01
The questionSawaal
اصل سوالدعاء قنوت یاد نہ ہو تو کیا پڑھے؟ از مفتی محمد صدام حسین فیضی
02
The responseAl-Jawab
دعاء قنوت یاد نہ ہو تو کیا پڑھے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کسی شخص کو دعائے قنوت یاد نہ ہو تو کیا پڑھے ؟ المستفتی شمس الہدیٰ پنیارا بازار مہراج گنج یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب جسے معروف دعائے قنوت یاد نہ ہو ، اسے چاہئے کہ اس دعا کو یاد کرے کہ خاص اس دعا کا پڑھنا سنت مبارکہ ہے اور جب تک دعائے قنوت یاد نہ ہوجائے ’’ اللھم ربنا اٰتنافی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار‘‘پڑھ لیا کرے اور اگر یہ بھی یاد نہ ہو ، تو’’ اللھم اغفرلی‘‘ تین بار کہہ لے اور یہ بھی یاد نہ ہو ، تو صرف ’’یا ربِّ ‘‘تین بار کہہ لے۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ’’ من لا یحسن القنوت یقول :ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاٰخرۃ حسنۃوقال ابواللیث یقول اللٰھم اغفرلی یکررھا ثلاثا وقیل یا رب ثلاثا ذکرہ فی الذخیرۃ ” اھ ( ردالمحتار علی الدرالمختار ،جلد2، صفحہ 443 ، مطبوعہ دارعالم الکتب الریاض ) یعنی جو شخص دعائے قنوت صحیح طریقے سے نہ پڑھ سکتا ہو ، تو وہ یہ کہے : ’’ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاٰخرۃ حسنۃ ‘‘اور فقیہ ابو اللیث فرماتے ہیں : وہ تین مرتبہ اللٰھم اغفرلی کہے اور بعض نے کہا ہے کہ تین مرتبہ ’’یا رب ‘‘کہہ لے ۔ ذخیرہ میں اسے ذکر کیا۔ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں : ’’ دعائے قنوت اگر یاد نہیں ، یاد کرنا چاہئے کہ خاص اس کا پڑھنا سنت ہے اور جب تک یاد نہ ہو اللھم ربنا اٰتنافی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار پڑھ لیا کرے ۔ یہ بھی یاد نہ ہو ، تو اللھم اغفرلی تین بار کہہ لیا کرے ۔ یہ بھی یادنہ آئے ، تو صرف یارب تین بار کہہ لے ، واجب ادا ہوجائے گا ۔‘‘ اھ (فتاوٰی رضویہ،جلد7،ص485،مطبوعہ رضافاؤنڈیشن ، لاهور ) صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں:” دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے ثابت ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے ، جب بھی حرج نہیں ۔ “ اھ ( بہارِ شریعت ، حصہ 4 ، جلد 1 ، صفحہ 654 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.