Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1560
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.7K Views
شئیر مارکیٹ میں انویسٹ کرناکیسا اور کسی نے انویسٹ کردیا تو پروفٹ کیا کرے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
شئیر مارکیٹ میں انویسٹ کرناکیسا اور کسی نے انویسٹ کردیا تو پروفٹ کیا کرے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
شئیر مارکیٹ میں انویسٹ کرناکیسا اور کسی نے انویسٹ کردیا تو پروفٹ کیا کرے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندوستان میں شیئر مارکیٹ میں انویسٹ کرنا جائز ہے جبکہ کمپنی کا کام حلال ہو یانہیں ؟ اور اگر کسی نے کمپنی میں پیسے ڈال دئیے اس کے علم میں یہ تھا کہ نہ ہی کمپنی کے پاس قرض تمسکات ہے اور نہ ہی ترجیحی حصص پھر بعد میں پتا چلا کہ ترجیحی حصص ہے تو اب جو پروفٹ ہوا اس کا کیا کریں خود استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔ المستفتی:احمد رضا اجمیر راجستھان بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب اس بارے میں اجمالی حکم یہ ہے کہ شیئر مارکیٹ میں حصہ لینااور اس میں روپیے جمع کرنا(انویسٹ کرنا) ناجائز وحرام ہے اور یہ حرمت و ممانعت کمپنی کے کاروبار کی وجہ سے نہیں بلکہ کمپنی کے شرائط وقیود اور شیئرز پر ملنے والے نفع کے سود ہونے یا سود کاری میں ملوث ہونے کے سبب ہے وجہ یہ کہ محدود بہ حصص کمپنی کی سرمایہ کاری کی بنیاد تین امور پر ہے (١)ترجیحی حصص (٢)قرض تمسکات (٤)مساواتی حصص. ترجیحی حصص اپنی حقیقت کے لحاظ سے سرمایۂ قرض ہیں جن پر ملنے والا نفع سود ہے ٹھیک یہی حکم قرض تمسکات کا بھی ہے اس لیے ان حصص کے ذریعے سرمایہ کاری حرام ہے اور مساواتی حصص جائز تو ہے مگر ان کے ساتھ ناجائز اور سودی کاروبار یعنی ترجیحی حصص کو اس طرح لازم کردیا گیا ہے کہ ترجیحی حصص کا سود ادا کیے بغیر مساواتی حصص کا نفع تقسیم ہی نہیں ہوتا اور سب کو شیئر کی سودکاری میں لازماً ملوث ہونا پڑتا ہے اس لیے شیئر بازار میں حصہ لینا ناجائز وگناہ ہے لہذا شیئر بازار سے مسلمان بچیں اور جو شریک ہوں اپنے حصص بیچ کر علاحدگی اختیار کریں یہ ہندوستان میں شیئر بازار کا قانون ہے اور جس جگہ اس کے یہ قانون جاری ہوں وہاں بھی یہی حکم ہے تفصیل کے لیے “شیئر بازار کے مسائل” مصنفہ حضرت مفتی نظام الدین صاحب قبلہ رضوی مدظلہ العالی، و”مجلس شرعی کے فیصلے” دیکھئے. چونکہ ترجیحی حصص اپنی حقیقت کے لحاظ سے سرمایۂ قرض ہیں اور اس پر ملنے والا طے شدہ نفع سود اور مال خبیث ہے اس لیے جو پروفٹ ہوا ہے اگر وہ وہی طے شدہ نفع ہے تو اس کا استعمال ناجائز وحرام ہے اگر ممکن ومعلوم ہو تو اصل مالک یا اس کے ورثہ کو لوٹا دیں ورنہ صدقہ کردیں. “شیئر بازار کے مسائل”میں ہے”مقررہ میعاد پر قرض دہندہ کو سود دینا اور اسے سود لینا یونہی ترجیحی حصص کا مشروط نفع لینا دینا یہ حرام ہے تو یہ حرمت کمپنی کی تجارت میں نہیں بلکہ اس کے مجاور ایک دوسری چیز میں ہے اور وہ ہے شرط فاسد اور ناجائز نفع وسود کا لین دین. یونہی ترجیحی حصص میں طے شدہ نفع لینا دینا بھی حرام ہے اور یہ مال بھی مال خبیث”اھ ملخصاً(ص ١٦٠،١٥٩،مصنفہ حضرت مفتی نظام الدین صاحب قبلہ رضوی مدظلہ العالی) فتاویٰ رضویہ میں ہے” سود خوار پر شرعاً فرض ہے کہ جتنا سود جس جس سے لیا ہے اسے واپس دے وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کو دے وہ بھی نہ رہے ہوں یا پتہ مالک اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدق کردے اور تصدق میں فقیر کو مالک کردینا درکار ہے کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا عامۃ الاسفار”اھ(ج٩ص١٩٠، نصف اول، کتاب الحظر والاباحۃ) البتہ مساواتی حصص کا منافع حلال و پاک ہے اگرچہ ذریعہ حصول ناجائز وگناہ ہے ” شیئر بازار کے مسائل” میں ہے” فی نفسہ سرمایہ کاری کے جواز کا فائدہ صرف یہ ہے کہ اس سے شرکاء کو جو نفع حاصل ہوگا وہ ان کے لیے مال حلال وطیب ہوگا اگرچہ ایک امر عارض کی وجہ سے فعل شرکت ناجائز ہوگا جیسے اذان جمعہ کے وقت خرید و فروخت سے حاصل کیا ہوا مال حلال وطیب ہے مگر نفس فعل یعنی خریدنا، بیچنا ناجائز ہے “اھ(ص١٦٠،مصنفہ حضرت مفتی نظام الدین صاحب قبلہ رضوی مدظلہ العالی) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبــــــــــــــہ:محمدارشد حسین الفیضی ٦/شعبان المعظم ١٤٤٣ھ
