسئلہ لکھاہے؟ سائل محمد ثاقب میانوالی پاکستان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب مذکورہ صورت میں جس شخص پر غسل فرض ہو اور وہ نماز فجر کے لئے اس وقت میں اٹھتا ہے کہ اگر غسل کر کے نماز پڑھے گا تو نماز قضا ہو جائے گی تو اس کو چاہئے کہ تیمم کر کے نماز پڑھ لے پھر بعد میں غسل کر کے غیر مکروہ وقت میں اس نماز کا اعادہ کرے/دوبارہ پڑھے” امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں ، کہ تیمم کرکے نماز وقت میں پڑھ لے بعد کو نہا کر اعادہ کرے بہ یفتی/اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے” فتاویٰ رضویہ جلد 3 صفحہ310 رضا فاؤنڈیشن لاہور ۔ سید اعلیٰ حضرت اس مسئلہ کی تفصیلات ذکر کرنے کے بعد مزید تحریر فرماتے ہیں ،، ھذا ماعندی فاستنار بحمداللّٰہ تعالٰی ماجنح الیہ المحقق واتباعہ من قوۃ دلیل زفر بل دلیل ائمتنا جمیعا فی الروایۃ الاخری وکیفما کان لاینزل من ان یؤخذ بہ تحفظا علی فریضۃ الوقت ثم یؤمر بالاعادۃ عملا بالروایۃ المشھورۃ فی المذھب لاجرم ان قال فی الغنیۃ بعد ایراد ماقدمنا عن شمس الائمۃ وحینئذ فالاحتیاط ان یصلی بالتیمم فی الوقت ثم یتوضؤ ویعید لئخرج عن العھدتین بیقین۔ وقد نقل کلامہ ھذا فی الدر واقرہ ھو والسادۃ الاربعۃ محشوہ ح ط ش وابو السعود وقال الشامی ھذا قول متوسط بین القولین وفیہ الخروج عن العھدۃ بیقین فلذا اقرہ الشارح فینبغی العمل بہ احتیاطا ولاسیما وکلام ابن الھمام یمیل الی ترجیح قول زفر بل قد علمت انہ روایۃ عن مشائخنا الثلٰثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم ونظیر ھذا مسألۃ الضیف الذی خاف ریبۃ فانھم قالوا یصلی ثم یعید ترجمہ: میرے علم وفکر کی رُو سے یہی ہے/ اس تفصیل سے بحمداللہ تعالیٰ وہ روشن ہوگیا جس کی طرف محقق علی الاطلاق اور ان کے متبعین کا رُجحان ہے کہ امام زفرکی دلیل بلکہ روایت دیگر کے لحاظ سے ہمارے سبھی ائمہ کی دلیل قوی ہے اور جیسا بھی ہو کم از کم اتنا ضرور ہے کہ فریضہ وقت کے تحفظ کیلئے اس قول کو لیا جائے پھر اعادہ کا حکم دیا جائے تاکہ مذہب کی روایتِ مشہورہ پر بھی عمل ہوجائے شمس الائمہ کے حوالہ سے جو ہم نے پہلے بیان کیا اسے ذکر کرنے کے بعد غنیہ میں لکھا ہے: ”اس کے پیشِ نظر احتیاط یہی ہے کہ وقت کے اندرتیمم سے نماز پڑھ لے، پھر وضو کرکے اعادہ کرے تاکہ دونوں ذمہ داریوں سے یقینی طور پر سبکدوش ہوجائے ان کا یہ کلام درمختار میں نقل کرکے برقرار رکھا اور دُرمختار کے چاروں محشی سید حلبی، سید طحطاوی، سید شامی اور سید ابو السعود نے بھی برقرار رکھا۔ اور علامہ شامی نے فرمایا: ”یہ دونوں قولوں کے مابین ایک درمیانی قول ہے، اور اس میں یقینی طور پر ذمہ داری سے سبکدوشی ہے۔اسی لئے شارح نے اسے برقرار رکھا۔تو احتیاطاً اسی پر عمل ہونا چاہئے خصوصاً جبکہ امام ابن الہام کا کلام امام زفر کے قول کی ترجیح کی جانب مائل نظر آتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوچکا کہ یہ تو ہمارے تینوں مشائخ سے ایک روایت ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم۔اس کی نظیر اس مہمان کا مسئلہ ہے جسے تہمت کا اندیشہ ہو۔اس کے بارے میں فقہاء نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھ لے پھر اعادہ کرے” فتاویٰ رضویہ جلد3 صفحہ461تا 462 رضا فاؤنڈیشن لاہور واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.