Kutubahu & Verified by:
<h3>شئیر مارکیٹ میں انویسٹ کرناکیسا اور کسی نے انویسٹ کردیا تو پروفٹ کیا کرے ؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندوستان میں شیئر مارکیٹ میں انویسٹ کرنا جائز ہے جبکہ کمپنی کا کام حلال ہو یانہیں ؟ اور اگر کسی نے کمپنی میں پیسے ڈال دئیے اس کے علم میں یہ تھا کہ نہ ہی کمپنی کے پاس قرض تمسکات ہے اور نہ ہی ترجیحی حصص پھر بعد میں پتا چلا کہ ترجیحی حصص ہے تو اب جو پروفٹ ہوا اس کا کیا کریں خود استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔ المستفتی:احمد رضا اجمیر راجستھان بسم ﷲ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> اس بارے میں اجمالی حکم یہ ہے کہ شیئر مارکیٹ میں حصہ لینااور اس میں روپیے جمع کرنا(انویسٹ کرنا) ناجائز وحرام ہے اور یہ حرمت و ممانعت کمپنی کے کاروبار کی وجہ سے نہیں بلکہ کمپنی کے شرائط وقیود اور شیئرز پر ملنے والے نفع کے سود ہونے یا سود کاری میں ملوث ہونے کے سبب ہے وجہ یہ کہ محدود بہ حصص کمپنی کی سرمایہ کاری کی بنیاد تین امور پر ہے (١)ترجیحی حصص (٢)قرض تمسکات (٤)مساواتی حصص. ترجیحی حصص اپنی حقیقت کے لحاظ سے سرمایۂ قرض ہیں جن پر ملنے والا نفع سود ہے ٹھیک یہی حکم قرض تمسکات کا بھی ہے اس لیے ان حصص کے ذریعے سرمایہ کاری حرام ہے اور مساواتی حصص جائز تو ہے مگر ان کے ساتھ ناجائز اور سودی کاروبار یعنی ترجیحی حصص کو اس طرح لازم کردیا گیا ہے کہ ترجیحی حصص کا سود ادا کیے بغیر مساواتی حصص کا نفع تقسیم ہی نہیں ہوتا اور سب کو شیئر کی سودکاری میں لازماً ملوث ہونا پڑتا ہے اس لیے شیئر بازار میں حصہ لینا ناجائز وگناہ ہے لہذا شیئر بازار سے مسلمان بچیں اور جو شریک ہوں اپنے حصص بیچ کر علاحدگی اختیار کریں یہ ہندوستان میں شیئر بازار کا قانون ہے اور جس جگہ اس کے یہ قانون جاری ہوں وہاں بھی یہی حکم ہے تفصیل کے لیے "شیئر بازار کے مسائل" مصنفہ حضرت مفتی نظام الدین صاحب قبلہ رضوی مدظلہ العالی، و"مجلس شرعی کے فیصلے" دیکھئے. چونکہ ترجیحی حصص اپنی حقیقت کے لحاظ سے سرمایۂ قرض ہیں اور اس پر ملنے والا طے شدہ نفع سود اور مال خبیث ہے اس لیے جو پروفٹ ہوا ہے اگر وہ وہی طے شدہ نفع ہے تو اس کا استعمال ناجائز وحرام ہے اگر ممکن ومعلوم ہو تو اصل مالک یا اس کے ورثہ کو لوٹا دیں ورنہ صدقہ کردیں. "شیئر بازار کے مسائل"میں ہے"مقررہ میعاد پر قرض دہندہ کو سود دینا اور اسے سود لینا یونہی ترجیحی حصص کا مشروط نفع لینا دینا یہ حرام ہے تو یہ حرمت کمپنی کی تجارت میں نہیں بلکہ اس کے مجاور ایک دوسری چیز میں ہے اور وہ ہے شرط فاسد اور ناجائز نفع وسود کا لین دین. یونہی ترجیحی حصص میں طے شدہ نفع لینا دینا بھی حرام ہے اور یہ مال بھی مال خبیث"اھ ملخصاً(ص ١٦٠،١٥٩،مصنفہ حضرت مفتی نظام الدین صاحب قبلہ رضوی مدظلہ العالی) فتاویٰ رضویہ میں ہے" سود خوار پر شرعاً فرض ہے کہ جتنا سود جس جس سے لیا ہے اسے واپس دے وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کو دے وہ بھی نہ رہے ہوں یا پتہ مالک اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدق کردے اور تصدق میں فقیر کو مالک کردینا درکار ہے کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا عامۃ الاسفار"اھ(ج٩ص١٩٠، نصف اول، کتاب الحظر والاباحۃ) البتہ مساواتی حصص کا منافع حلال و پاک ہے اگرچہ ذریعہ حصول ناجائز وگناہ ہے " شیئر بازار کے مسائل" میں ہے" فی نفسہ سرمایہ کاری کے جواز کا فائدہ صرف یہ ہے کہ اس سے شرکاء کو جو نفع حاصل ہوگا وہ ان کے لیے مال حلال وطیب ہوگا اگرچہ ایک امر عارض کی وجہ سے فعل شرکت ناجائز ہوگا جیسے اذان جمعہ کے وقت خرید و فروخت سے حاصل کیا ہوا مال حلال وطیب ہے مگر نفس فعل یعنی خریدنا، بیچنا ناجائز ہے "اھ(ص١٦٠،مصنفہ حضرت مفتی نظام الدین صاحب قبلہ رضوی مدظلہ العالی) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــہ:محمدارشد حسین الفیضی </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٦/شعبان المعظم ١٤٤٣ھ</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...